कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اُمّت کو بحث نہیں، بصیرت درکار ہے

The Ummah Needs Insight, Not Endless Debate

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

اسلام نے انسان کو محض ایک مذہبی شناخت عطا نہیں کی، بلکہ اسے ایک ایسی اُمّت کا فرد بنایا ہے جس کی بنیاد ایمان، اخوت، عدل، خیر خواہی اور باہمی تعاون پر قائم ہے۔ قرآن مجید نے اہلِ ایمان کو یاد دلایا: "إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ۔ مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں” (الحجرات: 10)۔ یہ اخوت محض ایک جذباتی تصور نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمّہ داری ہے؛ ایسی ذمّہ داری جو اختلاف کے باوجود دلوں کو جوڑنے، باہمی حقوق کی حفاظت کرنے اور اُمّت کے وسیع تر مفاد کو پیشِ نظر رکھنے کا تقاضا کرتی ہے۔
قرآن مجید نے اُمّت کی اجتماعی قوت کا راز باہمی وابستگی اور وحدت میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا۔ سب مل کر اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو” (آل عمران: 103)۔ اس آیت میں اتحاد کا حکم محض اختلافات سے بچنے کی تلقین نہیں، بلکہ ایک ایسی اجتماعی بصیرت کی دعوت ہے جس کے تحت مسلمان اپنی جزوی وابستگیوں سے بلند ہوکر اپنے مشترک دینی و انسانی مقاصد کو سامنے رکھیں۔
اختلاف انسانی فطرت کا حصّہ ہے۔ صحابۂ کرامؓ کے درمیان بھی بعض اجتہادی مسائل میں اختلاف ہوا، مگر ان کا اختلاف اخوت کو نگل نہیں گیا۔ ان کے دل ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی سے خالی نہیں ہوئے اور نہ ہی رائے کا اختلاف باہمی احترام کی دیوار کو منہدم کرسکا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اختلافِ رائے کو ختم کرنے کے بجائے اسے علم، دلیل، عدل، ادب اور تقویٰ کے دائرے میں رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اصل مسئلہ اختلاف نہیں، بلکہ اختلاف کا اخلاقی اور فکری زوال ہے۔ جب گفتگو حق کی تلاش کے بجائے اپنی فتح کا ذریعہ بن جائے، جب تنقید اصلاح کے بجائے تحقیر بن جائے، جب جماعتی وابستگی حق و باطل کے پیمانے پر غالب آجائے اور جب انسان اپنے فکری حلقے سے باہر کی ہر آواز کو دشمنی کی نگاہ سے دیکھنے لگے، تو اختلاف علم کی قوت بننے کے بجائے انتشار کی آگ بن جاتا ہے۔
رسول اللّٰہﷺ نے باہمی نزاع، کینہ اور قطع تعلق سے اُمّت کو متنبہ فرمایا اور مسلمانوں کے درمیان اخوت، رحمت اور باہمی تعلق کو ایمان کے عملی مظاہر میں شمار کیا۔ قرآن بھی گفتگو کے باب میں محض "کیا کہا جائے” نہیں بلکہ "کس انداز سے کہا جائے” کی تعلیم دیتا ہے: "وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا۔ لوگوں سے اچھی بات کہو” (البقرۃ: 83)۔ حتیٰ کہ اختلاف کے شدید ترین مواقع پر بھی قرآن حکمت، حسنِ خطاب اور بہترین اسلوب اختیار کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بحث اور بصیرت کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔ بحث انسان کو اپنی بات ثابت کرنے میں مصروف رکھ سکتی ہے، جب کہ بصیرت اسے یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اس کی گفتگو کا نتیجہ کیا ہوگا؟ کیا اس سے حق واضح ہوگا یا نفرت بڑھے گی؟ کیا دل قریب آئیں گے یا مزید فاصلے پیدا ہوں گے؟ کیا امت کی قوت میں اضافہ ہوگا یا اجتماعی توانائی غیر ضروری نزاعات میں صرف ہوجائے گی؟
ہر مسئلے پر رائے دینا ضروری نہیں، ہر خبر پر تبصرہ لازم نہیں، ہر اختلاف کو مناظرے میں تبدیل کرنا دانش مندی نہیں، اور ہر فکری یا سیاسی واقعے کو اپنی جماعتی عینک سے دیکھنا اسلامی بصیرت کا تقاضا نہیں۔ بعض مواقع پر خاموشی زبان کی کمزوری نہیں بلکہ عقل کی پختگی ہوتی ہے؛ بعض اوقات سوال کا جواب دینے کے بجائے مناسب وقت کا انتظار کرنا حکمت ہوتی ہے؛ اور بعض حالات میں اپنی بات منوانے کے بجائے تعلق، اخوت اور وسیع تر مصلحت کی حفاظت زیادہ اہم ہوجاتی ہے۔
قرآن مجید نے باہمی نزاع کے ایک نہایت اہم اجتماعی نقصان کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: "وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ۔ آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑ جاؤ گے اور تمہاری قوت جاتی رہے گی (الأنفال: 46)۔ یہ آیت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اگر اُمّت کی علمی، فکری، اخلاقی اور اجتماعی توانائیاں مسلسل باہمی کشمکش میں صرف ہوتی رہیں تو اس کا نقصان صرف افراد یا جماعتوں تک محدود نہیں رہتا؛ اس کے اثرات پوری اُمّت کی اجتماعی قوت پر پڑتے ہیں۔ آج ہمیں اسی قرآنی بصیرت کی ازسرِنو ضرورت ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہماری گفتگو کا مقصد حق کی تلاش ہے یا اپنی رائے کی فتح؟ ہماری تنقید کا مقصد اصلاح ہے یا مخالف کی تحقیر؟ ہماری وابستگی کا مقصد خدمتِ دین ہے یا گروہی عصبیت؟ اور ہماری تحریریں و تقریریں اُمّت کے شیرازے کو جوڑ رہی ہیں یا اسے مزید منتشر کررہی ہیں؟
خواہ معاملہ سعودی ہو یا حوثی، شیعہ ہو یا سنی، عرب ہو یا عجم، کسی فرد، جماعت، تنظیم، ملک یا مسلک سے متعلق ہو۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم ہر معاملے پر کتنا بول سکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمیں کب بولنا ہے، کیا بولنا ہے، کس انداز سے بولنا ہے اور کب خاموش رہنا ہے۔ یہی فرق محض معلومات رکھنے والے انسان اور صاحبِ بصیرت انسان کے درمیان ہے۔ علم ہمیں مسئلہ دکھاتا ہے، مگر بصیرت ہمیں ترجیح سکھاتی ہے؛ جذبات ہمیں ردِعمل پر آمادہ کرتے ہیں، مگر حکمت ہمیں انجام پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اُمّت کو آج محض زیادہ گفتگو، زیادہ مناظرے اور زیادہ تبصروں کی نہیں، بلکہ ایسے علم و شعور کی ضرورت ہے جو اختلاف کے اندر بھی اخوت کو زندہ رکھ سکے اور نزاع کے ماحول میں بھی اصلاح کا راستہ تلاش کرسکے۔ اُمّت کو بحث نہیں، بصیرت درکار ہے۔
بعض ایسے معاملات جن پر طویل بحث و تمحیص کے باوجود کوئی عملی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا، ان پر مسلسل گفتگو اور مناظرانہ انداز اختیار کرنے کے بجائے خاموشی اور حکمت کو ترجیح دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ خواہ معاملہ سعودی ہو یا حوثی، شیعہ ہو یا سنی، عرب ہو یا عجم، کسی فرد، جماعت یا مسلک سے متعلق ہو—اگر گفتگو کا مقصد حق کی تلاش اور اصلاح کے بجائے ایک دوسرے کو شکست دینا، اپنی رائے منوانا اور اپنے موقف کو ہر حال میں درست ثابت کرنا بن جائے تو ایسی بحثیں عموماً مسائل کے حل کے بجائے مزید الجھن، بدگمانی اور انتشار کو جنم دیتی ہیں۔
آج ہماری ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم نے اپنی شناخت کو اسلام اور اُمّتِ مسلمہ کے وسیع تر تصور کے بجائے اپنی اپنی جماعت، تنظیم، مسلک، شخصیت اور فکری حلقے تک محدود کرلیا ہے۔ ہر شخص اپنے رہبر، اپنے عالم، اپنے ادارے اور اپنی جماعت کے دفاع میں اس قدر مشغول ہے کہ کبھی کبھی اسے یہ دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ملتی کہ بحیثیت مجموعی اُمّتِ مسلمہ کن حالات سے گزر رہی ہے اور اس کے حقیقی مسائل کیا ہیں۔
ہمیں ذرا اپنے دائرۂ نگاہ کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ مسلمانوں نے مختلف ادوار میں سیاسی کمزوری، باہمی نزاع، بیرونی مداخلت، معاشی استحصال، فکری انتشار اور اجتماعی زوال جیسے کئی مراحل دیکھے ہیں۔ آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان مختلف نوعیت کے مسائل اور مشکلات سے دوچار ہیں۔ ایسے حالات میں اگر ہماری تمام تر توانائیاں اس بات پر صرف ہوتی رہیں کہ کون صحیح ہے، کون غلط؛ کس عالم کی بات معتبر ہے، کس جماعت کا موقف درست ہے؛ کس ملک نے کیا کیا اور کس گروہ نے کیا نہیں کیا، تو ہمیں اپنے اجتماعی مسائل کی اصل نوعیت سمجھنے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ جدوجہد کا وقت کہاں سے ملے گا؟
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ حق و باطل، ظلم و عدل، صحیح و غلط یا درست و نادرست کے درمیان فرق ہی ختم کردیا جائے۔ اختلافِ رائے انسانی اور علمی زندگی کا ایک فطری حصّہ ہے، اور علمی مسائل پر دلیل، تحقیق اور سنجیدہ مکالمہ ہمیشہ ضروری رہتا ہے۔ لیکن علمی اختلاف اور باہمی نزاع میں بنیادی فرق ہے۔ اختلاف اگر علم، اخلاق، وسعتِ نظر اور حق کی تلاش کے دائرے میں رہے تو وہ فکری ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے؛ لیکن جب اختلاف تعصب، تحقیر، الزام تراشی، شخصیت پرستی اور گروہی عصبیت میں تبدیل ہوجائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا سبب بن جاتا ہے۔
بدقسمتی سے آج ہمارے بہت سے مباحث کا مسئلہ یہی ہے کہ ہر فریق پہلے ہی اپنے موقف کو آخری حقیقت سمجھ کر میدان میں اترتا ہے۔ پھر گفتگو کا مقصد حقیقت تک پہنچنا نہیں رہتا بلکہ اپنی بات کو ثابت کرنا اور دوسرے کو غلط ثابت کرنا بن جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بحث ایک مسئلے سے شروع ہوتی ہے اور کئی نئے اختلافات کو جنم دے کر ختم ہوتی ہے۔ دل قریب آنے کے بجائے مزید دور ہوجاتے ہیں، بدگمانیاں بڑھتی ہیں، اور امت کی اجتماعی قوت مزید کمزور ہوتی ہے۔
ہمیں اس مقام پر رک کر اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم اسلام کے لیے سوچ رہے ہیں یا اپنی جماعت کے لیے؟ کیا ہم امت کے مفاد کو مقدم رکھ رہے ہیں یا اپنے پسندیدہ شخص اور اپنے فکری حلقے کو؟ کیا ہمارا اختلاف حق کی تلاش کے لیے ہے یا اپنی وابستگی کے دفاع کے لیے؟ اور کیا ہماری گفتگو مسلمانوں کو قریب لا رہی ہے یا ان کے درمیان مزید فاصلے پیدا کررہی ہے؟ یہ سوالات کسی ایک فرد، جماعت یا مسلک کے لیے نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شخصیات کے احترام کو شخصیت پرستی میں، جماعتی وابستگی کو جماعتی عصبیت میں اور مسلکی شناخت کو باہمی دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں۔ کسی عالم یا رہنما سے استفادہ کرنا اپنی جگہ قابلِ قدر ہے، لیکن کسی بھی شخصیت کو خطا سے بالاتر سمجھ لینا علمی دیانت کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ اسی طرح کسی جماعت سے وابستگی اپنی جگہ درست ہوسکتی ہے، مگر جماعتی وابستگی ہمیں اُمّت کے وسیع تر مفاد سے غافل نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اُمّت کا اتحاد اختلافات کے مکمل خاتمے کا نام نہیں۔ مختلف فقہی، فکری اور سیاسی آرا کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ خیر خواہی، احترام، حسنِ ظن اور مشترکہ مقاصد پر تعاون ہی حقیقی اتحاد کی بنیاد ہے۔ ہر اختلاف کو دشمنی بنا دینا اتحاد نہیں بلکہ اجتماعی کمزوری ہے۔
قرآن مجید ہمیں باہمی تنازع سے خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے: "وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ۔ آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑ جاؤ گے اور تمہاری قوت جاتی رہے گی” (الأنفال: 46)۔ یہ آیت ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ باہمی نزاع صرف تعلقات کو خراب نہیں کرتا بلکہ اجتماعی قوت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس لیے موجودہ حالات میں ہمیں اپنی ترجیحات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہر اختلاف کو سوشل میڈیا کی بحث، ہر خبر کو جماعتی عینک اور ہر واقعے کو مسلکی کشمکش کا موضوع بنانا ضروری نہیں۔ بعض اوقات خاموشی کمزوری نہیں بلکہ حکمت ہوتی ہے؛ بعض اوقات بحث جیتنے کے بجائے تعلق بچانا زیادہ بڑی کامیابی ہوتی ہے؛ اور بعض مواقع پر اپنی رائے کو مؤخر کرکے امت کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھنا زیادہ بالغ رویہ ہوتا ہے۔
ہمیں اپنے نوجوانوں اور نئی نسل کو بھی یہی شعور دینا ہوگا کہ مسلمان کی اصل شناخت کسی مخصوص جماعت، ملک، زبان یا گروہ سے پہلے اسلام اور اُمّتِ مسلمہ سے وابستہ ہے۔ اختلافات رہیں، علمی مباحث جاری رہیں، غلطی کی اصلاح بھی ہو اور ظلم پر آواز بھی اٹھائی جائے، لیکن یہ سب کچھ علم، عدل، حکمت اور اخلاق کے دائرے میں ہو۔ آج سب سے بڑی ضرورت ایک دوسرے کو شکست دینے کی نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے کی ہے؛ اپنی اپنی صفوں کو مضبوط کرنے کی نہیں بلکہ اُمّت کے بکھرے ہوئے شیرازے کو جوڑنے کی ہے؛ اور ہر بحث میں اپنی فتح ثابت کرنے کی نہیں بلکہ ایسے راستے تلاش کرنے کی ہے جن سے مسلمانوں کے درمیان اعتماد، تعاون اور باہمی خیر خواہی فروغ پاسکے۔
ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا، اپنی ترجیحات کا جائزہ لینا ہوگا اور یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری زبان، ہماری تحریر اور ہماری گفتگو اُمّت کو جوڑنے کا ذریعہ بن رہی ہے یا توڑنے کا۔ لہٰذا ایسے معاملات جن میں بحث و تکرار سے اصلاح کے بجائے انتشار بڑھنے کا اندیشہ ہو، ان میں احتیاط، خاموشی اور حکمت کو اختیار کرنا ہی بہتر ہے۔ اختلاف کو دشمنی نہ بننے دیں، تنقید کو تحقیر نہ بننے دیں، وابستگی کو عصبیت نہ بننے دیں اور محبت کو شخصیت پرستی میں تبدیل نہ ہونے دیں۔ اس وقت مسلمانوں کو سب سے زیادہ ضرورت باہمی اعتماد، اخوت، اتحاد اور اتفاق کی ہے۔ ہمیں اپنے داخلی اختلافات کو کم کرنے، مشترکہ مسائل پر متحد ہونے، ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے اور امت کے اجتماعی مفاد کو ذاتی، جماعتی اور گروہی ترجیحات پر مقدم رکھنے کی ضرورت ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس کی پیروی کرنے، باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے، اختلاف میں عدل و حکمت اختیار کرنے اور باہمی نزاع سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں کے دلوں میں الفت پیدا فرمائے، باہمی بدگمانیوں اور نفرتوں کو دور فرمائے، اُمّت کو فکری و عملی بصیرت عطا فرمائے اور ہمیں ایسے قول و عمل کی توفیق دے جو مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق، خیر خواہی اور اخوت کو فروغ دینے کا ذریعہ بنے۔ آمین یا ربّ العالمین۔
🗓 (16.09.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے