कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یہ دن اور یہ راتیں

تحریر: مولانا سید میر ذاکر علی محمدی ،پربھنی
9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

یہ لیل و نہار یہ شمس و قمر یہ آسمان پر نجوم کا اژدھام ، تاریکی اور روشنی یہ کہکشاں اور کبھی چمکتے ہوے ستاروں کا جھرمٹ۔ یہ طلوع اور یہ غروب انسان کو اس بات سے آگاہ کررہا ہے کہ دنیا میں کسی چیز کو مستقل بقاء اور دوام نہیں ہے۔ اور انسان کو اس بات سے بھی با خبر کر رہا ہے کہ یہ دن مستقل نہیں ، اس کے بعد رات یقینی ہے۔ یہ رات مستقل نہیں اس کے بعد دن یقینی ہے۔ طلوع کے بعد غروب اور غروب کے بعد طلوع دن کےبعد رات اور رات کے بعد دن یقینی ہے۔ اسی طرح انسان کی پیدائیش کے بعد موت یقینی ہے۔ تو موت کے بعد قیامت میں دوبارہ زندہ اٹھایا جانا یقینی ہے۔ انسان تیری کہانی کیا ہے؟ اور وجود کیسے ہوا یے ۔ یہ لیل و نہار اور کائنات کی ہر شئ یہ بتارہی ہے کہ ہر چیز کو ختم ہونا ہے۔ اس ( wide universe) بڑی وسیع کائنات میں انسان کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن خداے برتر نے اس دنیا میں انسان کو تخلیق کر کے عظمت اور عزت اسی کو بخشی ہے۔ یہی نہیں اس روے زمین پر حاکم اور خلیفہ بنایا۔ کہ وہ اپنے ( resposibelity ) ذمہ داریوں کے تئیں تیار رہیں ۔ جس طرح اللہ نے اس کائنات میں موجود سیاروں ، سورج ، چاند ، اور سمندروں کو انسانوں کے لئے ( appoint) مسخر کیا ہے۔ وہ اپنی ذمہ داریوں کے تئیں اور خداے برتر کی اطاعت کے ساتھ ہر پل اہنی ذمہ داری نبھارہے ہیں۔ سورج چاند اپنی اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنی سمت اور اپنے دائرہ ( orbit) میں محو گردش ہیں۔ کیا مجال کے سورج چاند کے محور میں چلا جاے۔ اور چاند سورج کے (orbit) محور پر، اور کیا مجال کے دن رات کے وقت سے پہلے اور رات دن کے وقت سے پہلے نمودار ہو۔ اللہ نے ہر چیز کو ایک ذمہ داری ایک ( time appropriate ) وقت متعین تک سونپی ہے۔ اور یہ خدا کا نظام برس ہا برس سے جاری و ساری ہے۔ لیکن انسان اپنی ( identification ) شناخت کو بھول گیا ہے۔ کہ اللہ نے اس کو ایک نا پاک خطرہ سے وجود میں لایا ہے۔ اور اسی انسان کو صرف ( fear of God) تقوی کی بنیاد ہر اعلی اور ارفع رکھا ہے ۔ باقی اور کوئ چیز انسان کو ممتاز اور ممیز نہیں کرسکتی۔ لیکن افسوس صد افسوس کا مقام ہے کہ انسان انسان نہ رہا ۔ انسان سے اللہ فرماتا ہے کہ زمین پر اکڑ کر مت چلو ، آپ کے اکڑ کر چلنے سے نہ زمین کو کچھ فرق پڑیگا اور نہ ہی پہاڑوں کو ۔ لیکن انسان اپنی روش ہر قائم ہے ۔ گویا کہ وہ شیطان کی روش پر چل رہا ہے۔ جو اس کو انسان بننے نہیں دیتا۔ اور نہ ہی سدھرنے دیتا۔ دنیا میں ہر چیز خدا ے بر تر کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔ دنیا میں ہر چیز اللہ کے ایماء ہر اپنی اپنی (resposibelity ) ذمہ داریوں کی طرف گامزن ہے۔ شدید گرمی میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں جب انسان سے ( touch) لمس کرتی ہے تو سکوں میسر ہوتا ہے۔ گویا کہ وہ احساس دلاتی ہے کہ رب نے مجھے یہ ذمہ داری دی کہ میں راحت کا کام کروں۔اورمیں برس ہا برس سے یہ کام کررہی ہوں۔ سورج انسانو ں اور ساری دنیا کو نفع رسانی کے لیۓ روز نمودار ہوتا۔ گویا کہ وہ اپنی زبان میں یہ کہرہا ہے کہ اللہ نے مجھے انسانیت اور دنیا کو فائدہ پہونچانے کی ڈیوٹی پر ) appoint ) اور میں ازل سے ابد تک نبھارہا ہوں۔ رات آتی اور کہتی ہے میں انسانوں اور ساری دنیا کو سکون مہیا کرنے آتی جو اللہ نے مجھے یہ ذمہ داری عطا کی ہے ۔ جس کو میں قیامت تک نبھاتی رہوں گی۔ انسان کو تو اللہ نے اشرف المخلوقات کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ یعنی اس کائنات میں جتنی بھی اللہ کی (creation) تخلیق کردہ مخلوق ہے۔ ان میں سب بہتر انسان اور اسکی تخلیق ہے۔ لیکن انسان نے اپنی تخلیق کے ( mission) مقصد کو اچھی طرح نہیں سمجھا اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرہا ہے۔ اللہ نے زندگی اورموت بناکر یہ انسانوں کو بتایا کہ تم میں اچھا اور صالح عمل کرکے کون جنت کا حقدار بنتا ہے ؟ انسان انس سے تکمیل پایا ہے۔ اور پھر انسان کہلایا ۔ پھر انسان کی تخلیق کو قرآن کریم نے یوں بیان کیا ہے۔ کہ ہم نے انسان کو ایک ( clot) ناپاک منی کے خطرے سے اپنی قدرت اور حکمت سے پیدا کیا ۔اس میں جنس ( gender ) کے اعتبار سے مذکر اور مونث دونوں کو وجود میں لایا ۔ اور یہ سلسلہ تا قیامت جاری رہیگا۔ لیکن ہم نے یہ کبھی غور و خوض نہیں کیا کہ ہم کون ہیں۔؟ اور ہم کس سمت رواں دواں ہیں ؟ اور نہ یہ جانا کہ بنی نوع کی تخلیق کا مقصد کیا ہے ؟ اللہ اگر یہ چاہتا کہ انسان کی آزمائیش نہ لی جاے ، تو یہ سلسلہ صرف آدم علیہ السلام اور فرشتوں کے حد تک ہی محدود رہتا۔ لیکن اللہ نے یہ دنیا امتحان گاہ بنایا ہے۔ اب کوئ اس دنیا میں اپنی مکاریوں کے ذریعہ سیاست اقتدار، طاقت عیش و عشرت ، عالی شان بنگلوں ، اور قیمتی گاڑیوں ، اور (luxurious life) آرام دہ زندگی کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔ اور کوئ اللہ کے بندے اللہ کے امتحان میں کامیاب ہونے کے لئے۔ کسپرسی میں اللہ اور اس کے رسول کے پیغام کو عام کر رہے ہیں۔ اور کوئ اپنے علم و عمل کی رعنائیاں بکھیر رہے ہیں تو کوئ علم و فضل سے تشنہ لبوں کو سیراب کر رہے ہیں۔ اور کوئ خانقا ہوں اور مدارس میں علم دین کو عام کر رہے ہیں۔ اور پھر بھی جان لو کہ ہر کام کے لئے اخلاص بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کام میں اخلاص نہ ہو وہ نہیں ہونے کے برابر ہے۔ اگر آپ علم اور دین کی باتیں ممبر یا اسٹیج پر دو دو کھنٹے تقریر کرلیں لیکن آپ میں اخلاص کی ذرہ برابر بھی آمیزش نہ تو وہ آپ کے منہ پر پھینک دی جاے گی بھلے سے آپ لوگوں کی نظروں میں علامہ مولانا جید عالم اور جید حافظ اور بانی مدرسہ اور بانی دارالعلوم ہی کیوں نہ ہو۔ بغیراخلاص کے کوئ بھی عمل قبول شرفیت نہیں رکھتا۔ آپ کے لچھے دار اور فصیح و بلیغ تقاریر یہیں دیواروں سے ٹکرا کر ختم ہوجاے گی۔ اسی لئے کہا گیا کہ ۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ۔ پر نہیں قوت ہرواز مگر رکھتی ہے۔ گو یا کہ اللہ اس دنیا میں اپنی بھیجی ہوئ شریعت پر انسانوں کے اخلاص اور خلوص نیت کا امتحان لے رہا ہے۔ جو اس امتحان میں کامیاب ہوجائیگا اسکی دنیا و آخرت سنور جائیگی ۔ اور جو اس کے برعکس کریگا وہ بھی انجام کو دیکھ لیگا۔ اسی لئے امام بخاری رحمت اللہ علیہ نے نیت اور خلوص نیت سے متعلق حدیث کو سرفہرست رکھا ہے۔ انما الاعمال بالنیات و کل امرا مانوی۔ بیشک اعمال کا دارو مدار نیتوں پر منحصر ہے۔ اور ہر شخص کو وہی ملیگا جو اس نے نیت کیا ہے ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے