कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بے حسی، مطلب پرستی اور بکھرتا ہوا معاشرہ

(ایک فکری و اصلاحی جائزہ)

ازقلم:- صحافی محمد احسان سر
ملکاپور، ضلع بلڈھانہ، مہاراشٹر

ہر دور کی اپنی آزمائشیں ہوتی ہیں، مگر موجودہ عہد کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ ہے کہ انسان ترقی کی دوڑ میں تو بہت آگے نکل گیا، لیکن انسانیت کے بنیادی اوصاف پیچھے رہ گئے۔ مادّی ترقی، جدید سہولتیں اور تیز رفتار زندگی نے بظاہر ہمارے معیارِ زندگی کو بلند کیا، مگر دلوں کے فاصلے بڑھا دیے۔ بے حسی، مطلب پرستی، خود غرضی، عدم برداشت اور رشتوں میں سرد مہری اب محض انفرادی کمزوریاں نہیں رہیں بلکہ اجتماعی رویوں کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں. یہی وہ خاموش زہر ہے جو معاشرے کی بنیادوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے.
آج انسان کی پہچان اس کے کردار، اخلاق اور اخلاص سے کم اور اس کی حیثیت، دولت اور مفاد سے زیادہ کی جانے لگی ہے. رشتوں کی مضبوطی کا معیار محبت، وفاداری اور ایثار کے بجائے ذاتی فائدہ بن چکا ہے. جب تک کسی سے مفاد وابستہ ہو، تعلق قائم رہتا ہے، اور جیسے ہی فائدہ ختم ہو، محبت، خلوص اور قربت بھی دم توڑ دیتی ہے. یہی طرزِ فکر خاندانوں کو تقسیم، دوستیوں کو کمزور اور معاشرے کو انتشار کی طرف لے جا رہی ہے.
افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ یہ بے حسی صرف اجنبیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ والدین، اولاد، بہن بھائیوں، عزیز و اقارب اور پڑوسیوں کے درمیان بھی اس کے اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں. ایک ہی گھر میں رہنے والے ایک دوسرے کے دکھ درد سے بے خبر ہیں. بزرگ تنہائی کا شکار ہیں، نوجوان ذہنی دباؤ میں مبتلا ہیں، اور بچوں کی تربیت اس ماحول میں ہو رہی ہے جہاں محبت سے زیادہ مادّیت کی اہمیت سکھائی جا رہی ہے.
اسلام نے جس معاشرے کا تصور پیش کیا، اس کی بنیاد اخوت، ہمدردی، ایثار، عدل اور رحم پر رکھی گئی ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں صلہ رحمی، حسنِ سلوک، عفو و درگزر اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی بار بار تلقین کرتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے. یہ مختصر مگر جامع تعلیم اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ایمان کا حسن صرف عبادات سے نہیں بلکہ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک، خیر خواہی اور محبت سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے عبادات کو تو اہمیت دی، مگر اخلاق، برداشت اور معاشرتی ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال دیا، حالانکہ دین دونوں کا حسین امتزاج ہے. اگر ہم اس بگاڑ کی وجوہات پر نظر ڈالیں تو کئی عوامل سامنے آتے ہیں۔ مادہ پرستی نے انسان کو ہر چیز کا پیمانہ بنا دیا ہے. سوشل میڈیا کا غیر متوازن استعمال حقیقی تعلقات کو کمزور کر رہا ہے۔ مصروف طرزِ زندگی نے ملاقاتوں کو رسمی اور گفتگو کو مختصر کر دیا ہے. برداشت کی کمی نے معمولی اختلافات کو شدید تنازعات میں بدل دیا ہے، جبکہ دینی و اخلاقی تعلیمات سے دوری نے دلوں سے خوفِ خدا اور احساسِ ذمہ داری کو کمزور کر دیا ہے. اس کے نتیجے میں حسد، جلن، بدگمانی، نفرت اور انتقام جیسے منفی جذبات فروغ پا رہے ہیں. اعتماد کا رشتہ ٹوٹ رہا ہے، خاندان منتشر ہو رہے ہیں اور ذہنی سکون ایک نایاب نعمت بنتا جا رہا ہے. اگر یہی روش برقرار رہی تو آنے والی نسلیں مضبوط خاندانی نظام، حقیقی محبت اور سماجی ہم آہنگی سے محروم ہو جائیں گی. تاہم مایوسی کسی مسئلے کا حل نہیں. اصلاح کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے. ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر فرد اپنی ذات کا احتساب کرے. اپنے گھروں میں محبت، احترام اور برداشت کا ماحول پیدا کیا جائے. والدین بچوں کو صرف اعلیٰ تعلیم ہی نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق بھی سکھائیں. رشتہ داروں سے تعلق جوڑا جائے، بیماروں کی عیادت، پڑوسیوں کی خبرگیری اور ضرورت مندوں کی مدد کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے. اختلافات کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے مکالمے، درگزر اور معافی کے ذریعے حل کیا جائے. تعلیمی اداروں، مذہبی مراکز، ذرائع ابلاغ اور سماجی تنظیموں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں اخلاقی اقدار، برداشت، رواداری، خدمتِ خلق اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں. ایک ایسا معاشرہ جہاں انسان، انسان کے لیے آسانی کا ذریعہ بن جائے، وہی حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ معاشرہ کہلا سکتا ہے. یاد رکھنا چاہیے کہ قوموں کی عظمت صرف بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی یا معاشی ترقی سے نہیں ناپی جاتی بلکہ ان کے اخلاق، کردار، باہمی اعتماد اور رشتوں کی مضبوطی سے پہچانی جاتی ہے،. اگر دلوں میں محبت، زبان پر سچائی، کردار میں دیانت اور رویوں میں رحم نہ ہو تو ظاہری ترقی بھی دیرپا نہیں رہتی. آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کا آغاز کریں.اپنے رویوں، اپنی گفتگو، اپنے معاملات اور اپنے تعلقات کا جائزہ لیں. کیونکہ معاشرے کی تبدیلی کسی ایک ادارے یا حکومت سے نہیں بلکہ ہر اس فرد سے شروع ہوتی ہے جو اپنے اندر خیر، محبت اور اخلاص پیدا کرنے کا عزم کر لیتا ہے. یہی وقت ہے کہ ہم بے حسی کو احساس میں، مطلب پرستی کو اخلاص میں، نفرت کو محبت میں اور دوریوں کو رشتوں کی مضبوطی میں بدلنے کی کوشش کریں
یہی ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے، قومی ضرورت بھی اور آنے والی نسلوں کے لیے بہترین سرمایہ بھی۔
(جاری ہے…)

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے