कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ماہ صیام ہماری زندگی میں تبدیلی کاضامن

تحریر:ڈاکٹرمحمدسعیداللہ ندویؔ

ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم لفظ ’’صوم‘‘ جسے قرآن حکیم میں ایک خاص عبادت کیلئے مخصوص کیا گیا ہے، کے لغوی معنی متعین کریں اور پھر دیکھیں کہ اس کا مفہوم کیا ہے۔ اس لفظ کا مادہ ص۔ و۔ م اور صوم کا لغوی معنی ہے’’کام سے رُک جانا‘‘ کسی جگہ پر ٹھہر جانا۔ کھانے پینے، گفتگو کرنے اور چلنے سے رک جانے کو بھی صوم کہتے ہیں۔ لغوی معنی کے لحاظ سے ’’صوم‘‘ کا اطلاق صرف روزے پر ہی نہیں ہوتا بلکہ عربی میں کہتے ہیں۔ صامت الریح ہوا تھم گئی۔ صام النھار ظہر کا وقت ہو گیا (کیونکہ اس وقت آفتاب نصف النہار پر رکا ہوتا ہے۔) اس سے پھر ’’صامت الشمس‘‘ بھی کہا جاتا ہے یعنی سورج نصف النہار پر مرکوز ہے۔ لہٰذا ’’صوم الصائم‘‘ سے مراد کھانے پینے اور ان تمام امور سے باز آجانا ہے جن سے اسے منع کیا گیا ہو۔ گفتگو سے رک جانے کو بھی ’’صوم‘‘ ہی کہتے ہیں۔ خداوند کریم نے اپنے بندوںکیلئے عبادات کے جتنے بھی طریقے بتائے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور پوشیدہ رکھی ہے۔ نماز خدا کے وصال کا ذریعہ ہے۔ اس میں بندہ اپنے معبودِ حقیقی سے گفتگو کرتا ہے۔اسی طرح روزہ بھی خدا تعالیٰ کی رضاحاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
روزہ کی حکمت تقویٰ کا باعث ہے جس کی تفصیل یوں ہے کہ روزہ دوسری تمام عبادات سے بوجوہ منفرد ہے کہ یہ خدا اور بندے کے درمیان راز و نیاز کا معاملہ ہے جبکہ دوسری تمام عبادات مثلاً نماز، حج اور قربانی وغیرہ ظاہری عبادات ہیں جو ظاہری حرکات و سکنات سے بے نیاز ہونے کے باعث ریا جیسی بیماری سے جو کہ بڑی بڑی عبادتوں پر پانی پھیر سکتی ہے۔ محفوظ و مامون ہے اس لئے کہ روزہ دار کے روزہ کی حقیقت (کہ وہ روزے سے ہے یا نہیں) خداوند تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر ایک آدمی وضو کرتے ہوئے تین دفعہ کلی کرتا ہے۔ اس وقت پانی اس کے منھ میں ہوتا ہے۔ وہ چاہے تو اس پانی کا اکثر حصہ اپنے حلق میں اتار سکتا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس کی اس حرکت کو نہیں دیکھ سکتی۔ لیکن ایک چیز اسے پانی کا ایک قطرہ بھی شدید پیاس کے باوجود حلق میں پانی اتارنے سے باز رکھتی ہے اور یہ چیز خدا وند کریم کا خوف ہے جس کا دوسرا نام تقویٰ ہے کہ محض اللہ تعالیٰ کے ڈر سے اپنی خواہش پر اس نے غلبہ پا لیا اور یہ تقویٰ انسان کی ساری زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے مثلاً اگر وہ دُکاندار ہے تو میزان میں کمی بیشی کا مرتکب نہ ہو گا اگر کپڑے کا تاجر ہے تو ماپ میں ہیرا پھیری کی خواہش کا گلا گھونٹ دے گا۔ اگر کسی میڈیکل ہال کا مالک ہے تو دواؤں پر ناجائز منافع حاصل کر کے حصولِ زر کی خواہش کا احترام نہ کرے گا اور اگر ڈاکٹر ہے تو پانی میں رنگ ملا کر غریب مریضوں کا خون چوسنے اور اس طرح زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کی خواہش کا حصول اس کے لئے ناممکن ہو گا۔ علیٰ ہذا القیاس روزہ انسان کے نفس کی اس طرح سے تربیت کرے گا کہ ہر لمحہ خوفِ خدا اس کو گناہوں سے باز رکھے گا اور برضا الٰہی اس کا مقصود ہو گی جو خداوند کریم سے اس کی قربت کا باعث بنے گی۔
روزہ سے جہاں انسان کی باطنی طہارت اور روحانی صحت کا التزام کیا گیا ہے وہاں اس کی جسمانی صحت اور نظامِ انہضام کی خرابیوں کا علاج بھی اس میں موجود ہے۔پھر یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کثرت خوری اور وقت بے وقت کھانا معدے کی امراض کا موجب ہیں۔ اس سے جسمانی نشوونما صحیح طریق پر نہیں ہوتی بلکہ غیر متناسب غذا اور کھانے کے غیر متعین اوقات کی بدولت اکثر لوگ لبِ گور پہنچ جاتے ہیں۔ سال بھر کی بدپرہیزیوں کو روکنے اور صحت و تندرسی کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کیلئے یہ لازم تھا کہ انسانوں کو تیس روز تک پابند کیا جاتا کہ وہ متعینہ وقت پر کھائیں پئیں اور مقررہ وقت کے بعد کھانے پینے سے ہاتھ کھینچ لیں۔ یہ کیسی حکمت ہے کہ عبادات کے ساتھ ساتھ انسان جسمانی صحت بھی حاصل کرتا ہے اور روح کی بالیدگیوں کے ساتھ ساتھ اس کی جسمانی صحت بتدریج کمال حاصل کرتی جاتی ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ رمضان میں اکثر لوگوں کی جسمانی بیماریاں محض کھانے کے اوقات کی پابندی کی بنا پر خود بخود دور ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ بڑے بڑے مفسرین اور ائمہ مجتہدین نے روزے کی دوسری حکمتوں کے ضمن میں حکمتِ صحتِ جسمانی کا ذکر بھی کیا ہے۔
جب ہم روزے کی فضیلت کا ذِکر کرتے ہیں تو دو چیزیں ذہن میں اُبھرتی ہیں۔ بعض لوگ رمضان کی فضیلت کو ہم معنیٰ سمجھتے ہیں، لیکن اگر بنظرِ غائر قرآن وحدیث کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ماہِ رمضان کی فضیلت ایک الگ پہلو ہے اور روزے کی فضیلت ایک جدا موضوع ہے۔ ہم رمضان کی فضیلت کو کسی اور وقت کے لئے اُٹھا رکھتے ہیں۔ یہاں صرف روزے کی فضیلت یا روزہ رکھنے والے کی عزت و عظمت پر بحث کرتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ جس طرح ’’رمضان‘‘ تمام مہینوں سے افضل ہے اسی طرح روزہ بھی عبادات میں افضل ترین نہیں تو افضل تر ضرور ہے۔
لہٰذا ہمیں اسوہ رسولؐپر عمل کرتے ہوئے اس ماہ کی فضیلتوں اور برکتوں سے اپنے دامن کو بھر لینا چاہیے،اس انوارات اورفیضانات سے اپنے قلب کو منور کرلینا چاہیے تاکہ روز محشر ہمیں بھی صائمین، ذاکرین اور خاشعین کی صفوں میں جگہ مل سکے اور نبی آخر الزماں ؐ کی شفاعت نصیب ہوسکے۔آمین یارب العالمین ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے