कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ڈاکٹر شمس الدین چودھری کی تصنیف”ضلع گلبرگہ میں اردو ادب و صحافت“: پر ایک نظر

از: واجد اختر صدیقی
گلبرگہ کرنا ٹک (9739501549)
Email:wajidakhtar4444@gmail.com

ڈاکٹر شمس الدین چودھری ہمارے عہد کے ایک سنجیدہ فکر کے حامل محقق ہیں۔ ان کی پہلی محققانہ کاوش سن 2025میں ”ضلع گلبرگہ میں اردو ادب و صحافت“کے عنوان سے منظر عام پر آئی ہے۔ دراصل یہ کتاب ان کے پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے ”ضلع گلبرگہ میں اردو زبان و ادب کے ارتقاء کا جائزہ“کی تلخیص ہے۔ جسکو موصوف نے”ضلع گلبرگہ میں اردو ادب و صحافت: ما بعد آزادی تا 1992 ء تک“کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ زیر ِنگاہ ان کی یہ تصنیف گلبرگہ میں اردو ادب کا ارتقاء اور صحافت پر ایک سنجیدہ فکری دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کسی بھی علاقے کی ادبی تاریخ و صورت حال کا جائزہ دراصل اس علاقے کی تہذیبی، ثقافتی و سماجی تاریخ کا آئینہ دار ہوتی ہے۔ ادب کو ہم صرف تخلیقی اظہار تک محدود نہیں کر سکتے بلکہ ادب اپنے عہد کے شعور کو اجاگر کرنے کا کام کرتا ہے۔ ضلع گلبرگہ اس اعتبار سے کا فی زرخیز ہے۔ یہاں صرف اردو زبان فروغ نہیں پائی بلکہ یہاں کی تہذیب میں رچ بس کر اردو نے ایک مضبو ط روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ اس تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر شمس الدین چودھری کی یہ تصنیف اہم وقیع اور قابل اعتبار کارنامہ ہے۔
ڈاکٹر شمس الدین چودھری نے اس تحقیقی مقالے کو کتابی شکل دیتے وقت تحقیقی معیار و وقار کو برقرار رکھنے کی سعی کی ہے۔ اس لحاظ سے یہ تصنیف محض جامعاتی تحقیق تک محدود نہ ہو کر عام اور سنجیدہ قاری کے لیے بھی کار آمد ہے۔
تخلیق،تحقیق اور تنقید ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور یہ تینوں میدان یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔ بشر طیکہ قلم کار کو چاہیے کہ وہ اپنا کام تندہی، دیانتداری اور غیر جانبدارانہ طریقے سے انجام دے۔ میدانِ تحقیق بھی غیر معمولی محنت شاقہ کا متقاضی ہوتا ہے۔مکھی پر مکھی مارنے کو ہرگز تحقیق نہیں کہا جاسکتا۔ تحقیق دراصل کھوجنے اور معلوم سے نا معلوم کی طرف جانے کا عمل ہے جس میں محقق کو کئی کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ 1947 تا 1992 ء تک کی ادبی صورت حال اور ارتقاء کا جائزہ لینا یقیناً مشکل ڈگر سے گزرنے کے مماثل تھا۔ جس کو ڈاکٹر شمس الدین چودھری نے سنگلاخ راہوں کا سفر کرتے ہوئے ایک دستاویزی کتاب ہمارے روبرو کی ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں شامل اپنے ابتدائی مضمون ”پیش نگاہ“ کے عنوان سے اس طرف اشارہ کیا ہے:
”میرے اس تحقیقی سفر کا سب سے مشکل اور کٹھن مرحلہ بلاشبہ مواد کی فرا ہمی تھا۔ ضلع گلبرگہ کے ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں خصوصاً مرحومین کے سوانحی حالات اور ان کے گراں قدر رشحاتِ قلم کو حاصل کرنا یقینا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔“ (اقتباس)
اور وہ مزید لکھتے ہیں کہ
”یہ مقالہ محض میز پر بیٹھ کر لائبریریوں کی کتابوں کی مدد سے تیار نہیں کیا گیا بلکہ یہ گلبرگہ کی گلی کوچوں کی خاک چھاننے، ادبی محفلوں اور تاریخ کے بوسیدہ اور اق کو کھوجنے کا زندہ جاوید نتیجہ ہے۔“(اقتباس)
مذکورہ بالاا قتباسات کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ تحقیق بھی تخلیقی خلاقی کی مظہر ہوتی ہے۔اگرچہ تحقیق،تخلیق ہی کے بطن سے جنم لیتی ہے لیکن تحقیق کی سچائی اور اسکی بہترترتیب و پیش کش غیر معمولی کارنامہ تصور کی جاسکتی ہے۔ محقق دراصل دورا ہوں کا مسافر ہوتا ہے۔ محقق کے لیے تخلیق کار ہونا چا ہیے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن اس امر سے بھی انکار ممکن نہیں کہ محقق اگر تخلیقی صلاحیتوں اور اختراعی ذہانت سے مالا مال ہو تو اسکی تحقیقی کاوشیں ثمر آور ہوسکتی ہیں۔
ڈاکٹر شمس الدین چو دھری ان معنوں میں خوش نصیب محقق واقع ہوئے ہیں کہ ان کے اساتذہ میں ڈاکٹر راہی قریشی اور پر وفیسر عبد الرزاق فاروقی جیسی معتبر علمی و تخلیقی صلاحیتوں کی حامل شخصیتیں شامل ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان کی صحبتوں کے باوصف ڈاکٹر شمس الدین کی تحریروں میں بھی جا بجا اپنے اساتذہ کی تحریروں کا پر تو نظر آتا ہے۔
ڈاکٹر انیس صدیقی ممتاز ادیب،محقق، خاکہ نگار اورماہر تدوین کارہیں نے اس کتاب کی ترتیب و اشاعت میں نمایاں رول ادا کیا ہے۔”شفاف معصومیت کا استعارہ: شمس الدین چودھری“ کے عنوان سے ڈاکٹر انیس صدیقی نے ایک خاکہ نما مضمون تحریر کیا ہے۔ اس کتاب میں شامل اس مضمون سے شمس الدین چودھری کی شخصیت کے کئی پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں۔ بطور خاص یہ پیراگر اف ملاحظہ کریں:
”شمس الدین چو دھری جتنے کم آمیز ہیں۔ اتنے ہی کم گفتار بھی۔ وہ گفتگو کرنے کے بجائے سماعت کو ترجیح دینے کے قائل ہیں۔ مجالسِ خاص ہوں یا کسی ادارے یا تنظیم کے اجلاس ہمیشہ ضرورت کے تحت ہی لب کشائی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے لغو گوئی، دشنام طرازی اور غیبت سرزدہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی خاموشی ایک طرح کی حکمت کی مظہر ہے جو انھیں فضول باتوں کے شر سے محفوظ رکھتی ہے (اقتباس – ڈاکٹر انیس صدیقی)
ڈاکٹر انیس صدیقی نے نہایت فنکارانہ چابکدستی سے کام لیتے ہوئے مصنف کی شخصیت کے اہم گوشوں کو منظر عام پر لایا ہے۔
زیر ِنگاہ کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا پہلاباب”ضلع گلبرگہ کا تاریخی وتہذیبی پس منظر“ ہے۔ یہ باب نہایت اہم پر مغز اور معلوماتی ہے جس میں عہد ِبہمنی کے قیام سے لے کر آصف جاہی دور کے اختتام تک اردو زبان و ادب کی نشوو نما، درباری سرپرستی، صوفیانہ روایت اور عوامی سطح پر اردو کے فروغ کے اسباب کو تاریخی شواہد کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ فاضل مصنف نے یہ واضح کیا ہے کہ گلبرگہ میں اردو کا ارتقاء ایک فکری اور تدریجی عمل ہے جسکی بنیادیں صدیوں کو محیط ہیں۔
دوسرے باب میں ما بعد آزادی دور کے گلبرگہ کے شعری منظر نامے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس باب کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان شعراء کے محض سوانحی کو ائف جمع نہیں کیے گئے بلکہ ان کے فن پر مختصرہی سہی مصنف نے نہ صرف اپنے تاثرات پیش کیے ہیں بلکہ ان شعراء کا کلام بھی انھوں نے پیش کیا ہے۔ اس باب کاوصف خاص یہ ہے کہ اس میں ان شعراء کو بھی جگہ دی گئی ہے جنہوں نے تقسیم ِہندوستان کے بعد پاکستان ہجرت کی۔ اس میں شاہ محمد چندا حسینی نامی، مولانا محمد مخدوم علی سہروردی تاب،محمد عبد الرزاق چاق سے لے کر محمد سلیم الدین انجم فردوسی تک جملہ 55 شعراء کو شامل کیا گیاہے۔
تیسرا باب گلبرگہ کے نثر نگاروں کی ادبی خدمات کے جائزے کو محیط ہے۔ تنقید، تحقیق اور سواغ عمری کے علاوہ خاکہ نگاری جیسی اصناف میں کام کرنے والے اہل قلم کی کاوشوں کونہایت سنجیدگی کے ساتھ اور توازن کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس باب میں جملہ 7 انشاپردازوں پنڈت مانک را ؤوٹھل راؤ، محبوب حسین جگر،پروفیسر محمد ہاشم علی،ڈاکٹر ثمینہ شوکت،پروفیسر رزاق فاروقی، سید مجیب الرحمن اور ڈاکٹر طیب انصاری کو شامل کیا گیا ہے۔
چوتھا باب افسانہ نگاری کے لیے مخصوص ہے۔ اور یہ باب بھی بہت اہم ہے کیو نکہ گلبرگہ میں اردو افسانے کی رو ایت نہایت مضبوط،شاندار اورمستحکم رہی ہے۔ اکرام باگ اور حمید سہروردی جدیدار دو افسانے کے معتبر اور اہم ناموں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اس باب میں گلبرگہ کے افسا نہ نگاروں کی زبان، اسلوب تکنیک اور موضوعاتی تنوع پر گفتگو کرتے ہوئے مصنف نے سماجی حقیقت نگاری،علاقائی مسائل اور انسانی کرب کو نمایاں کیا ہے۔ اس باب میں ڈاکٹر شکیب انصاری، حمید سہروردی، ریاض قاصدار، شاہد فریدی، جلیل تنویر،اکرام باگ،وحید انجم اورکوثر پروین کے بہ مشمول8 افسانہ نگاروں کو شامل کیا گیا ہے۔
پانچواں باب طنز و مزاح کے میدان میں خدمات انجام دینے والے ادیبوں کے لیے مختص ہے۔ طنز و مزاح اردو ادب کی ایک نازک صنف ہے مگر گلبرگہ کے مزاح نگاروں نے اس صنف میں بھی نہ صرف فنی مہارت سے کام لیا ہے بلکہ سماجی شعور بیداری پیدا کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔ اس باب میں ابراہیم جلیس، سلمان خطیب، مجتبیٰ حسین،وہاب عندلیب، ڈاکٹر راہی قریشی اور منظور و قار و غیرہ جملہ 12 مزاح نگاروں کو شامل کیا گیا ہے۔ چھٹا اور آخری باب گلبرگہ کی اردوصحافت پر ایک جامع اور دستاویزی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ ضلع گلبرگہ سے شائع ہونے والے اخبارات ورسائل کی تاریخ، ان کے اثرات اور ان کی خدمات کا اس باب میں تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔ مصنف کا یہ کہنا بجا ہے کہ”گلبرگہ کی ار دو صحافت نے نہ صرف ادبی فضا کو زندہ رکھا بلکہ سیاسی شعور،سماجی بیداری اور تعلیمی آگہی میں بھی کلیدی رول ادا کیا۔ اس باب میں شہباز، گل برگ،کونسل، شعلہ نوا، استعارہ، بہمنی نیوز اور فکر نو کے منجملہ 10 اخبارات و رسالوں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
اس کتاب کی ایک نمایاں خوبی ڈاکٹر شمس الدین چودھری کا متوازن اور غیر جانبدارانہ اسلوب ہے۔وہ نہ تو ماضی پرستی کا شکار ہیں اور نہ ہی جدیدیت کو بلا تنقید قبول کرتے ہیں۔ان کی زبان نہایت شستہ،رواں دوا ں اور ادبی وقار کی حامل ہے۔
مجموعی طور پر ضلع گلبرگہ اردو ادب و صحافت ایک سنجیدہ مستند اور تخلیقی اعتبار سے قابل قدر تصنیف ہے۔ ڈاکٹر شمس الدین نے جس محنت دیانت داری، اور فکری بصیرت کے ساتھ یہ کتاب ترتیب دی ہے وہ لائق ستائش و تحسین ہے۔ 292 صفحات پر مشتمل یہ دیدہ زیب کتاب محبان اردو گلبرگہ (تنظیم برائے فروغ اردو زبان و ادب)کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے۔جس کی قیمت 400 روپے مناسب ہے۔ جس کو مصنف کے پتے دار ارقم، نزد مسجد منظور،پانچواں کر اس،اسلام آباد کالونی گلبرگہ 585104 کرناٹک سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہ کتاب گلبرگہ میں اردو ادب و صحافت کے مطالعے کے لیے ایک معتبر حوالہ ثابت ہوگی۔اور آئندہ محققین کے لیے راہ ہموار کرے گی اور اردو کے طلبہ،اساتذہ،صحافیوں اور سنجیدہ قارئین کے لیے یہ کتاب ایک رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے