कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ماہِ رمضان اور حفاظِ کرام

از:رضوان الدین حسینی قاسمی
فاضل دارالعلوم وقف دیوبند

ہر سال ماہِ مبارک اپنی تمام برکات و تجلیات کے ساتھ ہم پر جلوہ فگن ہوتا ہے، اور امسال بھی الحمدللہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ مقدس مہینہ نصیب فرمایا۔ اس کے فضائل و برکات اور اس میں انجام دیے جانے والے اعمال سے تقریباً ہر مسلمان واقف ہے۔
لیکن آج میں صرف *حفاظِ کرام* کے بابت چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
ہم میں سے اکثر لوگ اپنی روزمرہ مصروفیات اور کاروباری مشاغل میں مشغول رہتے ہیں۔ رمضان آتا ہے تو معمولات میں کچھ نرمی آتی ہے۔ گھر والوں کے ساتھ افطار کرنا، سحری میں شریک ہونا، عبادات میں مل کر وقت گزارنایہ سب ایک خاص لطف اور سکون کا باعث بنتا ہے۔ میں نے اپنے بچپن میں یہ حسین مناظر دیکھے تھے، اور اب تقریباً سات سال بعد پھر وہی کیفیات محسوس کر رہا ہوں۔لیکن انہی خوشگوار لمحات سے ہمارے حفاظِ کرام اکثر محروم رہتے ہیں۔
ان کا بیشتر وقت تراویح کی تیاری میں گزرتا ہے۔ گلے کی حفاظت کے لیے کھانے پینے میں احتیاط، میٹھی اشیاء سے پرہیز، ٹھنڈے پانی سے اجتناب یہ سب اس خوف سے کہ کہیں آواز متاثر نہ ہو جائے۔ دن بھر قرآنِ مجید کی دہرائی، پھر رات میں اسے سنانا۔ کبھی اگر سہو ہو جائے تو بعض مصلیان کی چہ میگوئیاں الگ سننی پڑتی ہیں۔
اور اکثر حفاظ تو اپنے گھر دار اور گاؤں سے دور جا کر تراویح سناتے ہیں۔ ذرا سوچیے! ہم اپنے اہل و عیال کے ساتھ افطار و سحری کی خوشیاں بانٹ رہے ہوتے ہیں، گھروں میں بیٹھ کر روح پرور لمحے گزار رہے ہوتے ہیں، جبکہ وہ کسی اجنبی بستی میں، اپنوں سے دور، صرف اللہ کے کلام کی خدمت میں مشغول ہوتے ہیں۔ نہ بچوں کی ہنسی سن پاتے ہیں، نہ گھر کی محفل میں شریک ہو پاتے ہیں۔ ان کی تنہائی، ذمہ داری اور مسلسل ذہنی دباؤ کو ہم شاید پوری طرح محسوس بھی نہیں کر سکتے۔
مزید افسوس اس بات کا ہے کہ بعض نام نہاد حفاظ اور علماء بھی قصداً غلطی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ارے بھائی! انسان خطا کا پتلا ہے، سہو ہو جانا کوئی عیب نہیں۔ حافظ خود بھی لوٹا سکتا ہے، بار بار پیچھے سے لقمہ دے کر اسے شرمندہ کرنے کی کیا ضرورت؟
ہاں،اگر کوئی شخص محض نمائش یا لاپرواہی کا مظاہرہ کرے اوریعلمون تعلمون کرےتو اسے حکمت اور خیرخواہی سے سمجھایا جا سکتا ہے، لیکن کسی کی تذلیل ہرگز مناسب نہیں۔
اس سال کئی برسوں بعد مجھے خود کسی اور کے پیچھے تراویح پڑھنے کا موقع ملا، تو سوچنے اور محسوس کرنے کی فرصت بھی ملی اور یہی احساسات قلم بند کرنے کا سبب بنے۔
میں تمام مصلیانِ کرام اور بالخصوص دیگر حفاظ و علما سے مودبانہ گزارش کرتا ہوں کہ ایک حافظ کو مشین نہ سمجھیں۔ وہ بھی انسان ہے، اس سے بھی سہو ہو سکتا ہے۔ اس کی حوصلہ افزائی کیجیے، اس کے لیے دعا کیجیے، اس کا بوجھ ہلکا کیجیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں باہمی احترام، اخلاص اور حسنِ ظن کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے