कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

_بموقع: ’’وقار کے ساتھ جینے کا حق‘‘ ریاست گیر مہم، MPJ مہاراشٹر

باوقار زندگی! عوام کا نعرۂ حیات

تحریر:ایس ایم صمیم، ناندیڑ
موبائل: 9960942261

انسان کی زندگی محض سانسوں کا سلسلہ نہیں، بلکہ ایک ایسے سفر کا نام ہے جس کی بنیاد عزت، احترام اور خودداری پر رکھی گئی ہے۔ وقار کے ساتھ زندگی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔ یہ کوئی قانون کی کتاب میں لکھی ہوئی سخت شق نہیں، بلکہ روح کی سب سے گہری پکار ہے وہ چیخ جو ظلم، بھوک، ناانصافی اور توہین کے سامنے خود بہ خود اٹھ کھڑی ہوتی ہے: “میں صرف جیتا نہیں، باعزت جیتا ہوں!”
ذرا رُک کر تصور کیجئے۔
اس بچے کو دیکھیے جو گٹر کے کنارے بیٹھا روٹی کے ٹکڑے کے لیے ترس رہا ہے۔
اس عورت کو سمجھئے جس کی چیخیں گھر کی دیواروں میں دب کر دم توڑ دیتی ہیں۔
اُس بوڑھے کا احساس کیجئے جو سڑک پر ہاتھ پھیلا کر اپنی باقی ماندہ زندگی کا بوجھ اٹھائے پھرتا ہے۔ ان کی آنکھوں میں جھلکتے آنسو صرف پانی کے چند قطرے نہیں۔ *یہ انسانیت کے وقار پر پڑنے والے وہ زخم ہیں* جنہیں ہم نے معمول بنا لیا ہے۔
بھارت کا آئین، آرٹیکل 21 یہ حق دیتا ہے:
“زندگی اور ذاتی آزادی سے کسی کو بھی قانون کے سوا محروم نہیں کیا جائے گا۔” اور عدالتوں نے اس زندگی کی روح سمجھائی، زندگی صرف جسم کا چلتے رہنا نہیں؛ یہ صاف ہوا، پینے کا پانی، دو وقت کی روٹی، سر چھپانے کی چھت، علاج کی سہولت، تعلیم کی روشنی اور ان سب کے ساتھ سب سے بڑھ کر وہ عزت ہے جو انسان کو باوقار انسان بناتی ہے۔
پھر سوال یہ ہے کہ
وہ بچی جو اسکول جانے کے بجائے کوڑا چنتی ہے، کیا وہ باوقار زندگی گزار رہی ہے؟
وہ دلت جو آج بھی کنویں پر جانے سے روکا جاتا ہے، کیا اس کا حق محفوظ ہے؟
وہ معذور جو ریمپ نہ ہونے کے باعث سیڑھیوں پر چڑھنے کو مجبور ہے، کیا اس کی عزت سلامت ہے؟
وہ شخص جسے کسی خاص شناخت یا کمیونٹی کی بنیاد پر کرائے کا گھر نہیں دیا جاتا۔
وہ انسان جسے معمولی شک کی بنا پر برسوں قید خانے بھیج دیا جاتا ہے؟ یہ سب واقعات ظلم نہیں، انسانیت کا قتل ہیں۔
معاشرہ ترقی کے بڑے بڑے دعوے کرتا ہے، مگر اس کی گلیوں میں *آج بھی جبری مشقت کی زنجیریں بجتی ہیں۔*
عدالتوں میں ذات پات کے مقدمے دھول میں دبے پڑے ہیں۔
گھروں میں گھریلو تشدد کی آوازیں دیواروں سے لپٹی رہتی ہیں۔
یہ ہر منظر بتاتا ہے کہ انسان کا وقار ابھی بھی محفوظ نہیں۔
اب وقت بدلنے کا ہے۔
وقت ہے کہ ہم خاموشی کو توڑیں، ظلم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں، اور انسانیت کا پرچم بلند کریں۔
حکومت! اپنے وعدے پورے کرے
تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف ہر دروازے تک پہنچائیں۔
خاندان!* بچوں کو ہمدردی، احترام اور انسانیت سکھائیں۔ نفرت، فرقہ پرستی اور گھمنڈ کا زہر نہیں۔
اے مہاراشٹر واسیوں! ظلم دیکھ کر خاموش نہ رہو!
آواز اٹھاؤ، حق کا ساتھ دو، کمزور کا سہارا بنو۔
وقار کے تحفظ کی جنگ ہر انسان کی اپنی جنگ ہے۔
یاد رکھو:
وہی قوم زندہ رہتی ہے جو اپنے کمزور، مجبور اور بے سہارا انسانوں کو عزت دیتی ہے۔ وہی معاشرہ جنت بن سکتا ہے جہاں ہر آنسو پونچھا جاتا ہے، جہاں ہر انسان کو عزت کی چادر نصیب ہوتی ہے۔
وقار کے ساتھ زندگی صرف حق نہیں—فرض ہے۔
یہ انسانیت کا آخری قلعہ ہے۔ اس قلعے کو گرنے نہ دو۔
اٹھو، بولو، لڑو
کیونکہ تمہاری خاموشی، کسی کے وقار کی موت بن سکتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے