कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اللہ صرف ممکنات ہی کا نہیں، ناممکنات کا بھی رب ہے،کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے

از قلم: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306

اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی کامل، مطلق اور بے مثال ہے کہ اس کی قدرت کسی سبب، قانون یا ظاہری امکان کی پابند نہیں۔ انسان کی عقل جہاں رک جاتی ہے، وہاں سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے جلوے شروع ہوتے ہیں۔ دنیا کے تمام قوانین اسی کے بنائے ہوئے ہیں، اس لیے وہ جب چاہے ان قوانین کے مطابق کام کرے اور جب چاہے اپنی حکمت کے تحت ان سے ہٹ کر ایسے امور ظاہر فرمائے جنہیں انسان ناممکن سمجھتا ہے۔ یہی معجزہ ہے اور یہی ربوبیت کا کامل اظہار ہے۔
قرآن مجید کا مطالعہ اس حقیقت کو روزِ روشن کی طرح واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء علیہم السلام کے ذریعے بارہا ایسے معجزات ظاہر فرمائے جنہوں نے عقلوں کو حیران اور دلوں کو ایمان سے منور کر دیا۔ ان معجزات کا مقصد محض حیرت پیدا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو یہ یقین دلانا ہے کہ اس کائنات کا مالک و مختار ہر چیز پر قادر ہے، اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں اور اس کی مشیت کے سامنے ناممکن کا کوئی وجود نہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ حضرت سارہؑ بڑھاپے اور بانجھ پن کے باوجود حضرت اسحاق علیہ السلام کی ماں بنیں۔ ظاہری اسباب کے اعتبار سے یہ ناممکن تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے اسے ممکن بنا دیا تاکہ دنیا جان لے کہ عمر، بیماری اور بانجھ پن اللہ کے فیصلے کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔
حضرت مریم علیہا السلام بغیر کسی شوہر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ماں بنیں۔ جب انہوں نے تعجب کا اظہار کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے لیے یہ کوئی مشکل نہیں۔ وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف فرماتا ہے: "کن” یعنی "ہو جا”، اور وہ چیز "فیکون” یعنی "ہو جاتی ہے۔”
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈالا گیا، مگر آگ نے جلانے کے بجائے اللہ کے حکم سے ٹھنڈی اور سلامتی والی صورت اختیار کرلی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آگ اپنی ذات میں مؤثر نہیں بلکہ اللہ کے حکم کی تابع ہے۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے چھری چلائی گئی، لیکن اللہ تعالیٰ نے چھری کی تاثیر کو روک دیا۔ جس دھار سے روزانہ جانور ذبح ہوتے ہیں، وہ ایک نبی کے گلے پر اللہ کے حکم کے بغیر اثر انداز نہ ہوسکی۔ اس سے ثابت ہوا کہ کاٹنے والی چھری نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی نے نگل لیا، مگر نہ انہیں ہضم کیا اور نہ ان کی جان کو نقصان پہنچا۔ سمندر کی گہرائیوں اور مچھلی کے پیٹ میں بھی اللہ تعالیٰ کی حفاظت ان کے ساتھ رہی۔
حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے مطالبے پر اللہ تعالیٰ نے پتھر سے اونٹنی نکال کر دکھا دی۔ بے جان پتھر زندہ مخلوق کے ظہور کا ذریعہ بن گیا تاکہ انسان جان لے کہ خالق کے سامنے مادہ اور اسباب کی کوئی پابندی نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے مبارک زمانے میں چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا۔ قرآن مجید نے اس معجزے کو بیان کرکے واضح کردیا کہ آسمان کے عظیم ترین اجرام بھی اپنے خالق کے حکم کے تابع ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے گہوارے میں گفتگو کی۔ ایک نومولود بچے کا حکمت اور نبوت کی زبان میں بولنا اس حقیقت کا اعلان تھا کہ زبان، عقل، شعور اور قوتِ گویائی بھی اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنا عصا سمندر پر مارا تو سمندر دو حصوں میں تقسیم ہوگیا اور اس کے درمیان خشک راستے بن گئے۔ پانی جیسی سیال چیز بھی اپنے رب کے حکم سے راستہ دینے پر مجبور ہوگئی۔
اسی طرح تاریخِ نبوت کا ایک عظیم واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور پرورش کا ہے۔ فرعون نے خواب کی بنا پر یہ فیصلہ کیا کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کو قتل کردیا جائے تاکہ اس کے اقتدار کو خطرہ نہ رہے۔ اس نے ہزاروں معصوم بچوں کو قتل کروا دیا، لیکن جس بچے سے اسے خطرہ تھا، اسی موسیٰ علیہ السلام کی پرورش اللہ تعالیٰ نے فرعون کے اپنے ہی محل میں، اسی کی نگرانی اور شاہانہ ماحول میں کروادی۔ یہ واقعہ اعلان کرتا ہے کہ انسان لاکھ تدبیریں کرے، مگر فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ کا نافذ ہوتا ہے۔
اسی حقیقت کو شاعر نے نہایت خوبصورتی سے یوں بیان کیا ہے:
مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے
اگر قرآن مجید میں ناممکن کو ممکن بنانے کی سب سے دل نشین مثال تلاش کی جائے تو حضرت یوسف علیہ السلام کی پوری زندگی اس کی روشن دلیل ہے۔ سورۂ یوسف دراصل امید، صبر، توکل اور اللہ کی تدبیر کا زندہ پیغام ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے حسد میں آکر انہیں راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا۔ پہلے قتل کا ارادہ کیا، پھر ایک گہرے کنویں میں ڈال دیا۔ بظاہر یہ ان کی زندگی کا خاتمہ معلوم ہوتا تھا، مگر حقیقت میں یہی کنواں ان کی عظمت کی پہلی سیڑھی بن گیا۔
اللہ تعالیٰ نے ایک قافلہ بھیجا۔ پانی نکالنے کے لیے ڈول ڈالا گیا تو یوسف علیہ السلام باہر آگئے۔ جس کنویں کو موت کا راستہ سمجھا جا رہا تھا، وہی زندگی کی نئی شروعات بن گیا۔
قافلے والوں نے انہیں مصر میں غلام کے طور پر فروخت کردیا۔ بظاہر غلامی ذلت تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے اسی غلامی کو عزت کا ذریعہ بنایا اور انہیں عزیزِ مصر کے محل تک پہنچا دیا۔
پھر آزمائش کا ایک اور مرحلہ آیا۔ عزیزِ مصر کی بیوی نے گناہ کی دعوت دی، مگر یوسف علیہ السلام نے اللہ کے خوف سے انکار کردیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ دنیا کی نظر میں یہ ناکامی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت میں یہی کامیابی کی تمہید تھی۔
جیل میں انہوں نے قیدیوں کے خوابوں کی تعبیر بیان کی۔ کئی برس بعد بادشاہ نے خواب دیکھا، جس کی صحیح تعبیر صرف حضرت یوسف علیہ السلام نے بیان کی۔ یہی خواب ان کی رہائی، عزت اور اقتدار کا سبب بن گیا۔
بادشاہ نے ان کی دیانت، علم اور حکمت کو دیکھ کر انہیں مصر کے خزانے کا نگران مقرر کردیا۔ جو شخص کبھی غلام تھا، وہ پورے ملک کی معیشت کا امین بن گیا۔ آخرکار وہی بھائی، جنہوں نے انہیں کنویں میں ڈالا تھا، مدد کے لیے ان کے سامنے کھڑے تھے، مگر انہوں نے انتقام لینے کے بجائے فرمایا:
﴿لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ﴾
’’آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔‘‘
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کنواں محل بن سکتا ہے، غلامی عزت میں بدل سکتی ہے، قید اقتدار کا راستہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ بندہ صبر، تقویٰ اور اللہ پر کامل بھروسا رکھے۔
یہ تمام واقعات ایک ہی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ اسباب مؤثر بالذات نہیں بلکہ مؤثرِ حقیقی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ آگ جلاتی ہے مگر اللہ چاہے تو نہیں جلاتی۔ چھری کاٹتی ہے مگر اللہ چاہے تو نہیں کاٹتی۔ پانی ڈبوتا ہے مگر اللہ چاہے تو راستہ بن جاتا ہے۔ مچھلی ہضم کرتی ہے مگر اللہ چاہے تو جائے پناہ بن جاتی ہے۔ کنواں موت نہیں بلکہ بادشاہت کی پہلی منزل بن جاتا ہے، اور دشمنوں کی سازشیں بھی کامیابی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ آج کا انسان ظاہری اسباب کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھا ہے۔ ملازمت کو رازق، ڈاکٹر کو شافی، تجارت کو غنی بنانے والی اور حکومت کو عزت دینے والی سمجھنے لگا ہے، حالانکہ یہ سب صرف ذرائع ہیں۔ رزق دینے والا اللہ ہے، شفا دینے والا اللہ ہے، عزت و ذلت کا مالک اللہ ہے اور تمام اسباب کا خالق بھی وہی ہے۔
مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اسباب اختیار کرتا ہے، مگر بھروسا اسباب پر نہیں بلکہ مسبب الاسباب پر کرتا ہے۔ جب تمام راستے بند ہوجائیں، امید کی ہر کرن بجھ جائے اور دنیا ناممکن کا فتویٰ دے دے، تب بھی بندۂ مومن کا یقین متزلزل نہیں ہوتا، کیونکہ وہ اپنے رب کے اس فرمان پر ایمان رکھتا ہے:
﴿إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
’’اس کا معاملہ تو بس یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے: ‘ہو جا’، پس وہ ہوجاتی ہے۔‘‘(سورۂ یٰس: 82)
یہی "کن فیکون” کا عقیدہ مسلمان کو ناامیدی سے امید، کمزوری سے قوت اور مایوسی سے یقین کی طرف لے جاتا ہے۔ جس رب نے بانجھ بڑھیا کو ماں بنایا، کنواری کو اولاد عطا کی، آگ کو ٹھنڈا کردیا، چھری کی دھار کو بے اثر کردیا، مچھلی کے پیٹ کو جائے پناہ بنا دیا، پتھر سے اونٹنی نکال دی، چاند کو شق کردیا، شیر خوار بچے کو گویا کردیا، سمندر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا، فرعون کے محل میں موسیٰ علیہ السلام کی پرورش فرمائی اور یوسف علیہ السلام کو کنویں سے اٹھا کر مصر کی وزارت تک پہنچا دیا، وہی رب آج بھی زندہ ہے، ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔
وہ صرف ممکنات ہی کا نہیں، ناممکنات کا بھی رب ہے۔ اس کی قدرت کے سامنے ناممکن کا کوئی وجود نہیں، کیونکہ "کن” کہنے والا رب ہر چیز پر قادرِ مطلق ہے۔ یہی ایمان کی روح ہے، یہی توکل کی بنیاد ہے اور یہی قرآن کا ابدی پیغام ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے