कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کس کی شام، کس کے ساتھ؟ اور کس انجام تک؟

بقلم:- نجیب الرحمن خان (لیکچرار)

ہمارے ملک بھارت میں مختلف مذاہب اور ان کو ماننے والے افراد بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ہر ایک کی اپنی تہذیب اور اپنا کلچر ہے جس کو اپنانا اور اس کا اظہار کرنا ضروری ہے۔ لیکن گزشتہ چند صدیوں سے ہمارے ملک میں ہماری اپنی تہذیب کی بجائے مغربی تہذیب کا زور و شور دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ مغربی تہذیب بڑے پیمانے پر اندرونی طور سے کمزور ہوتی جا رہی ہے۔اخلاقی، معاشی، سماجی اور سیاسی نظام خود انہیں پریشانی میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔ معاشی کمزوری کو دور کرنے کے لیے دیگر ممالک سے مستقل آمدنی حاصل کرنے کے لیے ڈے کلچر کو شروع کیا گیا۔ اس کلچر نے جہاں انہیں معاشی طور سے مضبوط کیا، وہیں ہماری تہذیب کا جنازہ نکال دیا۔ یوں تو مختلف ڈیز کی ایک طویل فہرست ہے، جس میں سالِ نو کے آغاز پر ملک کی عوام کو مبارک بادی کے نام پر ایک دوسرے سے قریب لایا جاتا ہے، جس کے لیے ہر چھوٹے بڑے مقام سے کروڑوں روپے حاصل کیے جاتے ہیں۔ ایک رات، یعنی نیو ایئر نائٹ کے نام پر کیا کیا نہیں کیا جاتا۔
ماہِ فروری کی 14 تاریخ کو "ویلنٹائن ڈے” جہاں مغرب کو معاشی طور سے مضبوط کرتا ہے، وہیں ہمارے ملک، سماج و معاشرے کو بے حیاء، فحش اور عریاں بناتا ہے۔ اس دن اپنی محبت کا اظہار مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ نسلِ نو چاکلیٹ اور مٹھائیوں کا پیکٹ بطورِ ہدیہ پیش کرکے اپنی محبوباؤں کے ساتھ رات گئے تک کھلے عام مکمل میک اَپ و نیم عریاں لباس میں سیر و تفریح، رقص و سرور، شراب نوشی، سگریٹ اور ڈرگس کا استعمال کرتے ہوئے اخلاقی حدود کو پھلانگ کر محبت بھری باتوں میں ایک دوسرے کو گرفتار کرکے پھولوں کا ہار یا گلدستہ پیش کرکے بے حیائی کے ساتھ ناجائز حرکتیں کرتی ہیں۔
افسوس! صد افسوس! یہ سماج، یہ معاشرہ کدھر جا رہا ہے؟ یاد رکھیں یہ وقتی جوش سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں۔ خدارا سنبھل جائیے، خالص توبہ کریں اور سماج کی حفاظت کریں۔
دوسری طرف مغرب نے انسانی زندگی کا تصور Liberalism قرار دیا، جس کی وجہ سے خاندان منتشر ہونے لگے۔ عورت اور مرد کے میل ملاپ کو آزادی قرار دیا گیا۔ کوئی بھی مرد کسی بھی عورت سے تعلقات قائم کر سکتا ہے، حتیٰ کہ ماں بیٹے سے اور بیٹی باپ سے، ایک دوست دوسرے دوست کی بیوی سے، ساس داماد سے۔ اس Liberalism کے نعرے کو مضبوطی سے تھامنے میں نوجوان طلبہ و طالبات پیش پیش رہے ہیں۔ چنانچہ خود ہندوستان میں یہ Liberalism کا نعرہ تیزی سے جڑ پکڑتا جا رہا ہے۔
چنانچہ ایک ہندوستانی سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 16 سے 18 سال کی عمر کے 41 فی صد نوجوان ناجائز تعلقات استوار کر چکے ہیں، 42 فی صد نوجوان شادی سے قبل جنسی تعلقات کو برا تصور نہیں کرتے، 10 فی صد ماں باپ ایسے ہیں جو رات بھر اپنے بچوں کو کلبس، پارٹیوں میں رات گزارنے کی اجازت دیتے ہیں، 30 فی صد لڑکیاں اپنے تعلقات کا ذکر اپنے ماں باپ سے کرتی ہیں، 70 فی صد نوجوان ایسے ہیں جو ناجائز تعلقات رکھتے ہیں۔ ٹی وی اور انٹرنیٹ پر عریاں مناظر دیکھنے کے بعد تقریباً 34 فی صد لڑکے لڑکیاں ہائی اسکول تک پہنچتے پہنچتے جنسی عمل کر چکے ہوتے ہیں۔ 37 فی صد طلبہ و طالبات اپنے آپ کو اسکول میں محفوظ تصور نہیں کرتے۔ Dating کے نام پر 57 فی صد نوجوان ریسٹورنٹ، 40 فی صد پارک اور 36 فی صد فاسٹ فوڈ جاتے ہیں۔ 62 فی صد اپنے دوستوں کے ساتھ Pornography Film/Clip دیکھتے ہیں۔ ممبئی شہر میں 72 فی صد لڑکے لڑکیاں آپس میں ملتے ہیں تو سیکس پر گفتگو کرتے ہیں۔ 46 فی صد طلبہ پارٹی میں شراب پینے کو پسند کرتے ہیں۔ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد ارتداد کا شکار ہو رہی ہے۔
ویمنس رائٹس کمیشن کے اعداد و شمار یہ خبر دیتے ہیں کہ ہر منٹ پر ایک عورت کو ہراساں کیا جاتا ہے۔
تیسری جانب اس بھارتی سماج میں یہ گندا ناسور بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ بقول ایس امین الحسن صاحب (دہلی):
دورِ جدید میں شادی کے یہ متبادلات جو انسانی سماج کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ہیں۔ لیو اِن ریلیشن شپ، بندش سے آزاد جنسی رشتہ، زنا، ایک رات کی مہمان نوازی، دوستی اور فائدہ کا تعلق، ہم جنسیت۔”
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس طوفان میں اچھے اچھے گھرانوں کے لڑکے اور لڑکیاں بھی بہہ رہے ہیں۔
ہم غور کریں کہ یہ تمام ڈیز عوام کو فیض پہنچانے کے بجائے فحاشی اور عریانیت کی تعلیم دے رہے ہیں، سماج میں بگاڑ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ اسی لیے آج جرائم کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
آئیے! جانتے ہیں کہ ارتداد، فحاشی، بے حیائی، عریانیت اور مختلف برائیوں کو معاشرے سے ختم کرنے کے لیے قرآن کیا رہنمائی کرتا ہے۔
قرآن مجید میں سورۂ نور آیت نمبر 21 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں:
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔ اس کی پیروی جو کوئی کرے گا تو وہ اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا۔‘‘
سورۂ بنی اسرائیل آیت نمبر 32 میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
"زنا کے قریب نہ پھٹکو، وہ بہت برا فعل اور بڑا ہی برا راستہ ہے۔”

سورۂ نور آیت 30، 31 میں ہے:
"اے نبی! مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے۔ اور اے نبی! مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رکھیں۔”

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کوئی بھی (نامحرم) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ ملے (ورنہ) ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوگا۔” (ترمذی)

سورۂ البقرہ آیت 217 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا، اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہو جائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے۔”

اگر ہم موجودہ معاشرے کو ارتداد، بے حیائی، مغربی اور فسطائی تہذیب، ساتھ ہی فحاشی اور عریانیت سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو منظم طریقے سے اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور اسے سماج میں نافذ کریں۔

ساتھیوں! چند لمحوں کی خوشی، وقتی جذبات اور مغربی تہذیب کی اندھی تقلید ہمیں کہاں لے جا رہی ہے؟ Valentine’s Day اور دیگر نام نہاد “ڈیز” کے شور میں ہم اپنی تہذیب، اپنی حیا اور اپنی شناخت کھوتے جا رہے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے راہ روی، تفریح کے نام پر فحاشی اور ترقی کے نام پر خاندانی نظام کی تباہی — کیا یہی ہمارا مستقبل ہے؟

قرآن ہمیں خبردار کرتا ہے کہ "شیطان کے قدموں پر نہ چلو، اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ”۔ حقیقی کامیابی وقتی لذت میں نہیں بلکہ پاکیزہ کردار، مضبوط خاندان اور اللہ کی اطاعت میں ہے۔
آئیے! ہم خود بھی سنبھلیں اور اپنی نسلوں کو بھی سنبھالیں۔ تہذیب کی حفاظت، ایمان کی بقا اور سماج کی اصلاح ہی ہمارا اصل مشن ہو۔ ورنہ آج کی ایک شام، کل کی عمر بھر کی ندامت بن سکتی ہے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے