कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مقام عبرت

تحریر: محمد صادق کھوکھر لیسٹر

ظالم اپنے ظلم کا خمیازہ ضرور بھگتا ہے۔ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم حسینہ واجد نے اپنے دور میں جس ظلم کا آغاز کیا تھا وہ اسے ہمیشہ عدل و انصاف کا نام دیتی رہی اور مظلوموں پر ظلم کے پہاڑ توڑتی رہی، اس کے باپ شیخ مجیب الرحمن نے اپنے دورِ اقتدار کے آغاز میں ایک قانون پاس کیا تھا جس کے تحت سرکاری ملازمتوں کا 30فیصد کوٹہ ان لوگوں کیلئے مخصوص تھا۔ جنہوں نے بنگلہ دیش کے قیام میں حصہ لیا تھا، اس کے علاوہ 26فیصد کوٹہ دوسرے مخصوص طبقات کیلئے تھا، صرف 44فیصد لوگ میرٹ پر ملازمتیں حاصل کر پاتے تھے جس کی وجہ سے بہت سے ذہین نوجوان سرکاری ملازمتوں سے محروم رہ جاتے تھے، یہ ظلم 50برس سے مسلسل جاری تھا، اس کوٹہ سسٹم سے صرف عوامی لیگ کے لوگ مستفید ہو رہے تھے، نصف صدی سے عوام اس ظلم کو برداشت کر رہے تھے، بالآخر طلبہ اس ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، انہوں نے تقریبا 300 افراد کی قربانی دے کر نہ صرف بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم حسینہ واجد کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا بلکہ اسے اپنی جان بچانے کیلئے ملک سے اس طرح فرار ہونا پڑا کہ اس کے اپنے مقرر کردہ آرمی چیف نے اسے فرار ہونے کیلئے صرف 45منٹ کا وقت دیا ، وہ بھاگنے سے قبل اپنا آخری خطاب بھی نہ کر سکی، وزیر اعظم ہاوس کے باہر ایک ہیلی کاپٹر تیار کھڑا تھا اور وہ صرف اپنا پرس اور تن کے کپڑوں کے سوا کوئی چیز ساتھ نہ لے جا سکی اور چند منٹوں میں اپنی بہن کے ہمراہ اگر تلہ پہنچ گئی، پھر اگر تلہ سے دہلی چلی گئی، برطانیہ نے سیاسی پناہ دینے سے انکار کر دیا، امریکہ نے بھی ویزا دینے کی بات نہیں مانی، وہ اس وقت بھارت کے ایک گیسٹ ہاوس میں وقت گزار رہی ہیں، حسینہ واجد نے اپنے دورِ حکومت میں مخالفین پر بڑے بڑے ظلم ڈھائے لیکن اس کے فرار ہوتے ہی حالات ایسے بدلے کہ جس پولیس نے طالب علموں پر گولیاں چلائی تھیں، وہ پولیس اب عوام سے گولی چلانے کی معافی مانگ رہی ہے، بپھرے ہوئے طالب علموں نے پہلے شیخ مجیب الرحمن کے مجسمے کو جوتوں کے ہار پہنائے اور پھر انہیں مسمار کر دیا، ڈھاکہ میں اندرا گاندھی کلچرل سنٹر جلا دیا گیا، طالب علموں نے وزیرِ اعظم ہاوس کے اندر گھس کر فتح کا جشن منایا، اس طرح ظالم حسینہ کا انجام عبرت ناک رسوائی اور بربادی کے ساتھ ہوا، یہ تاریخ کا فیصلہ ہے لیکن ظالم تاریخ سے سبق کم ہی حاصل کرتے ہیں،اللہ تعالی جب کسی کو عروج بخشتا ہے تو اسے اللہ تعالی کا شکر بجا لانا چاہئے۔ قرآن پاک کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ متکبرین کا انجام ہمیشہ رسوائی کے ساتھ ہوتا ہے۔شیخ مجیب الرحمن کو اللہ تعالی نے وہ مقبولت عطا کی تھی جس کی برِ صغیر میں مثال نہیں ملتی۔ دسمبر1970 کے الیکشن میں اس نے دو کے سوا ساری نششتیں جیت لی تھیں، اس کے جلسوں کے مناظر آج بھی دنیا کو یاد ہیں، وہ اپنے وطن کا بانی صدر تھا لیکن اقتدار میں آکر اس کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ اس کے وزیروں کو اس کے سامنے جھک کر بات کرنا پڑتی تھی، جو ایسا نہ کرتا سخت سزا کا مستحق قرار پاتا، بالآخر اس کا انجام بھی المناک ہوا، اسے اس کے اپنے ہی ساتھیوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا بلکہ اس کے سارے خاندان کو قتل کر دیا گیا، حسینہ واجد اور اس کی ایک بہن بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے بچ گئی تھیں پھر کچھ برسوں بعد ملک لوٹیں اور اس نے عوامی لیگ کی قیادت سنبھال لی، حکومت اوراپوزیشن میں رہیں، آخر کار اس نے پھر فسطائیت کا راستہ اختیار کر لیا۔ جماعتِ اسلامی کے سرکردہ رہنماوں کو پھانسیاں دینا شروع کیں، جماعتِ اسلامی اور دیگر جماعتوں کے ہزاروں کارکنوں کو جیلوں میں بند کر دیا گیا، الیکشن میں بدترین دھاندلی کی گئی، بدعنوانی کو عروج بخشا، بی بی سی کے مطابق چند دن قبل انہوں نے خود تسلیم کیا کہ بد عنوانی اتنی بڑھ گئی ہے کہ میرے چپراسی کے اکاونٹ میں کروڑوں ٹکا جمع ہیں اور وہ ہیلی کاپٹر کے بغیر کہیں آتا جاتا نہیں، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حسینہ واجد کے خاندان اور قریبی ساتھیوں نے کس طرح ملک کو لوٹا ہو گا، اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ظلم اور نفرت کا رویہ انسان کو لے ڈوبتا ہے۔ نیز ملکی سلامتی کیلئے اداروں کا احترام بہت ضروری ہے جس کیلئے آئین پر عمل پیرا رہنے کی بڑی اہمیت ہے، نیز یہ بھی سبق ملتا ہے کہ مخالفین کو پھانسیاں دینے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ایسا کرنے سے بد ترین انجام سے دو چار ہونا پڑتا ہے اور پھر ظلم کے خلاف معمولی سی چنگاری بھی شعلہ جوالہ بن سکتی ہے۔ کاش ہمارے سیاست دان بنگلہ دیش کے حالات سے درسِ عبرت حاصل کریں۔ وہ خواص کو نوازنے کی بجائے عوام کے مسائل حل کریں ورنہ وہ بھی حسینہ واجد جیسے انجام سے دو چار ہو سکتے ہیں۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے