कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اورنگ آباد کی سیر

تحریر: انعم ناز مزمل شیخ
(متعلم ضلع پریشد اُردو اعلیٰ تحتانی اسکول دیولگاؤں مہی ضلع بلڈھانہ)

بدھ کی صبح کو دیولگاؤں مہی میں امی ابو سے رخصت ہو کر ہم سب بسوں میں سوار ہوکر خلد آباد کے لیے روانہ ہوگئے۔ ہر کلاس کی اپنی اپنی علاحدہ بس تھی۔ ہنستے کھیلتے، نظمیں گنگناتے ہم سب سے پہلے خلد آباد پہنچے۔ ہم نے خلد آباد کے مضافات میں واقع حضرت زرزری زربخش درگاہ کے احاطے میں کھانا کھایا۔ کھانے سے فارغ ہو کر ہم نے حضرت کے مزار پر حاضری دی اور درود و فاتحہ کا نذرانہ پیش کیا۔ وہاں سے روانہ ہو کر ہم خلد آباد شہر پہنچے۔ شہر میں واقع دیگر درگاہوں پر حاضری دی۔ شہنشاہ ہندوستان حضرت اورنگ زیب عالمگیر کے مزار پر بھی پہنچے اور فاتحہ کا نذرانہ پیش کیا۔ ہمارے اساتذہ نے ہمیں خلد آباد شہر اور یہاں پر آرام فرما رہے بزرگانِ دین سے متعلق مفید جانکاری دی۔ ہمارے اساتذہ نے ہمیں گولکنڈہ کی قطب شاہی سلطنت کے آخری سلطان ابوالحسن تانا شاہ اور حیدرآباد کی آصف جاہی سلطنت کے پہلے حکمران نظام الملک آصف جاہ کے مزار بھی دکھائے۔ درگاہ کے احاطے میں واقع مسجد میں نمازِ ظہر ادا کرنے کے بعد ہم سب طلبہ اپنی اپنی بسوں میں سوار ہوکر دولت آباد کے لیے روانہ ہوگئے۔ پہاڑ کو تراش کر کٹورے کی شکل میں تعمیر کیا گیا یہ قلعہ بہت ہی خوش نما لیکن دشوار گزار ہے۔ ہمارے تاریخ کے استاد عبدالرحمٰن سر نے ہمیں قلعوں کی قسمیں بتائی تھیں۔ ان میں ایک قسم پہاڑی قلعوں کی تھی۔ دولت آباد کا قلعہ دیکھ کر ہمیں بخوبی سمجھ میں آگیا کہ پہاڑی قلعہ کیسا ہوتا ہے۔ سر نے ہمیں اس قلعہ کی مختصر تاریخ بھی بیان کی۔ سر نے بتایا کہ سلطان محمد تغلق کے دور میں دولت آباد ہندوستان کی راجدھانی بھی بنا تھا۔ مجھے سخت تعجب ہوا کہ کبھی ہمارے ملک کی راجدھانی بننے والا یہ مقام آج ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں کا انتظام گرام پنچایت دیکھتی ہے۔ بہر حال ہم نے قلعے کی فصیل میں داخل ہوکر کئی مقامات کا دورہ کیا۔ قلعہ دشوار گزار ہونے اور وقت کی کمی کے سبب ہم اوپر نہیں چڑھ سکے۔ قلعے کے ناہموار راستوں پر چلنے سے ہم بچوں کے پیروں میں درد ہورہا تھا لیکن سیر و تفریح کے لطف نے اس درد کو بھلادیا۔ خیر ہم نے وہاں بھی خوب مزے کیے۔ بطورِ یاد کچھ چیزیں خریدیں، کچھ کھایا پیا اور پھر دوبارہ بسوں میں سوار ہوکر روانہ ہوگئے۔
ہماری اگلی منزل اورنگ آباد شہر تھی۔ اورنگ آباد میں سب سے پہلے ہم سدھارتھ گارڈن پہنچے۔ وسیع و عریض رقبے پر پھیلا سدھارتھ گارڈن ایک باغ ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں ایک چڑیا گھر، سانپ گھر اور مچھلی گھر بھی ہے۔ ہم نے رنگ برنگی، مختلف قسم کی خوبصورت مچھلیاں دیکھیں۔ پھر ہم چڑیا گھر میں گئے۔ یہاں بہت کم جانور تھے۔ اکثر پنجرے خالی تھے۔ پھر بھی ہم کو شیر، ببر شیر، سفید شیر وغیرہ جانور اور بعض پرندے دیکھنے کو مل گئے۔ مجھے بعض جانور بہت پیارے لگے جبکہ بعض جانور خطرناک دکھائی دے رہے تھے۔ چڑیا گھر سے نکل کر ہم سانپ گھر پہنچے۔ وہاں مختلف قسم کے سانپ تھے۔ کوئی بہت بڑا تو کوئی چھوٹا، کوئی باریک پتلا سا تو کوئی چوڑا۔ سانپوں کو دیکھ کر ہمیں ڈر بھی لگ رہا تھا۔ لیکن مزہ بھی بہت آرہا تھا۔
سدھارتھ گارڈن سے روانہ ہو کر ہم مشہود زمانہ بی بی کا مقبرہ پہنچے۔ مقبرے پر پہلی نظر ڈالتے ہی ایسا لگا جیسے ہم تاج محل دیکھ رہے ہوں۔ میں سوچ رہی تھی کہ تاج محل کی نقل اتنی خوبصورت ہے تو خود تاج محل کتنا خوبصورت ہوگا۔ ہم مقبرے کے اندر پہنچے اور مرحومہ مریم زمانی کے لیے درود و فاتحہ کیا۔ یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ لوگ قبر پر پیسے پھینک رہے ہیں۔ ہمارے استاد نے ہمیں بی بی کے مقبرے کی بھی مختصر تاریخ بتائی۔ ہم نے اپنی ساتھیوں اور اساتذہ کے ساتھ یہاں تصویریں کھچوائیں۔
اب ہمیں پہنچنا تھا پن چکی۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ پن چکی بند پڑی ہے اور وہاں دیکھنے کے لیے کچھ خاص نہیں۔ لیکن ہمارے ڈرائیور انکل بولے کہ اتنی دور آگئے ہو تو بچوں کو پن چکی تھی دکھادینی چاہیے۔ پھر ہم پن چکی پہنچے۔ پن چکی تو چالو تھی اور گھوم رہی تھی۔ دیکھ کر بہت مزہ آیا۔ ہم نے حوض کے کنارے بیٹھ کر خوب مزے کیے۔ وہاں دکانیں بھی تھیں۔ میں نے تو خریدی نہیں کی البتہ ٹھنڈے مشروب کا لطف اٹھایا۔
پن چکی کی سیر کے بعد ہم بسوں میں سوار ہوکر روانہ ہوگئے۔ راستے میں واقع ایک درگاہ کے احاطے میں ہم نے کھایا کھایا۔ بہت لذیذ بریانی تھی جسے کھاکر اس تعلیمی و تفریحی سیر کا مزہ دوبالا ہو گیا۔
جی کررہا تھا کہ ہم سیر ہی کرتے رہیں اور واپس گھر نہ جائیں۔ لیکن ہمارے اساتذہ نے بتایا کہ سرپرستوں کی امانتیں ان کے حوالے کرنی ہیں اس لیے ہم پھر بسوں میں سوار ہوکر دیولگاؤں مہی کے لیے روانہ ہوگئے۔ واپسی کے سفر میں کافی رات ہوچکی تھی۔ میری سہیلیاں سورہی تھیں۔ مجھے نیند نہیں آرہی تھی اس لیے میں نے کسی کو بھی سونے نہیں دیا۔ ہم نے بس میں بھی خوب مزے کیے۔ کوئی بھوت سے ڈرا رہا تھا تو کوئی ڈراؤنی کہانی سنا رہا تھا۔ اس دھینگا مستی میں کب رات کے ایک بج گئے ہمیں پتہ ہی نہیں چلا اور گاؤں آگیا۔ ساری بسیں اسکول کے میدان میں پہنچ چکی تھیں۔ تمام طلبہ کے سرپرست وہاں پہلے سے ہی موجود تھے۔ میرے ابو بھی آچکے تھے اور میرے منتظر تھے۔ پھر ہم سب اپنے اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے اور سفر کی روداد سنانے لگے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے