कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ابتدا کچھ بھی ہو، انجام ہی اصل ہے

تحریر:فضیل اختر قاسمی بھیروی

یہ ایمان افروز اور روح کو تڑپا دینے والی تحریر، علم و حکمت کے پیکر، حضرت مولانا مفتی محمد اسحاق نازکی قاسمی کشمیری صاحب دامت برکاتہم(استاذِ حدیث دارالعلوم رحیمیہ، بانڈی پورہ، کشمیر) نے از راہِ شفقت ارسال فرمائی۔ دل نے تڑپ کر گواہی دی کہ اس قیمتی پیغام کو ایک دلنشیں علمی و ادبی قبا پہنائی جائے، تاکہ دلوں کے قفل کھلیں اور فکر و نظر کو ایک نیا زاویہ ملے۔ اب آپ اس مختصر مگر لرزہ خیز داستان کو ایک مفصل، جامع اور بصیرت افروز اسلوب میں ملاحظہ فرمائیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کا سامان کریں۔
انسان کا دل بھی عجب شیشۂ خانہ ہے، جہاں لمحوں میں موسم بدلتے ہیں اور صدیوں کے سفر پر محیط ارادے چشمِ زدن میں راکھ ہو جاتے ہیں۔ کائنات کا سب سے بڑا سچ اور سب سے قیمتی سرمایہ *”ایمان”* ہے، مگر یہ وہ نعمت ہے جس پر مان نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ دلوں کا مالک وہ پروردگار ہے جو رات کو دن اور دن کو رات کرنے پر قادر ہے۔ ہم آج جس چوکھٹ پر سجدہ ریز ہیں، کل وہاں سر اٹھانے کی مہلت رہے گی یا نہیں، اس کا فیصلہ صرف انجام کی گھڑی پر منحصر ہے۔ انسان اپنی بساط پر اچھلتا ہے، علم کے انبار لگاتا ہے، یا کفر کی وادیوں میں بھٹکتا پھرتا ہے، لیکن اسے خبر نہیں ہوتی کہ غیب کے پردے کے پیچھے مقدر کا قلم کیا لکھ رہا ہے۔ قرآنِ کریم نے دلوں کے اس تغیر اور ہدایت و گمراہی کے اس راز کو کتنے جلال کے ساتھ بیان فرمایا ہے: *يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِين*
(ترجمہ: اللہ اس (مثال) سے بہتوں کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے، اور اس سے وہ صرف فاسقوں ہی کو گمراہ کرتا ہے)۔ (سورہ البقرہ: 26)
اسی مفہوم کو علامہ اقبال نے کیا خوبصورت اور لافانی زبان دی ہے:
عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے!

عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹُوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے
اس کی تشریح خود بالِ جبرئیل غزلیات حصہ اول میں موجود ہے۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
آدمِ خاکی کا عروج ایک شاندار مستقبل کا پتہ دے رہا ہے، ستارے بھی جب اس کا خیال کرتے ہیں تو سہم جاتے ہیں۔ انسان جو جنت سے نکالا گیا تھا اور آسمان کا گویا ایک ٹوٹا ہوا ستارہ تھا ایک روز اسی ماہ کامل کی طرح روشن اور بلند ہونے والا ہے جس کے سامنے ستارے ماند پڑ جاتے ہیں۔ مستقبل کا انسان کامل وہ انسان ہو گا جو خدا کی محبت کو درجہ کمال پر پہنچائے گا اور عملی زندگی میں خدا کی صفات حسن و کمال کو آشکار کرے گا۔ جس سے انسانی معاشرہ تمام نقائص سے پاک ہو جائے گا۔ یہی انسان کا ماہِ کامل بننا ہے جس کے خیال سے ستارے بھی سہمے جاتے ہیں۔ یہی اس کی فطرت ہے جسے وہ بالآخر پا کر رہے گا۔
کتاب: بالِ جبریل (غزلیات حصہ اول)
غزل نمبر ۶۔ شعر نمبر ۶
آئیے اب اسی تناظر میں تاریخِ جدید کے اس لرزہ خیز واقعے کی طرف چلتے ہیں، جہاں ایک تصویر کے دو رخ ہمیں زندگی اور موت کا سب سے بڑا سبق سکھاتے ہیں۔
*ایک تصویر، دو چہرے، دو انجام*
اس سنسنی خیز تصویر کے دائیں اور بائیں جانب دو ایسے چہرے ہیں، جن کی زندگی کی لکیریں جب آپس میں ٹکرائیں تو عقل انسانی دنگ رہ گئی۔ یہ دو مختلف راستوں کے مسافر تھے، جن کا آغاز کچھ اور تھا اور انجام کچھ اور!
*پہلا رخ: کفر کے اندھیرے سے ہدایت کا اجالا (جوزف ایسٹس)*
تصویر کے دائیں جانب مسکراتا ہوا چہرہ امریکہ کے ایک کٹر، متعصب اور عیسائیت کے مبلغ *جوزف ایسٹس (Joseph Estes)* کا ہے۔ یہ وہ شخص تھا جس کا اوڑھنا بچھونا اسلام کی مخالفت اور مسلمانوں کی تضحیک تھا۔ وہ دینِ حنیف پر طنز کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے مرکزِ عقیدت، کعبۃ اللہ کی شان میں بھی گستاخانہ جملے کستا اور کہتا: *مسلمان صحرا میں پڑے ایک سیاہ صندوق کی پوجا کرتے ہیں۔* (معاذ اللہ)
لیکن قدرت کا کرنا دیکھیے! جب دلوں کو پھیرنے والے رب کا حکم ہوا، تو اس کٹر عیسائی کا سامنا ایک مصری داعی سے ہو گیا۔ حق کی آواز میں وہ مقناطیسیت تھی کہ جوزف کے دل کا کفر پگھلنے لگا۔ جس اسلام کا وہ دشمن تھا، اسی کے دامنِ رحمت میں پناہ گزیں ہو گیا۔ وہ جوزف سے *”یوسف ایسٹس”* بن گیا اور پھر امریکہ کی دھرتی پر اسلام کا وہ روشن چراغ بنا جس کی روشنی میں ہزاروں پیاسی روحوں نے کلمۂ حق پڑھا۔
*دوسرا رخ: علم کے عروج سے الحاد کا زوال (عبداللہ القصیمی)*
اب تصویر کے بائیں جانب دیکھیے، یہاں بلادِ حرمین کا ایک مایہ ناز سپوت، *عبداللہ القصیمی* کھڑا ہے۔ یہ وہ شخص تھا جس کی زبان اور قلم سے اسلام کے حق میں وہ دلائل نکلتے تھے کہ باطل کانپ اٹھتا تھا۔ اس کے علم و فضل کا یہ عالم تھا کہ اس دور کے اکابرین نے اسے *ابنِ تیمیہ دوم* کا لقب دیا تھا۔
اس نے جب اپنی شہرہ آفاق کتاب *”الصراع بين الإسلام والوطنية”* (اسلام اور نیشنلزم کا ٹکراؤ) لکھی، تو عالمِ اسلام جھوم اٹھا۔ حرمِ مکی کے امام نے اس کی مدح میں قصیدہ پڑھا اور اس وقت کے نامور مورخ و عالم صلاح الدین منجد نے یہاں تک نقل کیا کہ بعض اہلِ علم کہتے تھے: *قصیمی نے یہ کتاب لکھ کر گویا اپنی جنت کا مہر ادا کر دیا ہے!* لیکن… ہائے رے انسان کی کم نصیبی اور مقدر کا ہولناک الٹ پھیر! 1980ء کے عشرے میں اس کی زندگی نے ایسا پلٹا کھایا کہ عقل حیران رہ گئی۔ بیروت کے سفر میں ایک عیسائی لڑکی کے حسن کے سحر نے اس کے ایمان کی بنیادیں ہلا دیں۔ آہستہ آہستہ اس کے افکار زہر آلود ہوتے گئے، یہاں تک کہ جس قلم سے کبھی رحمن کی توحید ٹپکتی تھی، اسی قلم سے اس نے الحاد اور کفر اگلنا شروع کر دیا۔
اس نے کتاب لکھی: *”يكذبون لكي يروا الإله جميلا”* *(وہ جھوٹ بولتے ہیں تاکہ معبود کو خوبصورت دیکھیں – استغفراللہ)*۔ پھر اس نے حد پار کرتے ہوئے اپنی دوسری کتاب *”هذي هي الأغلال”* *(یہی وہ زنجیریں ہیں)* میں نماز، روزہ اور اسلامی عبادات کو گلے کا طوق اور بیڑیاں قرار دے دیا۔ آخر کار اس نے سرِعام اللہ کے وجود سے انکار (الحاد) کا اعلان کر دیا، اور اسی کفر و الحاد کی حالت میں 1996ء میں وہ عبرت کا نشان بن کر اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
یہ ہیں دلوں کو پھیرنے والی اس لم یزل ذات کے بے مثال کمالات۔ جو اسلام کا مذاق اڑاتا تھا، خدا نے اسے اپنے دین کا نقیب اور داعی بنا دیا؛ اور جو اسلام کا وکیل اور چوکیدار تھا، وہ نفس کی ایک ٹھوکر سے کفر کے گھڑے میں جا گرا۔ سچ فرمایا تھا تاجدارِ مدینہ، احمدِ مجتبیٰ ﷺ نے کہ: *إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ*
(اعمال کا دارومدار تو انجام اور خاتمے پر ہے)۔
اس لیے میرے عزیزوں! نہ اپنے علم پر ناز کرو، نہ اپنی عبادتوں پر اترواؤ۔ یہاں کب بازی پلٹ جائے، کوئی نہیں جانتا۔ آستانِ الٰہی پر ہر وقت لرزاں و ترساں رہنا ہی بندگی کا حسن ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
عجب کیا ہے اگر بگڑی ہوئی تقدیر بن جائے
نگاہِ مصطفیٰؐ جس پر پڑے، اکسیر بن جائے
خاتمہ بالخیر ہو، یہ ہے اصل جادوگری
ورنہ یہاں ہر کوئی دعویِٰ تقویٰ میں پیر بن جائے!
حضورِ اکرم ﷺ خود بھی ہمیشہ ایمان پر خاتمے کی فکر فرماتے اور جامع الحدیث للسیوطی (18034) کی روایت کے مطابق یہ التجا فرماتے: *اے اللہ! مجھے مرتے وقت ایمان کی حجت کی تلقین نصیب فرمایئے تاکہ زبان پر کلمۂ حق جاری رہے۔*
یہ گنہگار بھی رب کے حضور دعا گو ہے کہ رب کریم ہمیں اپنی ہدایت کے سائے میں رکھ۔ ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم فرما۔ جب تک زندہ رکھ، اسلام پر زندہ رکھ، اور جب اس دارِ فانی سے کوچ کا وقت آئے، تو زبان پر کلمۂ طیبہ جاری ہو، سینے میں ایمان کی شمع روشن ہو اور انجام بالخیر ہو۔
آمین، یا رب العالمین!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے