कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کیا یورپ واقعی سونے کی چڑیا ہے؟

تحریر:محمد عادل ارریاوی

رزق کی تلاش کرنا ہر انسان کی فطری ضرورت ہے اور اسلام نے بھی حلال روزی کے حصول کے لیے جدوجہد محنت اور جفاکشی کو عبادت کا درجہ دیا ہے۔ لیکن جب رزق کی تلاش کے ساتھ یہ گمان وابستہ ہو جائے کہ خوش حالی صرف پردیس کی سرزمین پر ہی لکھی گئی ہے اور اپنے وطن میں کامیابی کا ہر دروازہ بند ہو چکا ہے تو یہی سوچ انسان کو حقیقت سے دور کر دیتی ہے۔ چمکتی ہوئی کرنسیاں بلند و بالا عمارتیں اور آسائشوں کی رنگین تصویریں بظاہر دل کو لبھاتی ہیں مگر ان کے پس پردہ چھپی ہوئی سخت محنت تنہائی مشقت قربانیاں اور بے شمار مجبوریوں کا اندازہ صرف وہی شخص کر سکتا ہے جس نے اس راہ کی کٹھن منزلیں خود طے کی ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کا راز صرف ملک بدلنے میں نہیں بلکہ دیانت مسلسل محنت اور کفایت شعاری میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنے اور سمجھانے کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
ہمارے ملک ہندوستان کے بے شمار حضرات کو یورپ کے ممالک میں کاروبار اور روزی کی تلاش میں جانے کی بہت جستجو رہتی ہے جس کی وجہ یہ بتلائی جاتی ہے کہ ان ممالک میں کاروباری مواقع اور آمدنی کے ذرائع زیادہ موجود ہیں اور ان ممالک کی کرنسی کی حیثیت اور ویلیو بھی زیادہ ہے اور وہاں کی مختصر رقم کے عوض اپنے ملک کی کرنسی کئی گنا زیادہ حاصل ہو جاتی ہے اور چند سال کی محنت سے انسان لکھ پتی اور کروڑ پتی ہو جاتا ہے اور اس کے برعکس اپنے ملک میں زندگی بھر خون پسینہ ایک کرنے کے باوجود بھی ہاتھ میں معمولی سی جمع پونجی ہی آتی ہے۔
اسی وجہ سے ہمارے ملک کے نوجوان طبقے میں یورپ وغیرہ کے ممالک میں کاروبار اور کام کاج کے لیے جانے کی طلب اور تڑپ زیادہ پائی جاتی ہے اور اسی وجہ سے یورپ جانے کے اخراجات کے لیے قرض وغیرہ لینے کو بھی گوارا کیا جاتا ہے۔
لیکن باہر کے ممالک کو سونے کی چڑیا سمجھ کر وہاں پہنچنے کے بعد سارا خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں۔
وہاں جا کر معلوم ہوتا ہے کہ اگر کمائی یہاں پر رہ کر کرنا ہے اور یہاں کی کرنسی حاصل کرنا ہے تو کھانے پینے وغیرہ کے اخراجات بھی اسی ملک کی کرنسی سے ہی پورے کرنے ہیں اور وہاں کے ماحول اور ملک سے دوری کی مجبوری انسان کو اس طرح کی محنت پر مجبور کر دیتی ہے کہ جس کا اپنے ملک میں رہ کر تصور بھی نہیں کیا جاسکتا پھر جان جوک میں ڈال کر ہر طرح کی مشقت برداشت کرنے پڑتے ہیں اگلے ان کو ناکوں چنے چبوا کر ہی ان کو تھوڑی یا زیادہ تنخواہ دینا گوارا کرتے ہیں آخر ڈالر ریال یورو امارات کے درہم اور کویت کے دینار کھانا کوئی مذاق تھوڑی ہے نہ وہ ملک مظلوم بھارت ہے کہ اس دھرتی کو گالیاں بھی دو ہر طرح کی ہڈ حرامی بھی کرو قومی خزانے اور قومی وسائل تک تھوڑی یا زیادہ جتنی رسائی سرکاری ملازمتوں کی شکل میں ملے تو کام چوری مفت خوری اور بدعنوانی کے ریکارڈ بھی قائم کرو اس طرح جائز و نا جائز ہر طرح کی مراعات و تعیشات اسی ملک سے حاصل کرو لیکن بدلے میں اس ملک اور قوم کو کوسنے کو ہی ملیں۔
اپنے ملک میں فارغ اور آوارہ پھرنے اور کاہلی یا تعیش پرستی میں مبتلا رہنے والے افراد عموماً وہاں جا کر بھر پور محنت و مشقت کے ساتھ سولہ سولہ اور اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے محنت مزدوری کر کے اور ہر قسم کی فضول خرچیوں سے بچ کر رقم اکٹھی کرنے کا انتظام کرتے ہیں اور ہر وہ کام کرنا گوارا کر لیتے ہیں کہ جس کو اپنے ملک میں رہتے ہوئے ہاتھ لگانا بھی گوارا نہیں کرتے ظاہر ہے کہ اگر اپنے ملک میں رہتے ہوئے ان عادات کو اپنا لیا جائے تو یہاں رہتے ہوئے بھی وہ سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے جس کا یورپ وغیرہ کے ممالک کے لیے سفر کیا گیا ہے دوسری طرف محنت اور جفاکشی کے نتیجے میں اپنے ملک کی معاشی ترقی میں بھی مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اکثر لوگ بیرونِ ملک جانے والوں کی کامیابی کا صرف ظاہری پہلو دیکھتے ہیں مگر اس کے پس پردہ چھپی ہوئی قربانیوں مشقتوں اور محرومیوں پر نظر نہیں ڈالتے۔ جب کوئی شخص چند سال بعد اچھی گاڑی خوبصورت مکان یا کچھ سرمایہ لے کر وطن واپس آتا ہے تو لوگ اس کی موجودہ حیثیت کو دیکھتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ اس سرمایہ کے حصول کے لیے اس نے کتنی راتیں جاگ کر گزاری ہیں کتنی عیدیں اور رمضان اپنے اہلِ خانہ سے دور گزارے ہیں کتنی بار بیماری میں بھی کام کرنے پر مجبور ہوا ہے اور کتنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر ہر ممکن بچت کی ہے۔
مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ انہی لوگوں میں سے بہت سے افراد اگر اپنے وطن میں اسی اخلاص پابندی وقت کی قدر کفایت شعاری اور مسلسل محنت کو اپنا لیں تو اللہ ربّ العزت کے فضل سے یہاں بھی معاشی استحکام حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم کامیابی کو صرف ملک بدلنے سے جوڑ دیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قسمت بدلنے کے لیے سب سے پہلے اپنی عادات اپنی سوچ اور اپنے طرزِ عمل کو بدلنا پڑتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسے لوگوں کو کامیاب نہیں بنا سکتا جو محنت سے جی چراتے ہوں اور دنیا کا کوئی بھی ملک ایسے محنتی اور دیانت دار انسان کو زیادہ دیر ناکام نہیں رکھ سکتا جو اپنے مقصد کے حصول کے لیے ثابت قدم ہو۔
اللہ ربّ العزت ہمیں حلال رزق عطا فرمائے ہر قسم کی آزمائش اور مصیبت سے محفوظ رکھے اور ہمیں اپنے وطن ہو یا پردیس ہر حال میں دین و ایمان پر ثابت قدم رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے