कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پانی کا ایک قطرہ: کائنات کی قدیم ترین یادگار

(پانی سے جڑے وہ راز جنہیں سائنس آج بھی سلجھانے میں مصروف ہے)

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے گلاس میں موجود پانی کا ایک قطرہ سورج سے بھی قدیم ہو سکتا ہے؟ یہ کوئی شاعرانہ مبالغہ نہیں، بلکہ فلکیاتی مشاہدات اور کیمیاوی شواہد کی روشنی میں ایک مستند علمی امکان ہے۔ پانی، جو بظاہر بے رنگ، بے بو اور بے حد عام دکھائی دیتا ہے، درحقیقت کائنات کا سب سے حیرت انگیز اور پیچیدہ معمہ ہے۔ اس کا سالمہ (Molecule) محض تین جوہروں یعنی دو ہائیڈروجن اور ایک آکسیجن (H2O) کا مرکب ہے، مگر اس سادہ سی ساخت کے پیچھے ایسی خصوصیات پوشیدہ ہیں جو طبیعیات اور کیمیا کے بنیادی اصولوں کے ساتھ گہرا ربط رکھتی ہیں اور آج بھی جدید ترین تجربہ گاہوں میں سائنس دانوں کو حیران کرتی ہیں۔
سائنس دانوں نے پانی کی درجنوں غیر معمولی خصوصیات دریافت کی ہیں جن کی تعداد بعض سائنسی حوالوں میں ساٹھ سے ستر تک بتائی جاتی ہے۔ ان میں سے ہر خصوصیت کائنات کے عام مائعات کے رویے سے یکسر مختلف ہے۔ یہ مائع گرم ہونے کے بجائے ٹھنڈا ہونے پر انوکھے رویوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس کی کثافت (Density) چار ڈگری سینٹی گریڈ پر سب سے زیادہ ہوتی ہے، اور اس کی ٹھوس شکل یعنی برف اپنی مائع حالت سے ہلکی رہتی ہے۔ لندن ساؤتھ بینک یونیورسٹی کے ماہرِ کیمیا مارٹن چیپلن نے ان انوکھے خصائص کی تفصیلی فہرست مرتب کی ہے، اور اس کے باوجود آج تک کوئی بھی کمپیوٹر ماڈل پانی کے سالماتی برتاؤ کو ہر حالت میں مکمل طور پر پیش کرنے سے قاصر رہا ہے۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنا عام اور روزمرہ کا مادہ اس قدر پیچیدہ اور پراسرار ہو؟ اس کا جواب اس کے سالمے کی ہندسی ساخت میں پوشیدہ ہے۔ پانی کا سالمہ سیدھی لکیر کی مانند نہیں ہوتا، بلکہ آکسیجن کا بڑا جوہر مرکز میں واقع ہوتا ہے اور دو ہائیڈروجن جوہر اس کے ساتھ تقریباً 104.45 ڈگری کے مخصوص زاویے پر جڑے ہوتے ہیں۔ آکسیجن اپنی برقی منفیلیت (Electro-Negativity) کی وجہ سے الیکٹرانز کو اپنی طرف زیادہ کھینچتی ہے، جس کے نتیجے میں سالمے کا ایک سرا جزوی طور پر منفی اور دوسرا جزوی طور پر مثبت چارج رکھتا ہے اور یوں پانی کا ہر سالمہ ایک چھوٹا دو قطبی (Dipole) بن جاتا ہے۔ جب اربوں کھربوں ایسے دو قطبی سالمے اکٹھے ہوتے ہیں، تو ایک کا مثبت سرا دوسرے کے منفی سرے کو اپنی طرف کھینچتا ہے، اور اس باہمی کشش سے ایک خاص بین السالماتی بندھن وجود میں آتا ہے جسے ہائیڈروجن بانڈ کہتے ہیں۔ یہ بندھن اتنی تیزی سے بنتے اور ٹوٹتے ہیں کہ ہماری عام نظر میں پانی پرسکون معلوم ہوتا ہے، مگر خوردبینی سطح پر سالمات میں ایک مستقل متحرک رقص جاری رہتا ہے۔
یہی ہائیڈروجن بانڈ پانی کی سب سے مشہور اور حیرت انگیز خصوصیت یعنی برف کے تیرنے کا سبب بھی ہے۔ عام طبیعیات کا اصول یہ ہے کہ مادہ ٹھنڈا ہونے پر سکڑتا ہے اور اس کی کثافت بڑھ جاتی ہے، مگر پانی اس کلیے کی حدود میں ایک اہم استثنا پیش کرتا ہے۔ جب پانی جمنے لگتا ہے تو ہائیڈروجن بانڈنگ کی وجہ سے اس کے سالمے ایک منظم، چھ کونوں والی جالی دار شکل اختیار کر لیتے ہیں، جو بالکل شہد کی مکھی کے چھتے کی مانند ہوتی ہے۔ اس عمل سے سالمات کے درمیان خالی جگہیں بڑھ جاتی ہیں اور پانی حجم میں تقریباً نو فیصد پھیل جاتا ہے۔ یہی وہ خفیہ عمل ہے جس کی بدولت برف پانی سے ہلکی ہو کر اس کی سطح پر تیرنے لگتی ہے، اور یہی ایک خصوصیت زمین پر زندگی کی بقا کی ضامن بنی ہوئی ہے۔ ذرا لمحہ بھر کو تصور کیجیے کہ اگر برف پانی میں ڈوب جاتی تو سردیوں میں سمندر اور جھیلیں نیچے سے جمنے لگتیں اور اس کے نتیجے میں تمام آبی حیات ختم ہو جاتی۔ ایسا نہ ہونے کی وجہ سے پانی کا نیچے والا حصہ مائع رہتا ہے اور آبی مخلوق زندہ رہتی ہے۔ اسی شش پہلو ساخت کا اثر برف کے پھولوں کی ہندسی خوبصورتی میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ آسمان سے گرنے والا ہر برف گالا عموماً چھ اطراف والا ہوتا ہے، اور خوردبینی سطح پر اگرچہ ہر گالے کی ساخت منفرد ہو سکتی ہے، البتہ ان کا بنیادی انداز چھ کونوں پر ہی مشتمل رہتا ہے۔
پانی کی حرارت سے متعلق خصوصیات بھی اسی قدر اہم ہیں۔ اس کی حرارتِ مخصوصہ (Specific Heat) یعنی ایک گرام پانی کا درجہ حرارت ایک ڈگری بڑھانے کے لیے درکار حرارت دیگر مائعات کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر زیادہ ہوتی ہے، جو تقریباً 4.18 جول فی گرام فی کیلوِن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہائیڈروجن بانڈز کو توڑنے کے لیے خاصی توانائی درکار ہوتی ہے۔ یہی خاصیت سمندروں کو زمین کا عظیم تھرموسٹیٹ بناتی ہے، جو دن میں سورج کی شدید تپش کو جذب کر لیتے ہیں اور رات کو اسے آہستہ آہستہ خارج کر کے موسموں کو معتدل رکھتے ہیں۔ اسی نظام کا براہِ راست فائدہ انسانی جسم کو پسینے کے ذریعے درجہ حرارت متوازن رکھنے میں بھی حاصل ہوتا ہے۔
ایک اور حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ پانی ہوا سے تقریباً آٹھ سو گنا زیادہ بھاری ہے، مگر پودوں اور درختوں میں یہ بھاری مائع بغیر کسی مشینی پمپ کے سو میٹر یا اس سے بھی اوپر پہنچ جاتا ہے۔ اس کا راز ایک بار پھر ہائیڈروجن بانڈز اور باہمی کشش (Cohesive Forces) میں پوشیدہ ہے۔ درخت کی انتہائی باریک نالیوں (Xylem) میں پانی ایک مربوط ستون کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اور جب پتوں سے پانی بخارات بن کر نکلتا ہے تو وہ اس ستون کو اوپر کی طرف کھینچتا ہے۔ حقیقت میں درخت پانی کو نیچے سے دھکیلتے نہیں بلکہ اوپر سے کھینچتے ہیں، اور یہی نرم و لطیف مائع زمین کی شکل و صورت تبدیل کرنے میں ایک نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب سردیوں میں پانی چٹانوں کی باریک دراڑوں میں داخل ہو کر جمتا ہے، تو اپنے پھیلاؤ کی طاقت سے وہ دباؤ پیدا کرتا ہے جو چٹانوں کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ تاہم یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ بہت بڑی وادیوں اور عظیم جغرافیائی ساختوں کی تشکیل میں دریا کے طویل المدتی کٹاؤ اور ٹیکٹونکس کا بڑا کردار ہوتا ہے، جیسے کہ گرینڈ کینیون (Grand Canyon)۔
پانی کے انوکھے پن کا سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ جب پانی کو بہت زیادہ دباؤ اور سخت گرمی میں رکھا جائے، جیسے کہ مشتری اور زحل جیسے بڑے سیاروں کے اندرونی حصوں میں حالات ہوتے ہیں، تو یہ ایک عجیب حالت اختیار کر سکتا ہے جسے سپرآئیونک آئس (Superionic Ice) کہا جاتا ہے۔ اس حالت میں آکسیجن کے جوہر ایک جال کی طرح اپنی جگہ جم جاتے ہیں، جبکہ ہائیڈروجن کے ذرات مائع کی طرح آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں۔ جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پانی کی یہ حالت ہماری توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، اور یہ نئی معلومات یورینس اور نیپچون جیسے سیاروں کی اندرونی بناوٹ اور ان کے مقناطیسی نظام کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
پانی کی ان تمام حیرت انگیز دریافتوں کے باوجود، کچھ ایسے انوکھے سوالات بھی ہیں جن کے سامنے آج کی جدید ترین ٹیکنالوجی بھی گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، کیا گرم پانی ٹھنڈے پانی کے مقابلے میں جلدی جم سکتا ہے؟ یہ دلچسپ معمہ سنہ 1963 میں اس وقت سامنے آیا جب اراستو ایمپیمبا نامی ایک طالب علم نے دیکھا کہ آئس کریم کا گرم آمیزہ بعض حالات میں ٹھنڈے آمیزے سے بھی پہلے جم گیا۔ سائنس کی دنیا میں اس حیرت انگیز مظاہرے کو "ایمپیمبا اثر” (Mpemba Effect) کہا جاتا ہے۔ جدید تجربات بتاتے ہیں کہ مخصوص حالات میں واقعی ایسا ہو سکتا ہے، مگر اس کے پیچھے پانی کا بھاپ بن کر اڑنا، برتن میں گرمی کا پھیلاؤ، محلول میں چھپی گیسیں، اور پانی کا نقطۂ انجماد سے نیچے چلے جانا جیسے کئی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان آج تک اس کی کوئی ایک اور حتمی وجہ دریافت نہیں کر سکے۔
اسی طرح، جب پانی کو منفی 113 ڈگری سینٹی گریڈ سے منفی 41 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان شدید ترین سرد ماحول میں رکھا جائے، تو وہ اتنی تیزی سے جمتا ہے کہ پلک جھپکنے میں غائب ہو جاتا ہے اور اس کا مشاہدہ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ سائنس کی دنیا میں اس پراسرار خطے کو "نو مینز لینڈ” (No-man’s land) یعنی ایک ایسا علاقہ کہا جاتا ہے جہاں جانا کسی کے بس میں نہ ہو۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک جدید تحقیق نے پہلی بار اس اندھیرے خطے میں جھانک کر پانی کے سالمات کا احوال معلوم کیا ہے۔ محققین کا ماننا ہے کہ اس شدید سردی میں پانی دراصل دو مختلف کثافتوں والی مائع حالتوں کے درمیان جھولے کی طرح جھولتا رہتا ہے، مگر یہ پورا کھیل اتنی تیزی سے ہوتا ہے کہ لیبارٹری میں اس کا مکمل نظارہ کرنا اب بھی ایک ادھورا خواب ہے۔
پانی کی شروعات کا سوال بھی اسی طرح الجھا ہوا اور پراسرار ہے۔ جب ہماری زمین بنی تو وہ آگ کا ایک دہکتا ہوا گولا تھی، جہاں سورج کی شدید گرمی اور نزدیکی کی وجہ سے پانی کا ٹھہرنا ناممکن تھا۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ہمارے یہ بڑے بڑے سمندر کہاں سے آئے؟ پرانا نظریہ یہ تھا کہ شاید برفیلے شہابِ ثاقب اور دُم دار تارے زمین سے ٹکرائے ہوں گے اور اپنے ساتھ پانی لائے ہوں گے، مگر جدید تحقیق اور سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ اس کام میں قدیم سیارچوں اور خلائی مادے کا بھی بڑا ہاتھ رہا ہو گا۔ پیرس آبزرویٹری کے سائنس دانوں نے اس سلسلے میں ایک نیا خیال پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق جب نظامِ شمسی بن رہا تھا، تو اس وقت سیارچوں کی برف بھاپ بن کر اندرونی سیاروں تک پہنچی اور زمین نے اس بھاپ کو اپنے اندر جذب کر لیا۔ یہ بات کسی اتفاق کے بجائے ایک قدرتی عمل کے زیادہ قریب معلوم ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آج آپ کے گلاس میں موجود پانی کا قطرہ دراصل سورج کے بننے سے بھی پہلے کی کوئی امانت ہے۔
پانی کی ان تمام دلکش خصوصیات کے باوجود، انسان نے قدرت کے اس انوکھے معجزے کے ساتھ ایک سنگین اور خطرناک مذاق کیا ہے۔ عالمی جائزوں کے مطابق، ہر سال دنیا بھر میں پیدا ہونے والے پلاسٹک کچرے کا ایک بہت بڑا حصہ ہمارے سمندروں کی نذر ہو جاتا ہے۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اب ہمارا پینے کا پانی پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات کا سب سے بڑا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ وہی پانی ہے جو لاکھوں سالوں سے زمین پر چکر کاٹ رہا ہے، جو کبھی ڈائنوسار کے جسم میں دوڑتا تھا، اور جو کل ہماری آنے والی نسلوں کی پیاس بجھائے گا۔ یاد رکھیے کہ زمین پر پانی کی کل مقدار کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ صرف اپنا روپ بدلتی ہے، لیکن انسانوں کے استعمال کے لیے دستیاب میٹھا اور صاف پانی بہت ہی محدود ہے۔ آج جو زہر ہم خود اپنے ہاتھوں سے دریاؤں اور سمندروں میں انڈیل رہے ہیں، کل وہی زہر گھوم پھر کر ہمارے اپنے ہی گلاس میں واپس آ سکتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ جس کائناتی راز کو آپ شیشے کے گلاس میں تلاش کرتے ہیں، اس کا ایک بہت بڑا حصہ خود آپ کے اندر بھی دھڑک رہا ہے۔ ایک عام انسانی جسم کا اوسطاً ساٹھ فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ آپ کا دماغ، آپ کی رگوں میں دوڑتا خون، آپ کی آنکھوں کے آنسو اور آپ کے گہرے احساسات، سب اسی جادوئی مائع کے احسان مند ہیں۔ انسان خود پانی کا بنا ہوا ایک چلتا پھرتا معمہ ہے، ایک ایسا معمہ جو شاید آسمان کے تاروں سے بھی قدیم ہے اور جو ہماری رگوں میں رواں ہے۔ اگلی بار جب آپ پانی کا ایک گھونٹ لیں، تو ایک پل کے لیے ضرور ٹھهریں۔ آپ صرف اپنی پیاس نہیں بجھا رہے، بلکہ کائنات کے اس عظیم اور پراسرار سالماتی راز کو محسوس کر رہے ہیں جس نے زمین پر زندگی کو ممکن بنایا اور بڑی بڑی تہذیبوں کو جنم دیا۔ پانی کو بچانا صرف ماحول کی ذمہ داری نہیں، بلکہ اپنے وجود کو مٹنے سے بچانے کی جنگ ہے، کیونکہ جب زمین پر پانی کا آخری قطرہ بھی زہر بن جائے گا، تو کوئی دوسرا سیارہ ہمیں بچانے نہیں آئے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے