कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حج کمیٹی آف انڈیا کے من مانی فیصلوں اور بدانتظامی سے عازمینِ حج شدید مشکلات سے دوچار

تحریر: سلیمان شاہین

حج کمیٹی آف انڈیا نے حج 2026 کے لیے عجلت میں کئی ایسے فیصلے کیے جن کی نہ تو بروقت وضاحت کی گئی اور نہ ہی ان سے متعلق کوئی باضابطہ دستاویز منظرِ عام پر لائی گئی۔ حج 2025 کی کارروائی ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی اور ملک کے تمام حجاج ابھی وطن واپس بھی نہیں پہنچے تھے کہ حج کمیٹی آف انڈیا نے اچانک حج 2026 کا اعلان کر دیا۔ کمیٹی کی جانب سے ہر فیصلے کے پیچھے ’’سعودی حکومت کی ہدایات‘‘ کا حوالہ دیا گیا، مگر کسی قسم کا باضابطہ سرکلر، جی آر یا خط تاحال منظرِ عام پر نہیں آیا۔ پہلی قسط میں روایت سے ہٹ کر غیر معمولی اضافہ کیا گیا۔ جہاں پہلے محدود رقم ایڈوانس کے طور پر لی جاتی تھی، وہیں اس مرتبہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے طلب کیے گئے، جس کی بنا پر عازمین پر اچانک مالی بوجھ بڑھ گیا۔ اتنی بڑی رقم ابتدائی مرحلے میں لینے کے باوجود اس کے استعمال اور شفافیت پر کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ میڈیکل اسکریننگ میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔ درخواست کے بعد عازمین کو سرکاری اسپتالوں میں میڈیکل اسکریننگ کروا کر سرٹیفکیٹ جمع کروانے کا حکم دیا گیا، لیکن پھر کچھ ہی دنوں بعد یہ فیصلہ بدل دیا گیا اور دوبارہ اسکریننگ کا حکم جاری ہوا۔ بعد ازاں ویکسینیشن کا نیا فرمان بھی آ گیا، ان اچانک تبدیلیوں کے سبب حجاج کو گھنٹوں سرکاری اسپتالوں کی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا، جہاں نہ ان کی کوئی رہنمائی کرنے والا تھا، نہ ہی انتظامیہ کو مکمل معلومات تھیں۔ عازمین گھنٹوں پریشان ہوتے رہے، کوئی ان کا پرسانِ حال نہیں تھا۔ ابھی عازمین اس جھنجھٹ سے نکلے ہی نہ تھے کہ انہیں فلائٹ بکنگ کے مسائل میں الجھا دیا گیا، میڈیکل کارروائی کے دوران ہی فلائٹ بکنگ کا اعلان کر دیا گیا، جس سے پورے ملک میں افراتفری کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ کسی قسم کی واضح ہدایات نہیں دی گئیں کہ فلائٹ بکنگ آپشن کا استعمال کیوں لایا گیا، عازمین نے بکنگ کی تو کیا ہوگا اور نہیں کی تو کیا ہوگا۔ کسی بھی طرح کی معلومات فراہم نہ کیے جانے کے سبب عازمین کو یہ خوف لاحق ہو گیا کہ اگر انہوں نے فوراً بکنگ نہیں کی تو ان کی فلائٹ منسوخ ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ حج کمیٹی میں پاسپورٹ اور ویزا کے اب تک سنگین مسائل جاری ہیں۔ پچھلے برسوں میں حج کمیٹی حاجیوں سے بروقت اصل پاسپورٹ حاصل کر کے انہی کی بنیاد پر ویزا حاصل کرتی تھی، لیکن گزشتہ سال سے یہ طریقہ بدل دیا گیا۔ اب اصل پاسپورٹ تاخیر سے منگوائے جا رہے ہیں، جبکہ ویزا کے لیے صرف اپلوڈ کی گئی پاسپورٹ کی تصاویر استعمال کی جا رہی ہیں۔ ہزاروں پاسپورٹ درست اسکیننگ نہ ہونے کی وجہ سے رک گئے، پھر ان عازمین کو دوبارہ اسکیننگ کے لیے فوری تگ و دو کرنا پڑی، اسی ناقص نظام کی وجہ سے اس سال ہزاروں عازمین کے ویزا اب تک رکے ہوئے ہیں۔ بار بار یہی پیغام دیا جا رہا ہے: “براہِ کرم اپنا پاسپورٹ دوبارہ اسکین کر کے اپلوڈ کریں۔”
لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہو رہا اور حجاج شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔ جب تک حج کمیٹی کو نہ کوٹہ ملا تھا، نہ ہی گائیڈ لائنز موصول ہوئیں تھیں اور نہ ہی طبی ہدایات واضح تھیں، تو پھر حج کمیٹی آف انڈیا نے یہ تمام مراحل پہلے کیوں شروع کیے؟
اور جب بعد میں سب کچھ دوبارہ کرنا پڑا تو اس کا بوجھ صرف حجاج پر ہی کیوں ڈالا گیا؟ اب یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا وزارتِ اقلیتی امور یا دیگر ذمہ دار ادارے اس معاملے کی جانچ کریں گے؟ یا پھر یہ بدنظمی، عجلت بازی اور من مانی فیصلے آئندہ بھی اسی طرح جاری رہیں گے؟ کیا عازمینِ حج دورانِ حج بھی اسی طرح پریشان ہوتے رہیں گے؟ اگر بروقت حج کمیٹی آف انڈیا کے عہدیداروں کو ان کے من مانی فیصلوں سے روکا نہیں گیا اور ان کے خلاف آواز نہیں اٹھائی گئی تو آئندہ ملک بھر کے عازمینِ حج کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ حج کمیٹی آف انڈیا کو چاہیے کہ فیصلے صادر کرنے سے پہلے ماضی کے طریقۂ کار پر نظر رکھے، سوچ سمجھ کر فیصلے لے، تاکہ عازمینِ حج اپنا حج اطمینان کے ساتھ ادا کر کے بخیریت وطن واپس لوٹ سکیں۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے