कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مکالمے سے یادوں تک : ایک ادبی سفر

تحریر:عرب شبانہ رضوان ۔ پونے

بذریعہ ڈاک ڈاکٹر نذیرؔ فتح پوری کی تازہ تصنیف "ادھو مہاجن بسملؔ کے نام پچاس خطوط” موصول ہوئی۔ یہ مجموعہ ان کی مکتوب نگاری کے سلسلے کی دسویں اہم کڑی ہے۔ ڈاکٹر نذیرؔ فتح پوری اردو ادب کے اُن معتبر ناموں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بیک وقت شاعری، تحقیق، تنقید اور نثر کے مختلف میدانوں میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ 1970ء سے جاری ان کا ادبی سفر اب ایک مضبوط اور ہمہ گیر روایت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ان کی 120 سے زائد تصانیف نہ صرف ان کی فکری وسعت کی آئینہ دار ہیں بلکہ ان کی انفرادیت اور تخلیقی تنوع کی بھی غماز ہیں۔ پونے سے شائع ہونے والا ان کا سہ ماہی جریدہ "اسباق” گزشتہ چار دہائیوں سے ادبی شعور کی آبیاری میں مصروف ہے، جب کہ ان کی علمی و ادبی خدمات پر متعدد کتابوں کی تصنیف ان کے اثرات کی ہمہ گیری کا واضح ثبوت ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ڈاکٹر نذیرؔ فتح پوری محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک فعال ادبی روایت اور فکری دبستان کی حیثیت رکھتے ہیں۔
مکتوب نگاری کے حوالے سے عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ محض جذبات کے اظہار کا ایک سادہ وسیلہ ہے، مگر اس کتاب کا مطالعہ اس خیال کو وسعت اور گہرائی عطا کرتا ہے۔ یہاں مکتوب نگاری ایک زندہ ادبی صنف کے طور پر سامنے آتی ہے، جس میں سادگی اور خلوص کے ساتھ ساتھ فکری بالیدگی بھی شامل ہے۔ جب یہی خطوط کتابی صورت میں یکجا ہوتے ہیں تو وہ محض ذاتی کیفیات کے اظہار تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک عہد کی فکری، تہذیبی اور سماجی جہات کو بھی اپنے اندر سمو لیتے ہیں۔ یوں یہ خطوط محض نجی مکالمہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر ادبی اور تاریخی شعور کا مظہر بن جاتے ہیں۔
اردو ادب کی روایت میں مکتوب نگاری کو ہمیشہ ایک معتبر مقام حاصل رہا ہے۔ غالبؔ، اقبالؔ، آزادؔ اور سرسیدؔ کے خطوط اس صنف کی فکری اور فنی عظمت کے روشن مظاہر ہیں۔ ڈاکٹر نذیرؔ فتح پوری کا یہ مجموعہ اسی درخشاں روایت کا تسلسل معلوم ہوتا ہے، جو نہ صرف اس ورثے کو زندہ رکھتا ہے بلکہ اسے عصرِ حاضر کے تناظر میں ایک نئی معنویت بھی عطا کرتا ہے۔ اس مجموعے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی فرضی یا علامتی کردار کے نام نہیں بلکہ ایک حقیقی شخصیت، ادھو مہاجن بسملؔ کے نام تحریر کیے گئے خطوط پر مشتمل ہے، جس سے اس کی صداقت اور اثر انگیزی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
کتاب کی اشاعت کے فوراً بعد ادھو مہاجن بسملؔ کا ناگہانی انتقال اس مجموعے کو ایک غیر متوقع اور گہری معنویت سے ہمکنار کر دیتا ہے۔ جو خطوط کبھی ایک جیتے جاگتے مکالمے کی صورت تھے، وہ اب ایک خاموش نوحہ اور بچھڑ جانے کی دائمی بازگشت میں ڈھل گئے ہیں۔ یہ سانحہ ان تحریروں کو محض ادبی دستاویز نہیں رہنے دیتا بلکہ انہیں یادوں کے ایک ایسے خزینے میں بدل دیتا ہے جہاں محبت، وابستگی اور فقدان کی شدت یکجا ہو جاتی ہے۔
ادھو مہاجن بسملؔ اس مجموعے کے مرکزی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی سب سے قابلِ ذکر خصوصیت یہ ہے کہ غیر اردو داں ہونے کے باوجود انہوں نے اردو زبان سے گہری وابستگی قائم کی۔ یہ وابستگی محض رسمی یا سطحی نہیں تھی بلکہ اس میں ایک سنجیدہ تخلیقی شعور کارفرما تھا۔ انہوں نے نہ صرف اردو سیکھی بلکہ اس میں اپنی ایک الگ شناخت بھی قائم کی۔ ان کا یہ سفر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ زبانیں کسی مخصوص مذہب، نسل یا جغرافیے کی پابند نہیں ہوتیں بلکہ دل کی سچی رغبت اور مسلسل محنت سے اپنائی جاتی ہیں۔
ڈاکٹر نذیرؔ فتح پوری نے ایک شفیق استاد کے طور پر بسملؔ کے اس جذبے کو نہ صرف سراہا بلکہ اپنے خطوط میں بارہا اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔ اس مجموعے میں استاد اور شاگرد کا تعلق محض تدریسی یا رسمی نہیں رہتا بلکہ وہ ایک گہری انسانی رفاقت میں ڈھل جاتا ہے، جس میں محبت، اعتماد اور وفاداری کی جھلک نمایاں ہے۔ بسملؔ کی استقامت اور اپنے استاد سے قلبی وابستگی نے انہیں ڈاکٹر نذیرؔ فتح پوری کے ہاں ایک منفرد مقام عطا کیا، اور یہی احساس ان خطوط میں ایک لطیف مگر مسلسل زیرِ سطح کیفیت کے طور پر موجود ہے۔
فنی اعتبار سے یہ خطوط بظاہر یک طرفہ محسوس ہوتے ہیں، لیکن ان میں ایک مکمل اور جاندار مکالمے کی فضا قائم ہے۔ تاریخ، تنقید، تحقیق، ذاتی مشاہدات اور ادبی مباحث اس طرح باہم مدغم ہو گئے ہیں کہ ہر خط اپنی جگہ ایک خود مکتفی اور بامعنی تحریر بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر نذیرؔ فتح پوری نے مکتوب نگاری کو محض روایت کے طور پر برتنے کے بجائے اسے ایک تخلیقی تجربہ بنا دیا ہے، جس کے ذریعے وہ نہ صرف اپنے عہد سے مکالمہ کرتے ہیں بلکہ قاری کو بھی اس میں شریک کر لیتے ہیں۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے