कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دو سمندروں کا آپس میں نہ ملنا

از قلم: عارف محمد خان،جلگاؤں

دنیا کے عجائبات میں سمندروں کا نظام ایک حیرت انگیز حقیقت ہے۔ بظاہر تمام سمندر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں، مگر سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ بعض مقامات پر دو مختلف سمندری پانی آپس میں مکمل طور پر نہیں ملتے۔ یہ حقیقت قرآنِ مجید نے چودہ سو سال پہلے بیان کر دی تھی، جو آج جدید Oceanography (علمِ بحریات) میں ثابت شدہ حقیقت بن چکی ہے۔
قرآنِ مجید میں ذکر:
قرآنِ مجید میں اس حقیقت کو کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے:
سورۃ الرحمن (آیات 19-20):
مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ ۝ بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَا یَبْغِیَانِ
ترجمہ:
“اس نے دو سمندروں کو جاری کیا جو آپس میں ملتے ہیں، مگر ان کے درمیان ایک آڑ (پردہ) ہے، جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔”
اسی طرح:
سورۃ الفرقان (آیت 53):
وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَـٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَـٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَّحْجُورًا
ترجمہ:
“اور وہی ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا رکھا ہے؛ ایک میٹھا اور خوشگوار، دوسرا کھارا اور کڑوا، اور دونوں کے درمیان ایک آڑ اور مضبوط رکاوٹ بنا دی ہے۔”
جغرافیائی اور سائنسی وضاحت:
جدید سائنس کے مطابق، سمندروں کے پانی مکمل طور پر ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ان میں فرق پایا جاتا ہے:
نمکیات (Salinity)،درجہ حرارت
کثافت (Density)
پانی کی حرکت (Currents)
یہ عوامل مل کر ایک غیر مرئی حد (Barrier) بناتے ہیں، جسے سائنسی زبان میں Halocline یا Density Gradient کہا جاتا ہے۔ یہی وہ “برزخ” ہے جس کا ذکر قرآن میں ہوا ہے۔
نمایاں مثالیں:
1. Gulf of Alaskaخلیج الاسکا
یہاں گلیشیئر سے آنے والا ہلکا میٹھا پانی اور سمندر کا کھارا پانی ساتھ بہتے ہیں، مگر واضح حد تک الگ نظر آتے ہیں۔
2. Strait of Gibraltarآبنائے جبل الطارق
یہ مقام Atlantic Ocean
بحرِ اوقیانوس اور
Mediterranean Sea بحیرۂ روم
کو ملاتا ہے، مگر دونوں کے پانی کی خصوصیات مختلف ہونے کی وجہ سے مکمل اختلاط نہیں ہوتا۔
3. Baltic Sea اور North Sea
بحیرۂ بالٹک اور بحیرۂ شمالی
یہاں بھی نمکیات کے فرق کی وجہ سے دونوں پانیوں کے درمیان واضح سرحد موجود رہتی ہے۔
سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے؟
ماہرینِ بحریات کے مطابق جب دو مختلف پانی ملتے ہیں تو وہ فوراً یکجان نہیں ہوتے بلکہ ایک خاص حد تک اپنی شناخت برقرار رکھتے ہیں۔ اس مظہر کو Stratification کہا جاتا ہے، جس میں پانی کی تہیں بن جاتی ہیں۔
یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کے لفظ “برزخ” کی سائنسی تشریح پیش کرتی ہے ۔ یعنی ایک ایسا پردہ جو دکھائی نہیں دیتا مگر اثر رکھتا ہے۔
قرآنی اعجاز اور جدید سائنس:
قرآنِ مجید نے اس حقیقت کو ایسے وقت میں بیان کیا جب نہ جدید آلات تھے اور نہ ہی سمندروں کی گہرائیوں کا علم۔ آج جدید Oceanography اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ سمندروں کے درمیان واقعی ایک حد ہوتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے