कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نستعلیق فونٹ کی وجہ

تحریر:منجیت سنگھ
کروکشیترا یونیورسٹی کروکشیترا

نستعلیق (Nastaleeq) اردو اور فارسی رسم الخط کی ایک نہایت خوبصورت اور روایتی خطاطی کی طرز ہے۔ یہ خط اپنی دلکشی، نرمی اور بہاؤ کی وجہ سے دنیا بھر میں اردو لکھنے کے لیے سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اردو اخبارات، رسائل، کتابیں اور ادبی تحریریں عموماً اسی طرزِ خط میں شائع کی جاتی ہیں۔
نستعلیق دراصل دو قدیم خطوط نسخ اور تعلیق کے امتزاج سے وجود میں آیا۔ فارسی خطاطوں نے ان دونوں اسالیب کو ملا کر ایک نیا انداز پیدا کیا جسے بعد میں “نستعلیق” کہا جانے لگا۔ اس طرزِ خط کو خاص طور پر ایران، برصغیر اور وسطی ایشیا میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ برصغیر میں جب اردو زبان کا فروغ ہوا تو نستعلیق اس کی بنیادی تحریری شکل بن گئی۔
نستعلیق خط کی سب سے اہم خصوصیت اس کی خم دار اور ترچھی ساخت ہے۔ اس میں حروف ایک خاص ترتیب اور تناسب کے ساتھ جڑتے ہیں اور الفاظ ایک بہتے ہوئے انداز میں لکھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خط نہایت دلکش اور فنکارانہ محسوس ہوتا ہے۔ دیگر خطوط کے مقابلے میں نستعلیق زیادہ جمالیاتی اور ادبی تاثر پیدا کرتا ہے، اسی لیے شاعری اور ادبی متون کے لیے اسے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو نستعلیق خط کی باقاعدہ ترقی پندرہویں صدی میں ہوئی۔ فارسی خطاط میر علی تبریزی کو اس خط کا بانی مانا جاتا ہے۔ انہوں نے نسخ اور تعلیق کے اصولوں کو یکجا کر کے ایک ایسا انداز پیدا کیا جو نہ صرف خوبصورت تھا بلکہ لکھنے میں بھی نسبتاً آسان تھا۔ بعد میں اس خط کو مزید ترقی دینے میں مختلف خطاطوں نے اہم کردار ادا کیا، جن میں سلطان علی مشہدی اور دیگر فارسی و ہندوستانی خطاط شامل تھے۔
برصغیر میں مغلیہ دور کے دوران نستعلیق خط کو خاص فروغ حاصل ہوا۔ اس زمانے میں دربار، ادب اور سرکاری دستاویزات میں بھی اس خط کا استعمال کیا جانے لگا۔ شاعروں اور ادیبوں کی کتابیں زیادہ تر نستعلیق میں لکھی جاتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو زبان کی ادبی روایت کے ساتھ نستعلیق کا گہرا تعلق قائم ہو گیا۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں جب چھاپہ خانے (Printing Press) کا استعمال عام ہوا تو نستعلیق کو طباعت میں استعمال کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس خط میں حروف کی شکلیں اور جوڑ بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ابتدائی دور میں اردو اخبارات اور کتابوں کو ہاتھ سے لکھ کر پتھر پر منتقل کیا جاتا تھا، جسے لیتھوگرافی کہا جاتا تھا۔ اس طریقے میں خطاط پہلے متن کو خوبصورت نستعلیق میں لکھتا تھا اور پھر اسے چھاپا جاتا تھا۔
بعد میں ٹائپ سیٹنگ کی جدید تکنیکیں سامنے آئیں تو نستعلیق کو ڈیجیٹل شکل میں بھی ڈھالا گیا۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے دور میں کئی مشہور نستعلیق فونٹس تیار کیے گئے جنہوں نے اردو ٹائپنگ کو بہت آسان بنا دیا۔ آج کل کتابیں، اخبارات اور ویب سائٹس بھی نستعلیق فونٹس میں شائع کی جاتی ہیں۔
جدید دور میں چند مشہور نستعلیق فونٹس یہ ہیں:
Jameel Noori Nastaleeq
Noto Nastaliq Urdu
Nafees Nastaleeq
Alvi Nastaleeq
Faiz Lahori Nastaleeq
ان فونٹس کی مدد سے کمپیوٹر، موبائل اور ویب سائٹس پر اردو کو خوبصورت انداز میں لکھا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر Jameel Noori Nastaleeq اردو کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے فونٹس میں شمار ہوتا ہے اور بہت سے اخبارات اور رسائل میں بھی یہی فونٹ استعمال کیا جاتا ہے۔
نستعلیق صرف ایک تحریری طرز نہیں بلکہ ایک فن بھی ہے۔ خطاطی کی دنیا میں اسے بہت اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ اس میں ہر حرف کا ایک خاص تناسب اور انداز ہوتا ہے جسے سیکھنے کے لیے خطاط کو برسوں کی مشق کرنی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خوبصورت نستعلیق لکھنا ایک باقاعدہ فن سمجھا جاتا ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں بھی نستعلیق کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ اس کی مقبولیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اردو ادب، شاعری، صحافت اور تعلیمی تحریروں میں اس کا استعمال مسلسل جاری ہے۔ یہ خط نہ صرف زبان کی خوبصورتی کو نمایاں کرتا ہے بلکہ اردو تہذیب اور ثقافت کی ایک اہم علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ نستعلیق اردو زبان کی روح کی طرح ہے۔ اس نے صدیوں سے اردو ادب، شاعری اور صحافت کو ایک منفرد جمالیاتی شناخت فراہم کی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود اس خط کی دلکشی اور اہمیت برقرار ہے اور آئندہ بھی یہ اردو تحریر کا بنیادی اور پسندیدہ انداز رہے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے