कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آبنائے ہرمز میں امریکی طاقت کی پسپائی

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ: 9934933992

مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بن چکی ہے، جہاں بندوقوں کی گھن گرج کے پسِ پردہ دراصل مفادات، بالادستی اور نظریاتی تصادم کی ایک طویل داستان پوشیدہ ہے۔ ۲۸ فروری کو مذاکرات کی متوقع فضا کے عین قبل اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر کیا گیا اچانک حملہ نہ صرف خطے کے امن کے لیے ایک شدید دھچکہ ثابت ہوا بلکہ اس نے عالمی قوانین، سفارتی اصولوں اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی روح کو بھی کھلا چیلنج پیش کیا۔ یہ حملہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے پنپتے ہوئے اس تناؤ کا اظہار ہے جو ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان مسلسل بڑھتا رہا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی اس مشترکہ کارروائی کے پسِ پردہ بنیادی مقصد اسرائیل کے تحفظ کو یقینی بنانا اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنا تھا۔ امریکی پالیسی سازوں کا یہ اندازہ تھا کہ ایران کی معیشت، جو پہلے ہی ۴۷ برس سے جاری پابندیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، ایک طویل جنگ کا دباؤ برداشت نہیں کر سکے گی اور چند ہی دنوں میں اسے پسپائی اختیار کرنا پڑے گی۔ تاہم حالات نے اس مفروضے کو غلط ثابت کیا۔ ۳۷ دن گزرنے کے باوجود نہ صرف جنگ جاری ہے بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، اور ایران نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف دفاع بلکہ جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کی بھی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اس دوران ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا، جس سے یہ واضح پیغام گیا کہ جنگ کا دائرہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ایران نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا—آبنائے ہرمز کی بندش۔ یہ وہ نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے جس کے ذریعے دنیا کے بڑے حصے میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کی بندش نے نہ صرف عالمی توانائی کی فراہمی کو متاثر کیا بلکہ بین الاقوامی معیشت کو بھی شدید دھچکہ پہنچایا۔
آبنائے ہرمز کی بندش دراصل ایران کی ایک سوچی سمجھی اور دور رس حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ایران بخوبی جانتا ہے کہ وہ عسکری لحاظ سے امریکہ کا براہِ راست مقابلہ نہیں کر سکتا، لیکن وہ ایسے اقدامات ضرور کر سکتا ہے جو عالمی سطح پر امریکہ کو دباؤ میں لے آئیں۔ اس بندش کے ذریعہ ایران نے یہ واضح پیغام دیا کہ اگر اس پر دباؤ بڑھایا جائے گا تو وہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، عالمی منڈیاں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئیں اور کئی ممالک کو توانائی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس صورتحال پر سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے ایران کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں،غیر شائستہ جملہ کااستعمال کیااور عالمی برادری کو ایران کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان تمام بیانات اور اقدامات کے باوجود امریکہ اس بحران کو قابو میں لانے میں اب تک ناکام رہا ہے۔ عارضی جنگ بندی کے اعلانات اور طاقت کے مظاہرے کے باوجود آبنائے ہرمز کی بندش برقرار ہے، جو امریکہ کی عالمی ساکھ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
یہ صورتحال دراصل امریکہ کی اس عالمی برتری کے تصور پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جسے وہ دہائیوں سے برقرار رکھنے کی کوشش کرتا آیا ہے۔ اگر ایک علاقائی طاقت، عالمی طاقت کے اس قدر اہم مفاد کو چیلنج کر سکتی ہے اور اسے عملی طور پر متاثر بھی کر سکتی ہے تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ اب وہ دور شاید گزر چکا ہے جب امریکہ بلا شرکتِ غیرے دنیا کے فیصلے کیا کرتا تھا۔
اس تنازعے میں اسرائیل کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ اسرائیل، جو خود کو خطے میں ایک تنہا مگر طاقتور ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے، ہمیشہ سے ایران کو اپنے وجود کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا آیا ہے۔ ایران کی جانب سے اسرائیل مخالف بیانات اور خطے میں اس کے اتحادیوں کی موجودگی نے اسرائیل کو مسلسل تشویش میں مبتلا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف پیشگی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس بار یہ حکمتِ عملی الٹی پڑتی نظر آ رہی ہے، کیونکہ ایران نے نہ صرف اس کا بھرپور جواب دیا بلکہ جنگ کو ایک ایسے مرحلے تک پہنچا دیا جہاں اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
عالمی برادری کا کردار اس بحران میں انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ، جو عالمی امن و سلامتی کی ضامن سمجھی جاتی ہے، اس معاملے میں عملی طور پر بے بس دکھائی دیتی ہے۔ سلامتی کونسل میں بڑی طاقتوں کے مفادات اور باہمی اختلافات نے اس ادارے کو غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ ویٹو پاور کی سیاست نے کسی بھی ٹھوس اقدام کی راہ میں رکاوٹ ڈال دی ہے، جس کے نتیجے میں یہ بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
چین اور روس جیسے ممالک اس صورتحال کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ چین، جو دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور توانائی کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے، اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہا ہے، مگر وہ براہِ راست مداخلت کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ دوسری جانب روس، جو پہلے ہی مغربی پابندیوں کا شکار ہے، اس صورتحال کو امریکہ کے لیے ایک اسٹریٹجک ناکامی کے طور پر دیکھ رہا ہے اور ممکنہ طور پر ایران کی حمایت کر رہا ہے۔
ہندوستان کے لیے یہ صورتحال خاصی پیچیدہ اور پریشان کن ہے۔ ایک طرف اسے اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا ہے اور دوسری طرف خطے میں استحکام بھی اس کے مفاد میں ہے۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ توازن پر مبنی رہی ہے، لیکن اس بحران نے اسے ایک مشکل امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اسے نہ صرف اپنی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو بھی برقرار رکھنا ہے۔
یہ جنگ محض ہتھیاروں کی جنگ نہیں بلکہ بیانیہ کی جنگ بھی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اسے عالمی امن کے تحفظ کی جنگ قرار دیتے ہیں، جبکہ ایران اسے اپنی خودمختاری اور دفاع کے حق کی جنگ قرار دیتا ہے۔ حقیقت ان دونوں بیانیوں کے درمیان کہیں موجود ہے، لیکن اس کا تعین کرنا آسان نہیں۔کیونکہ بیشتر ممالک امریکہ واسرائلی جارحیت کے مخالف ہیں۔
مندرجہ بالا صورتحال میں اگر اس بحران کا فوری حل تلاش نہ کیا گیا تو اس کے نتائج نہایت تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ عالمی معیشت، جو پہلے ہی متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اس بحران کی وجہ سے مزید دباؤ میں آ سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی راستوں کی بندش اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال—یہ تمام عوامل دنیا کو ایک بڑے معاشی بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
امریکہ کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ اس صورتحال سے کیسے نکلے گا۔ کیا وہ عسکری طاقت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش جاری رکھے گا یا سفارت کاری کا راستہ اختیار کرے گا؟ ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ عسکری مداخلت اکثر مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے، جبکہ سفارت کاری ہی ایک پائیدار اور مؤثر حل فراہم کر سکتی ہے۔
ایران کے لیے بھی یہ ایک سخت آزمائش ہے۔ اگرچہ اس نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن طویل جنگ اس کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کی معیشت، جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے، مزید دباؤ میں آ سکتی ہے۔ اس لیے ایران کو بھی ایک متوازن حکمتِ عملی اپنانا ہوگی جس میں طاقت کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کو بھی مناسب اہمیت دی جائے۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا کو یہ احساس دلایا ہے کہ عالمی معیشت کس قدر نازک توازن پر قائم ہے۔ ایک چھوٹا سا جغرافیائی نقطہ بھی پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ حقیقت عالمی طاقتوں کے لیے ایک سبق ہے کہ وہ اپنے تنازعات کو اس نہج تک نہ لے جائیں جہاں اس کے اثرات پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں۔
یہ بحران دراصل ایک نئے عالمی نظام کے ابھرنے کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ اب دنیا یک قطبی نہیں رہی بلکہ ایک کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں مختلف طاقتیں اپنے اپنے دائرۂ اثر میں سرگرمِ عمل ہیں۔ اس نظام میں کسی ایک طاقت کی اجارہ داری ممکن نہیں رہی، اور یہی حقیقت امریکہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آ رہی ہے۔
اگر ہم اس پورے منظرنامے کا گہرائی سے تجزیہ کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ طاقت کے ذریعے مسائل کا حل ممکن نہیں۔ تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جنگیں صرف تباہی لاتی ہیں، جبکہ امن اور ترقی کا راستہ مکالمے اور تعاون سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری اس بحران کو سنجیدگی سے لے اور اس کے حل کے لیےمؤثر اقدامات کرے۔
اسی تناظر میں یہ سوال بھی نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ کیا امریکہ اپنی روایتی پالیسی—یعنی طاقت کے ذریعے مسائل کے حل—پر قائم رہے گا یا وہ ایک نئی سفارتی حکمتِ عملی اختیار کرے گا؟ اگر امریکہ اس بحران کو محض عسکری زاویے سے دیکھتا رہا تو نہ صرف اس کی عالمی ساکھ مزید متاثر ہوگی بلکہ وہ ایک ایسے دلدل میں پھنس سکتا ہے جہاں سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس اگر وہ مذاکرات، ثالثی اور بین الاقوامی تعاون کا راستہ اختیار کرتا ہے تو نہ صرف اس بحران کا پرامن حل ممکن ہو سکتا ہے بلکہ اس کی عالمی قیادت کا تاثر بھی بحال ہو سکتا ہے۔
مزید برآں، اس بحران نے چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک اہم سبق چھوڑا ہے کہ عالمی سیاست میں خود انحصاری، معاشی استحکام اور سفارتی توازن کس قدر ضروری ہیں۔ جو ممالک صرف ایک طاقت پر انحصار کرتے ہیں، وہ ایسے ہی بحرانوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ لہٰذا ایک متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی تعاون ہی مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسا امریکی وقار دراصل ایک علامت ہے—اس بدلتی ہوئی دنیا کی علامت جہاں طاقت کے پرانے پیمانے ٹوٹ رہے ہیں اور نئے اصول وضع ہو رہے ہیں۔ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے تو انہیں مستقبل میں مزید ایسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ دنیا طاقت کے بجائے حکمت کو ترجیح دے، جنگ کے بجائے امن کو فروغ دے اور تصادم کے بجائے مکالمے کو اپنائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف اس بحران کا حل پیش کر سکتا ہے بلکہ ایک مستحکم اور پرامن عالمی نظام کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے