कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

روح کی پکار

تحریر: مولانا میرذاکر علی محمدی پربھنی
9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

سب سے پہلے خدا کی معرفت، اور کائنات میں اس کی خوبصورت تخلیق اور اسکی قدرت کی پہچھان کے لیے علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ بغیر علم کے انسان اس کی حقیقت اور اس کے وجود کو محسوس نہیں کرسکتا . یہی وجہ ہے کہ ایمان جو زبان سے اظہار اور قلب اور روحانیت سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جب صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، زبان سے اللہ کی وحدانیت کا ( Confession) اقرار کرنا ہے۔ اور دل سے اس کے ( Existence) کی تصدیق ۔ چنانچہ بندہ اسی بنیاد پر اللہ سے یہ اقرار کرتا ہے ،اور اس سے یہ وعدہ کرتا ہے، جیسا کہ عالم ارواح میں اللہ سے ( Agreement) اور وعدہ کیا تھا۔ اور دنیا میں آنے کے بعد بھی یہ وعدہ کرتا ہے کہ میں دنیا میں تیرے ڈر اور خوف کے ساتھ زندگی بسر کروں گا۔ اور تیرے ہی راستہ پر چلنے کی کوشش کروں گا۔ انسان جب اس دنیا سے آخرت کی طرف منتقل ہوتا ہے ،تو روح جو اصل معنی رکھتی ہے اللہ کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ جسم کوئ معنی نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے قرآن کریم میں تمام ارواح سے یہ سوال کیا تھا کہ، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ ہم تمام جو روح کی شکل میں عالم ارواح میں تھے۔ ایک زبان ہوکر کہا تھا، کہ اے خداے برتر آپ ہمارے رب ہیں۔ ہھر جسم کے ساتھ تخلیق کرکے اس دنیا میں بھیجا۔ اللہ نے اپنی معرفت اور اسکی حقیقت کو جاننے اور پہچھاننے کے لیے جو چیز دنیا میں عطا کی ہے۔ وہ علم ہے۔اور حضرت آدم کو جو سب سے پہلے چیز عطا کی گئ وہ ( knowledge) علم ہے۔ اور اسکی وحدانیت اور اس کے ( Existences) کو سمجھنے کے لیے علم اور ایمان دونوں اہم معنی رکھتے ہیں۔ ایمان خدا اور بندے کے ما بین ایک عہد ( Agreement) یے، کہ اپنے رب سے بندہ یہ عہد کرتا ہے کہ دنیا میں اللہ رب العزت سے ڈر کر اور اس کے دستور کو اپناکر، قوام اللہ بن جاے۔ اللہ کے بتاے ہوے اصولوں کے پاسدار اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کرے ،اور وہ جب اللہ کی خوبصورت کائنات کو دیکھیں تو اسکی تخلیقات میں سرشار ہوجاے۔ اور جب وہ خود کو دیکھے تو اپنے اوپر اللہ کے فضل اور رحمت کو پاکر اظہار تشکر کرے ۔ چناں چہ علم کے بغیر معرفت الہی اور اس کی حیرت انگیز تخلیق کو قلب میں محسوس کرنا دشوار ہوتا ہے۔ اسی لیے خداے برتر نے علم کا نظم دنیا کے تخلیق سے پہلے ہی کیا ہے کہ دنیا میں انسان جب آے تو خدا کی حقیقت اور اسکی ربوبیت وحدانیت اور اسکی تخلیق کردہ خوبصورت کائنات کو سمجھے، اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ ہم علم ربانی سے وابستہ ہوں۔ اللہ کا ذکر اور اسکی روح کو ترو تازہ رکھنے کے لیے خداے برتر کا ذکر اور اسکی یاد لازمی ہے۔ زبان اور قلوب کو روحانیت بخشنے والا صرف ذکر الہی ہے۔ روح کی آواز ہماری اندرونی کیفیت اور ہییت بدلنے میں معاون اور مددگار ہوتی یے۔ جس سے ہمارے وجود کو قرار اور سکون مہیا۔ ہوتا ہے۔ جب انسان کوئ غلط اقدام یا کوئ گناہ کا عزم یا ارادہ کرتا ہے تو سب سے پہلے اس کو ضمیر کی آواز دستک دیتی ہے کہ یہ برا عمل ہے۔ آدمی اگر ضمیر کی پہلی دستک پر ہی رک جاے تو انسان کامیاب ہے۔ کیونکہ ہر انسان میں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ برے عمل سے رک جائیں ۔اور جو اپنے نفس کی پہلی دستک جو اس کو گناہ سے روکتی ہے، اسکی خلاف ورزی سے جب گناہ سزد ہوتا ہے، تو پھر دو واقعات کو ظہور میں لاتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ معاشرہ میں بدنام ہوجاتا ہے، دوسرے آخرت میں سزا کا مستحق۔ چناں چہ حدیث میں ہے، استفت بقلبک ،یعنی اپنے نفس اور دل سے پوچھو کہ میں غلط یا صحیح کر رہا ہوں۔ اگر ہم آپ کے پاس علم اور خشیت الہی ہو تو آپ کا نفس آپ کو برائ سے منع کریگا۔ خدا برتر کا فرمان ہے ،اے نیک اور ( satisfactory soul) مطمٔن روح اللہ کی طرف لوٹ چل اس حال میں کہ وہ تجھ سے راضی ہے ،اور تو اس سے راضی۔ اور یہ کہ بندہ اسکی عبادت سے سرشار ہوکر جنت میں داخلہ کی خوش خبری سنتا ہے۔ کیونکہ علم خداے برتر کی صفت اعلی ہے۔ چناں چہ اللہ نے بیک وقت مکمل قرآن نازل نہیں کیا بلکہ تھوڑا تھوڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا۔ اور پھر سب سے پہلے وہ آیت جو علم سے تعلق رکھتی ہے۔ نازل فرمایا۔ جس سے علم کی ( importance) اہمیت اور اسکی افادیت ساری دنیا پر آشکارہ ہوتی ہے۔ یعنی ،اقرآ باسم ربک الذی خلق الی آخر ،یعنی رب کریم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھنے کا حکم فرمایا۔
یارب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جوقلب کو گرمادے جو روح کو تڑپادے

 

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے