कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’نو کنگز مظاہرے‘ کیا عوام کی آواز ٹرمپ کی ضد روک پائے گی!

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

28 مارچ 2026 کو امریکہ بھر میں’’نو کنگز‘‘ مظاہروں کی تیسری لہر نے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کی تاریخ بدل دی۔ تین ہزار تین سو سے زائد مقامات پر8تا9 ملین سے زیادہ لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف پرامن احتجاج کیا۔ یہ شاید امریکہ کی تاریخ کا سب سے بڑا ایک روزہ پرامن مظاہرہ بن گیا۔ مظاہرین کا بنیادی نعرہ واضح تھا امریکہ میں کوئی بادشاہ نہیں چلے گا طاقت عوام کے پاس ہے، نہ کہ کسی ایک شخص یا اس کے ارب پتی حامیوں کے پاس۔ یہ احتجاج ایران کے خلاف جاری جنگ، مہنگائی، امیگریشن آپریشنز (ICE کی کارروائیوں)، اور عام آدمی پر بڑھتے دباؤ کے خلاف تھا۔ یورپ، کینیڈا اور دیگر ایک درجن سے زائد ممالک میں بھی یکجہتی کے مظاہرے ہوئے، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ تحریک اب عالمی سطح پر پھیل رہی ہے۔
سڑکوں کا منظر دیکھ کرایسامحسوس ہوتا ہے کہ شایدکہ اہم تبدیلی ہوگی۔ لوگ ہاتھوں میں رنگ برنگے ہینڈ میڈ بینرز اٹھائے، ڈرم بجاتے، گھنٹیاں بجاتے اور ’’نو کنگز‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے چل رہے تھے۔ ایک خاتون اپنے دو چھوٹے کتوں کو گاڑی میں بیٹھا کر ’’نو بارکنگ‘‘ کا بورڈ اٹھائے چل رہی تھیں۔ ایک بوڑھی خاتون 86 سال کی عمر میں ٹریفک کی طرف لہراتی ہوئی ’’سٹاپ ٹرمپ، سیو ڈیموکریسی‘‘ کا بینر دکھا رہی تھیں۔ چھوٹے قصبوں میں بھی لوگ نکل آئے جیسے مشرقی آئیڈاہو کا ڈرگز شہر جہاں صرف دو ہزار آبادی ہے، مگر وہاں بھی سینکڑوں لوگ جمع ہوئے۔ مینیسوٹا کے سانت پال میں فلیگ شپ ریلی میں بروس اسپرنگسٹین نے گانا گایا، جوآن بیز اور جین فونڈا نے خطاب کیا، اور برنی سینڈرز نے عوام کو متاثر کیا۔
ہینڈ میڈ بینرز کیوں اتنی بڑی تعداد میں استعمال ہوئے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مظاہرے گراس روٹس (عوامی سطح) کی تحریک ہیں۔ لوگ اپنے گھروں میں کارڈ بورڈ، مارکرز، پینٹ اور تخلیقی سوچ کے ساتھ بینرز تیار کرتے ہیں۔ یہ انفرادی جذبات، شخصی کہانیاں اور حقیقی غم و غصے کی عکاسی کرتے ہیں جو پرنٹ شدہ یا فیکٹری سے بنے بینرز نہیں کر سکتے۔ کچھ لوگوں نے لکھا: ’’نو کنگز ان امریکہ سنس 1776، ’’ٹائرنی فالز وین پیپل رائز‘‘، ’’نو کراؤن فار اے کلاؤن‘‘، ’’ہسٹری ہیش آئیز آن یو‘‘، ’’وی دی پیپل‘‘، ’’اینڈ دی وارز، سٹاپ آئی سی ای‘‘اور ’’سوری فار بیئنگ ویئرڈ، دس از مائی فرسٹ ڈکٹیٹرشپ‘‘ جیسے مزاحیہ اور طاقتور نعرے۔ یہ ہینڈ میڈ بینرز مظاہرے کو ذاتی، رنگین اور انسانی بناتے ہیں جیسے لاکھوں الگ الگ آوازیں ایک بڑی چیخ بن جاتی ہیں۔
امریکہ میں کسی صدر کے خلاف اس پیمانے کا مظاہرہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ 2017 میں ٹرمپ کی پہلی معیادکے آغاز پر ’’ویمنز مارچ‘‘ہوا تھا جس میں 33 لاکھ سے 52 لاکھ لوگوں نے حصہ لیا۔ اس وقت تک یہ امریکہ کی تاریخ کا سب سے بڑا ایک روزہ احتجاج سمجھا جاتا تھا۔ 1970 کا پہلا ارتھ ڈے 2 کروڑ لوگوں تک پہنچا مگر وہ ماحولیاتی تحریک تھی۔ 2020 کے بلیک لائفز میٹر مظاہرے تو 1.5 سے 2.6 کروڑ تک پہنچے مگر وہ کئی ماہ پھیلے ہوئے تھے، ایک دن میں نہیں۔ ’’نو کنگز‘‘ مظاہرے ان سب کو پیچھے چھوڑ گئے اور اب امریکی تاریخ کے سب سے بڑے ایک روزہ پرامن احتجاج کے طور پر ریکارڈ ہو چکے ہیں۔
امریکی حکومت کے خلاف مظاہروں نے کبھی بھی براہ راست ’’تختہ الٹ‘‘ نہیں کیا۔ امریکہ کی جمہوریت میں صدر کو سڑکوں کے احتجاج سے نہیں ہٹایا جاتا یہ صرف انتخابات، مواخذہ یا استعفیٰ سے ممکن ہے۔ سب سے قریب کی مثال 1974 کا واٹر گیٹ اسکینڈل ہے جس میں صدر رچرڈ نکسن کے خلاف عوامی غم و غصہ اور بڑے پیمانے پر مظاہروں نے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ ویتنام جنگ کے خلاف 1960 اور 70 کی دہائی کے لاکھوں لوگوں کے مظاہروں نے بھی جنگ ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا مگر صدر کو براہ راست نہیں ہٹایا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب مظاہرے مسلسل اور بڑے پیمانے پر ہوتے ہیں تو وہ پالیسیاں ضرور بدل دیتے ہیں، لیکن ’’تختہ الٹنے‘‘ کا کام آئین اور انتخابی عمل کرتا ہے۔
ٹرمپ کی ضد کیوں اتنی شدید ہے؟ اس کی وجہ ان کی پہلی معیاد حکومت (2017-2021) اور موجودہ دوسری معیاد (2025 سے اب تک) کے رویے میں نمایاں فرق سے واضح ہوتی ہے۔ پہلی مدت میں کانگریس، عدالتیں اور وفاقی اداروں نے انہیں کئی بار روکا۔ کئی بڑے فیصلے عدالتوں میں الٹے گئے اور اندرونی اختلافات موجود تھے۔ لیکن دوسری معیاد میں ٹرمپ نے سبق سیکھ لیا۔ انہوں نے وفادار کابینہ بنائی، کانگریس میں ری پبلکن اکثریت حاصل کی اور سپریم کورٹ بھی ان کے حق میں ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اب زیادہ بے لگام اور ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پہلی معیاد کی ناکامیوں کا احساس اور ’’انتقام کی سیاست‘‘ نے انہیں مزید سخت کر دیا ہے۔ وہ اب طاقت کے نشے میں مبتلا لگتے ہیں اور کوئی بھی مخالفت کو’’بائیں بازو کی سازش‘‘ قرار دے کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اس پورے معاملہ میں اسرائیل کا کردار مرکزی ہے۔ فروری 2026 کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملے کیے۔ اسرائیلی فضائیہ نے ایرانی ایئر ڈیفنس، میزائل سائٹس اور قیادت کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ وزیراعظم بینجمن نتن یاہو نے اسے ’’خودمختاری کی حفاظت‘‘ قرار دیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے ٹرمپ کو اس جنگ کی طرف دھکیلا۔ دونوں ملکوں کے مقاصد ملتے جلتے ہیں ایران کی طاقت کو کمزور کرنا مگر نتن یاہو کی ضد اس جنگ کو طول دینے کی طرف ہے۔ اسی وجہ سے اسرائیل میں بھی نتن یاہو کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ تل ابیب اور یروشلم کی سڑکوں پر ہزاروں لوگ نکل آئے ہیں۔ وہ نہ صرف ایران جنگ بلکہ غزہ کی صورتحال اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین کہہ رہے ہیں کہ ’’ہم انسانیت بھول چکے ہیں‘‘ اور نتن یاہو کی قیادت میں ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ یہ مظاہرے ٹرمپ پر بھی دباؤ بڑھا رہے ہیں کیونکہ امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ ’’نو کنگز‘‘ مظاہرے کیا جنگ روک پائیں گے؟ کیا عوام جو احتجاج میں اتر آئے ہیں، جنگی ماحول جیتے گا یا یہ تحریک غالب آئے گی؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے اب تک سب سے بڑے ہیں، مگر جنگ روکنے کے لیے صرف سڑکوں پر نکلنا کافی نہیں۔ ٹرمپ کی ضد اور اسرائیل کی حمایت اس جنگ کو جاری رکھنے کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کو نقصان ہو سکتا ہے، لیکن فی الحال ٹرمپ یہ دباؤ نظر انداز کر رہے ہیں۔ پھر بھی، اگر احتجاج طول پکڑ گیا یعنی ہفتہ وار، ماہانہ اور عالمی سطح پر پھیل گیا تو یہ ممکن ہے کہ کانگریس، کاروباری حلقے اور عالمی اتحادی دباؤ بڑھائیں اور ٹرمپ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کریں۔
یہ جنگ اب صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہی۔ سٹریٹ آف ہارمز جزوی طور پر بند ہونے سے عالمی تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہوئی۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 100 ڈالر سے اوپر چلی گئی۔ ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو قیمتیں 170 ڈالر تک جا سکتی ہیں۔ اس کا سب سے برا اثر تیل کے درآمد کنندہ ممالک پر پڑ رہا ہے۔ ہندوستان میں ایل پی جی کا بحران شدید ہے۔ ملک 90 فیصد ایل پی جی ا سٹریٹ آف ہارمز کے راستے درآمد کرتا ہے۔ جنگ کے بعد صرف چند کارگو پہنچ سکے۔ گھروں میں سلنڈر کی قطاریں لگ رہی ہیں، ہوٹلوں، فیکٹریوں اور چائے باغات میں کام رک گیا ہے۔ ہزاروں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔ یہ بحران COVID جیسا اقتصادی دھچکا ثابت ہو رہا ہے۔ لوگ پٹرول اورایل پی جی کا ذخیرہ کر رہے ہیں جبکہ حکومت گھریلو استعمال کو ترجیح دے رہی ہے۔
ٹرمپ پر دباؤ دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔ مظاہرین پلے کارڈز اٹھا کر کہہ رہے ہیں’’امریکہ میں بادشاہ نہیں چاہیے‘‘، ’’ایرانی جنگ بند کرو‘‘ اور ’’ICE باہر نکالو‘‘۔ ماحولیات کے ماہرین اور عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ’’آل اِن آن آئل‘‘ حکمت عملی نے پوری دنیا کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اس پورے معاملہ یا معمہ کو سمجھنے کے بعد یہ تجیوز کی جاسکتی ہے کہ یہ احتجاج صرف امریکہ تک محدود نہ رہے۔ دیگر ممالک خاص طور پر تیل کے درآمد کنندہ ممالک جیسے ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، یورپی یونین کے ممالک اور چین بھی اس تحریک کا حصہ بنیں۔ عالمی سطح پر یکجہتی کے مظاہرے ہوں، سفارتی دباؤ بڑھایا جائے اور اقوام متحدہ میں مشترکہ قرارداد پیش کی جائے۔ ہندوستان جیسے ممالک کو اپنے شہروں میں’’نو کنگز‘‘ طرز کے احتجاج شروع کرنے چاہییں تاکہ ایل پی جی بحران اور عالمی مہنگائی پر توجہ مبذول ہو۔ نوجوان، سوشل میڈیا اور سول سوسائٹی کو اسے مسلسل رکھنا چاہیے۔ اگر احتجاج طول پکڑ گیا تو عوام کی طاقت ضرور غالب آئے گی۔
نو کنگز مظاہرے‘ جمہوریت کی طاقت کی علامت ہیں۔ اگر ٹرمپ نے جنگ کا فوری خاتمہ نہ کیا تو نہ صرف امریکی معیشت بلکہ پوری دنیا شدید بحران کا شکار ہو جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عوامی دباؤ اور عالمی backlash یعنی زبردست مخالفت ٹرمپ کی ضد کو کس حد تک توڑ پاتا ہے۔ کیا وہ اپنی ”بادشاہت” والی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں گے یا یہ جنگ مزید لمبی کھینچتی چلی جائے گی؟جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب عوام اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ یہ مظاہرے اس بات کی واضح مثال ہیں کہ جمہوریت کوئی سٹیٹک نظام نہیں بلکہ ایک زندہ عمل ہے جو عوامی شرکت، احتجاج اور مسلسل نگرانی سے چلتی ہے۔ جب حکومت کی طاقت عوام سے اوپر اٹھنے لگتی ہے تو سڑکیں ہی اسے یاد دلاتی ہیں کہ اصل طاقت ’’وی دی پیپل‘‘کے پاس ہے۔ یہ مظاہرے نہ صرف ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ہیں بلکہ اس اصول کی حفاظت بھی کر رہے ہیں کہ کوئی بھی رہنما خود کو بادشاہ نہیں بنا سکتا۔ اگر یہ آواز مسلسل رہی تو جمہوریت نہ صرف بچے گی بلکہ مزید مضبوط ہوگی۔
حالیہ چند سالوں میں دنیا دیکھ چکی ہے کہ عوامی احتجاج کس قدر طاقتور ہو سکتے ہیں۔ 2022 میں سری لنکا میں شدید معاشی بحران کے خلاف ’’اراگالایا‘‘ تحریک نے صدر گوٹابایا راجاپکسے کو استعفیٰ دے کر ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ 2024 میں بنگلہ دیش میں طلبہ کی قیادت میں شروع ہونے والے احتجاج نے وزیراعظم شیخ حسینہ کو استعفیٰ دے کر ملک بھاگنے پر مجبور کیا۔ 2025 میں نیپال میں نوجوانوں کی بدعنوانی اور سوشل میڈیا پابندی کے خلاف تحریک نے وزیراعظم کھدگا پرساد اولی کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ جب عوام متحد ہو جائیں تو طاقتور رہنما بھی عوامی دباؤ کے سامنے ٹک نہیں پاتے۔ نو کنگز مظاہرے بھی اسی تسلسل کا حصہ لگتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے