कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رقیہ شرعیہ اور اس کی اہمیت :قسط نمر 2

از قلم: شیخ جاسم حسین العبیدلی۔
ترجمہ: ظفر ھاشمی ندوی
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک دفعہ میرے ہاتھ پر انتہائی گرم سالن گر گیا اور وہ حصہ جل گیا- میری والدہ مجھے لے کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لے آئیں- آپ اس وقت رحبہ نامی جگہ پر تھے- مجھے یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا پڑھی( اللهم اذهب البأس رب الناس اور اس کے ساتھ مجھے یاد ہے پڑھا أنت الشافی لا شافی إلا أنت “ ابن حبان حدیث نمبر2976 علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح حدیث کہا ہے) ۔ (ترجمہ: اے اللہ اے تمام انسانوں کے رب اس تکلیف کو دور فرما صرف تو ہی شفاء دیتا ہے تیرے سوا کوئی شفا نہیں دے سکتا) –
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے آل حزم کو سانپ سے ڈسے ہوئے شخص پر رقیہ شرعیہ پڑھنے کو پسند فرمایا- (صحیح بخاری حدیث نمبر21/267)
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے فرمایا میں محسوس کر رہا ہوں کہ تمہارے بھائی کے بچے کمزور ہیں کیا انھیں کچھ شکایت ہے ؟ میں نے عرض کیا کچھ نہیں لیکن انھیں بہت جلدی نظر لگ جاتی ہے – فرمایا ان پر شرعی دم کرو- میں نے درخواست کی آپ کردیں تو فرمایا تم خود کرو- (مسلم شریف حدیث نمبر 2198)-
رقیہ شرعیہ دینی لحاظ سے بڑی مدد اور جادوگروں اور دھوکہ باز پیروں سے حفاظت ہے-
قدیم زمانہ سے لوگوں میں جادو کا اثر بری نظر کا لگ جانا اور جنات کا اثر موجود ہے اور اس زمانہ میں بھی ہو رہا ہے- اگر انھیں رقیہ شرعیہ سے علاج نہ کیا گیا تو ڈر ہے کہ و ہ شرک بھرے علاجوں میں پڑ جائیں گے- اگر انھیں رقیہ سے علاج میں اہل علم سے رہنمائی نہ ملے تو وہ بہت آسانی سے جادوگروں اور گمراہ پیروں کے ہاتھ لگ جا ئیں گے- اور ان کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اس لئے یہ بے حد ضروری ہے۔
رقیہ شرعیہ مظلوم کی مدد ہے اور مصیبت زدہ کی تکلیف کا علاج ہے اور لوگوں کی ضرورت پوری کرنا ہے:
جب کسی شخس پر جادو کر دیا جائے یا جنی اثرات ہو جائیں یا کوئی اس سے حسد کرے تو بلا شبہ اس پر ظلم اور زیادتی و ناانصافی ہوئی- جیسے صحت گر گئی یا نفسیاتی پریشانی بڑھ گئی یا اس کی عقل اور فکر متاثر ہوئی یا اس کا روزانہ کا سلوک بدل گیا- کبھی اس وجہ سےایک سمجھ دار شخص حیران پریشان نظر آتا ہے اور کبھی عقلمند اور عزت دار شخص بچوں جیسی حرکتیں کرنے لگتا ہے- ایسے افراد کی مدد کرنا اور رقیہ کے ذریعہ اس کی بس بھر تکلیف دور کرنے کا حکم ہے- ایسے رقیہ کے بارہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے( من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلیفعل ، مسلم شریف حدیث نمبر 2199) جو شخص اپنے بھائی کو فائدہ پہونچا سکتا ہو تو وہ ضرور کرے)- ایسا سلوک بڑے اخلاق ہونے کا ثبوت ہے اور مردانگی کا اعلی نمونہ ہے- یہ تو کوئی انسانیت نہیں ہے کہ کسی شخص کو ایسی حالت میں دیکھیں اور رقیہ یا رہنمائی یا تعلیم کے ذریعہ اس کی مدد کرنے سے پیچھے ہٹ جائیں-
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا( من نفس عن مؤمن كربة من كرب الدنيا ، نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة. ومن يسر على معسر يسر الله عليه في الدنيا والآخرة. ومن ستر مسلما ستره الله في الدنيا والآخرة. والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه، مسلم شريف حديث نمبر ٢٦٩٩، فتاوى ابن تيمية ١٩/٤٩-٥٠- جو شخص کسی مومن کی دنیا کی تکلیف کو دور کرے ، اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی کسی مصیبت کو قیامت کے دن دور فرمائے گا- اور جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے ، اللہ تعالیٰ اس کی دنیا اور آخرت میں آسانی فرمادے گا -اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے اللہ تعالیٰ اس کے عیب کو دنیا اور آخرت میں ظاھر نہیں فرمائے گا- جو بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے )
علامہ شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے تھے اگر کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی پر رقیہ کرے تو وہ بھلا آدمی ہے شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ شفا دے دے تو اسکا ایسے مریض پر بڑا احسان ہوگا-

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے