कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کامیابی کے لیے اسکول کی عمر سے ہی NEET کی تیاری کا آغاز کیوں ضروری ہے

مضمون نگار :نجم فاروقی، سا بقہ لکچرار ،پر نس ستتام بن عبد ا لعز یز یو نیور سٹی ، ریاض (M.Sc Comp Sci, PhD(Pursuing),
ڈائریکٹر، سنٹر فار ایجوکیشنل ایکسیلنس، پربھنی Mobile: 9579837266 /

————————

NEET (National Eligibility cum Entrance Test) نہایت اہم امتحان ہے جو میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے لیا جاتا ہے۔ اس امتحان کی اہمیت اور مشکل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لاکھوں طلباء ہر سال اس میں شرکت کرتے ہیں، مگر صرف چند ہی کامیاب ہو پاتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس امتحان کی تیاری جلدی شروع کی جائے، اور اسکول کی عمر سے ہی اس کی تیاری کی جائے۔ اس مضمون میں ہم اس بات کی وضاحت کریں گے کہ کیوں NEET امتحان کی تیاری اسکول کی عمر سے شروع کرنی چاہئے۔

بنیادوں کی مضبوطی : جب طلباء چھوٹے ہوتے ہیں تو ان کے ذہن میں نئے تصورات اور معلومات کو جذب کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ وقت بہترین ہوتا ہے تاکہ ان کے سائنسی اور ریاضیاتی تصورات کی بنیادیں مضبوط کی جائیں۔ NEET کے نصاب میں زیادہ تر مضامین فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی پر مبنی ہوتے ہیں، جو کہ اسکول میں ہی پڑھائے جاتے ہیں۔ اگر ان مضامین کی بنیادی باتیں شروع سے ہی سمجھ لی جائیں تو بعد میں انہیں مزید گہرائی میں سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔وقت کی بہتر تقسیم : اسکول کی عمر میں وقت کی بہتر تقسیم ممکن ہوتی ہے۔ اگر NEET کی تیاری جلدی شروع کی جائے تو طلباء کو وقت ملتا ہے کہ وہ اپنے روزمرہ کے اسکول کے کام کے ساتھ ساتھ اس اہم امتحان کی تیاری بھی کریں۔ یہ نہ صرف ان کے علمی ترقی میں مدد دیتا ہے بلکہ امتحان کے وقت ان کے اوپر دباؤ کو بھی کم کرتا ہے۔مستقل مزاجی : NEET کی تیاری میں مستقل مزاجی بہت اہم ہے۔ اگر تیاری جلدی شروع کی جائے تو طلباء میں مستقل مزاجی اور عادتوں کو پختہ کرنے کا وقت ہوتا ہے۔ یہ عادتیں بعد میں ان کی تیاری کے دوران ان کی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ مستقل مزاجی اور ترتیب وار پڑھائی سے طلباء بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔مسابقتی ماحول: آج کل مسابقتی ماحول بہت بڑھ چکا ہے۔ اگر طلباء شروع سے ہی NEET کی تیاری میں لگ جائیں تو وہ اس مسابقتی ماحول میں خود کو بہتر طریقے سے تیار کر سکتے ہیں۔ ابتدائی تیاری انہیں دیگر طلباء کے مقابلے میں ایک قدم آگے رکھتی ہے۔سٹریس مینیجمنٹ: NEET کی تیاری کے دوران طلباء کو سٹریس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر تیاری جلدی شروع کی جائے تو طلباء کو اس سٹریس کو مینیج کرنے کا وقت ملتا ہے۔ وقت کے ساتھ وہ امتحان کے دباؤ کو برداشت کرنے اور اس سے نمٹنے کے طریقے سیکھ جاتے ہیں۔

مختلف موضوعات کی گہرائی :NEET کا امتحان مختلف موضوعات کی گہرائی میں جانچتا ہے۔ اسکول کی عمر سے تیاری شروع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ طلباء کو ہر موضوع کو اچھی طرح سے سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ انہیں زیادہ وقت ملتا ہے کہ وہ موضوعات کی گہرائی میں جائیں اور ان کے تمام پہلوؤں کو سمجھیں۔کوچنگ کلاسز کی ضرورت : آج کل NEET کی تیاری کے لئے مختلف کوچنگ کلاسز اور ٹریننگ سنٹرز موجود ہیں۔ اگر طلباء اسکول کی عمر سے ہی تیاری شروع کریں تو وہ ان کوچنگ کلاسز کا بہتر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ کوچنگ کلاسز میں سکھائے جانے والے طریقے اور تکنیکیں ان کے لئے زیادہ مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔خود اعتمادی :جلدی تیاری شروع کرنے سے طلباء میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ امتحان کی تیاری بہتر طریقے سے کر رہے ہیں اور اس میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ یہ خود اعتمادی امتحان کے دوران بہت اہم ہوتی ہے اور ان کے بہتر نتائج حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔:NEET کی تیاری میں تعلیمی پس منظر بہت اہم ہوتا ہے۔ اسکول کی عمر سے تیاری شروع کرنے کا مطلب ہے کہ طلباء کا تعلیمی پس منظر مضبوط ہوتا ہے۔ وہ اپنے تعلیمی سفر کو بہتر طریقے کے امتحان میں بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔NEET ایک نہایت اہم اور مشکل امتحان ہے جو میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے لیا جاتا ہے۔ اس کی تیاری جلدی شروع کرنے کے بہت سے فائدے ہیں جن میں بنیادوں کی مضبوطی، وقت کی بہتر تقسیم، مستقل مزاجی، مسابقتی ماحول کی تیاری، سٹریس مینیجمنٹ، مختلف موضوعات کی گہرائی، کوچنگ کلاسز کی ضرورت، خود اعتمادی، اور تعلیمی پس منظر شامل ہیں۔ اس کی تیاری شروع کریں تاکہ وہ اس اہم امتحان میں کامیابی حاصل کر سکیں۔

NEET امتحانات کے اعداد و شمار: 2020- : کل رجسٹریشن: 15.97 لاکھ: 021: کل رجسٹریشن: 16.14 لاکھ : 2022: کل رجسٹریشن: 18.72 لاکھ : 2023: کل رجسٹریشن: تقریباً 20.87 لاکھ: 2024: کل رجسٹریشن-تقریباً 24 لاکھ

:رجسٹریشن اور امتحان دینے والے طلباء میں اضافہ: سال بہ سال NEET کے لئے رجسٹریشن اور امتحان دینے والے طلباء کی تعداد میں مستقل اضافہ ہوتا رہا ہے۔ یہ اضافہ بھارت میں طبی تعلیم کے لئے بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔کامیاب ہونے والے طلباء کی شرح بھی بڑھ رہی ہے، حالانکہ یہ رجسٹریشن کے اضافے کے تناسب میں نہیں ہے۔ یہ بہتری طلباء کی تیاری میں بہتری اور امتحان کے معیار میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ زیادہ تر امیدوار مہاراشٹر، اتر پردیش، تمل ناڈو، اور کیرالہ جیسے ریاستوں سے آتے ہیں، جو علاقائی ترجیحات اور طبی تعلیم پر زور دیتے ہیں۔ میں مردوں کے مقابلے میں خواتین امیدواروں کی تعداد زیادہ نظر آتی ہے، جو طبی تعلیم میں جنس کی برابری کی مثبت تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔مختلف زمروں (SC/ST/OBC/EWS) کے لئے رزرویشن پالیسیوں کا نفاذ مختلف معاشرتی طبقات کے لئے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔امتحان نے اپنے آغاز سے ہی اہمیت اور پیمانے میں اضافہ کیا ہے۔ شرکاء اور کامیاب امیدواروں کی تعداد میں مستقل اضافہ اس امتحان کی مسابقتی نوعیت اور بھارت میں طبی تعلیم کی تشکیل میں اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ سالوں کے دوران اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ طبی میدان میں جانے کے خواہشمند طلباء کے لئے ابتدائی اور سخت تیاری ضروری ہے۔

NEET امتحان کی بنیادی تفصیلات: منتظم ادارہ: NEET (نیشنل ایلیجیبیلیٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ) نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے ذریعے منعقد کیا جاتا ہے۔ NTA ایک خودمختار اور خود مختار ٹیسٹنگ ادارہ ہے جو وزارت تعلیم، حکومت ہند کے تحت قائم کیا گیا ہے۔امتحان پہلی بار 2013 میں متعارف کروایا گیا۔ اس سے پہلے طبی داخلے مختلف ریاستی سطح کے اور ادارہ جاتی امتحانات کے ذریعے ہوتے تھے۔ NEET کے تعارف کا مقصد بھارت بھر میں انڈرگریجویٹ طبی کورسز کے لئے داخلہ کے عمل کو منظم کرنا تھا۔

سوالات کی ساخت : NEET امتحان میں ملٹیپل چوائس سوالات (MCQs) شامل ہوتے ہیں۔ امتحان کی ساخت کچھ یوں ہے: -کل سوالات: 180 :شامل مضامین: فزکس، کیمسٹری، اور بیالوجی (بیالوجی میں بوٹنی اور زوالوجی دونوں شامل ہیں) – فزکس: 45 سوالات : کیمسٹری 45 سوالات : بیالوجی: 90 سوالات (بوٹنی اور زوالوجی سے 45 سوالات ہر ایک) – کل نمبرز: 720 (ہر سوال 4 نمبرز کا ہوتا ہے) : منفی مارکنگ: ہر غلط جواب پر 1 نمبر کاٹ لیا جاتا ہے۔

اطلاق : NEET کا اطلاق درج ذیل کورسز اور اداروں کے لئے ہوتا ہے: MBBS (بیچلر آف میڈیسن، بیچلر آف سرجری)* BDS (بیچلر آف ڈینٹل سرجری)، BAMS (بیچلر آف آیورویدک میڈیسن اینڈ سرجری) BSMS (بیچلر آف سدھا میڈیسن اینڈ سرجری)، BUMS (بیچلر آف یونانی میڈیسن اینڈ سرجری)*BHMS (بیچلر آف ہومیوپیتھک میڈیسن اینڈ سرجری)،NEET کے نمبرز قبول کرنے والے ادارے:تمام طبی اور ڈینٹل کالجز (حکومتی اور نجی دونوں) انڈرگریجویٹ داخلے کے لئے۔،AIIMS (آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) اور JIPMER (جواہرلال انسٹیٹیوٹ آف پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ)، جو پہلے اپنے امتحانات منعقد کرتے تھے لیکن اب NEET کے ذریعے طلباء داخل کرتے ہیں۔ امتحانی شیڈول NEET امتحان عام طور پر سال میں ایک بار منعقد ہوتا ہے، عام طور پر مئی میں۔ درست تاریخیں اور درخواست کے شیڈول NTA کی طرف سے سرکاری اعلانات کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں۔ اہلیت کے معیار : NEET امتحان میں شامل ہونے کے لئے امیدواروں کو درج ذیل معیار پورا کرنا ضروری ہے:عمر کی حد: امیدوار کی عمر داخلے کے وقت کم از کم 17 سال ہونی چاہئے یا وہ 31 دسمبر تک یہ عمر پوری کرلے۔ عمومی زمرے کے امیدواروں کے لئے اوپری عمر کی حد 25 سال ہے اور مخصوص زمروں کے لئے 30 سال۔ تعلیمی قابلیت: امیدواروں نے تسلیم شدہ بورڈ سے فزکس، کیمسٹری، بیالوجی/بایوٹیکنالوجی اور انگلش کے ساتھ 10+2 کا امتحان پاس کیا ہو۔ انہیں فزکس، کیمسٹری، اور بیالوجی میں مجموعی طور پر کم از کم 50% نمبرز حاصل کرنے ہوں گے (مخصوص زمروں کے لئے 40%)۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے