कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نسلوں کا سفر: بنیاد، جدت اور انقلاب

تحریر:ایس ایم صمیم ناندیڑ
موبائل: 9960942261

ہر دور کی اپنی ایک آواز ہوتی ہے، جو وقت کے جھونکوں میں گونجتی ہے اور دنیا کو نئی شکل دیتی ہے۔ یہ آواز نسل در نسل بدلتی رہتی ہے، مگر اس کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے: ترقی، تبدیلی اور ایک بہتر کل کی تعمیر۔ آج جب ہم پچھلی تین نسلوں کی طرف نگاہ ڈالتے ہیں تو ایک خوبصورت سفر نظر آتا ہے۔ ایک ایسا سفر جو محنت کی بنیادوں سے شروع ہوکر جدت کی چوٹیوں تک پہنچتا ہے، اور اب انقلاب کی لہروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ یہ کہانی صرف تاریخ کی نہیں، بلکہ انسانی روح کی جدوجہد کی ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہر نسل اپنے خون پسینے سے ایک نئی دنیا تخلیق کرتی ہے۔
جین ایکس Gen X: بنیاد رکھنے والی نسل، محنت کا استعارہ:
تصور کیجیے ایک ایسے دور کو جب وسائل کی کمی تھی، مواقع محدود تھے، اور زندگی کی راہیں کچی اور ناہموار۔ یہ Gen X کی نسل تھی، جو 1965 سے 1981 کی دہائیوں میں پیدا ہوئی۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے معاشرے کی بنیاد رکھی۔ محنت، صبر اور استقلال ان کی پہچان تھی۔ محدود وسائل میں ادارے کھڑے کیے، خاندانوں کو سنبھالا، اور نظام کو اس قدر مضبوط کیا کہ آج ہم اس پر کھڑے ہیں۔یہ نسل ہمیں ذمہ داری کا سبق دیتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ استحکام کیسے قائم رکھا جاتا ہے—نہ صرف گھروں میں، بلکہ معاشروں میں۔ Gen X نے ہمیں وہ بنیاد دی جو آج کی بلند عمارتوں کا سہارا ہے۔ ان کی جدوجہد دیکھ کر دل بھر آتا ہے؛ وہ خاموش محنت کش تھے، جو خواب دیکھتے تھے مگر انہیں پورا کرنے کے لیے رات دن ایک کر دیتے تھے۔ Gen X نے بنیاد رکھی، اور یہ بنیاد پتھر کی طرح ٹھوس ہے۔
جین وائیGen Y: جدت کی روشنی، نظام کو نئی زندگی بخشنے والے:
پھر آئی Gen Y، یعنی Millennials، جو 1981 سے 1996 کی دہائیوں کے بچے تھے۔ یہ نسل پرانے نظام کو توڑنے کی بجائے اسے جدید بنانے میں مصروف ہوئی۔ ٹیکنالوجی ان کی رگ و پے میں سرائت کر گئی؛ انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز اور گلوبلائزیشن نے ان کی دنیا بدل دی۔ انہوں نے تعلیم کو نئے انداز سے دیکھا، کام کو صرف نوکری نہیں بلکہ ایک مقصد سمجھا۔جیسا کہ کہا جاتا ہے: “Gen Y builds systems.” یعنی یہ نسل نظام بناتی ہے، اسے مؤثر اور جدید بناتی ہے۔ انہوں نے پرانی بنیادوں پر نئی ٹیکنالوجی کی پرتیں چڑھائیں، کاروباروں کو ڈیجیٹل بنایا، اور معاشرے کو مربوط کیا۔ Gen Y کی جدت دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے؛ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خوابوں کو حقیقت میں بدلا، مگر اس کے لیے اپنی ذاتی زندگیوں کو قربان کیا۔ ان کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ تبدیلی توڑنے میں نہیں، بلکہ بہتر بنانے میں ہے۔ Gen Y نے بنیاد کو جدید شکل دی، اور آج ہم اس کی روشنی میں جی رہے ہیں۔
جین زی Gen Z: انقلاب کی آواز، نظام کو ازسرنو تشکیل دینے والے:
اب بات کریں Gen Z کی، جو 1997 کی دہائی کے آخر اور 2012 کی دہائی کے شروع میں پیدا ہوئے۔ یہ نسل سوال کرتی ہے، چیلنج کرتی ہے، اور پھر نئے طریقے ایجاد کرتی ہے۔ یہ صرف تبدیلی نہیں چاہتے، بلکہ حقیقی انقلاب کے متلاشی ہیں۔ سوشل میڈیا، ماحولیاتی بحران اور سماجی انصاف ان کی رگ رگ میں ہے۔ وہ پرانے نظام کو دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں: یہ کیوں ہے؟ یہ کیسے بہتر ہو سکتا ہے؟اسی لیے کہا جاتا ہے: “Gen Z breaks systems and recreates them.” یعنی یہ پرانے نظام کو توڑ کر اسے بہتر اور منصفانہ انداز میں دوبارہ بناتی ہے۔ Gen Z کی جدوجہد دل کو چھو لیتی ہے؛ یہ وہ نوجوان ہیں جو ناانصافی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، جو ماحول بچانے کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، اور جو مساوات کی جنگ لڑتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک نئی دنیا کا خواب ہے—ایک ایسی دنیا جو سب کے لیے منصفانہ ہو۔ Gen Z نظام کو ازسرِنو تشکیل دے رہی ہے، اور یہ تشکیل امید کی نئی کرن ہے۔
انقلاب کی رفتار: صبر اور یقین کا امتحان:
اکثر لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ تبدیلی سست ہے، انقلاب دیر سے آتا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر بڑی تبدیلی وقت لیتی ہے۔ یہ خاموشی سے اپنا راستہ بناتی ہے، جیسے دریا پتھروں کو کاٹ کر آگے بڑھتا ہے۔ اصل امتحان ہمارا صبر اور یقین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پیغام دل کو چھو جاتا ہے: “انقلاب آئے گا، رفتار سے مایوس نہ ہو۔” اگر حالات ابھی نہیں بدلے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تبدیلی رک گئی ہے۔ بلکہ وہ پس پردہ کام کر رہی ہے، قدم بہ قدم۔ Gen X نے ہمیں مضبوط بنیاد دی، Gen Y نے اسے جدید بنایا، اور Gen Z اس پر ایک نیا، بہتر اور منصفانہ معاشرہ تعمیر کر رہی ہے۔ یہ تینوں نسلیں مل کر تاریخ کا پہیہ آگے بڑھا رہی ہیں۔ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ انقلاب آئے گا۔ بس ہمیں یقین، صبر اور مسلسل جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔ خاص طور پر Gen Z کو مواقع فراہم کرنے چاہییں، کیونکہ یہ وہ ہیں جو کل کی دنیا سنواریں گے۔ یہ سفر ہمیں بتاتا ہے کہ انسانی روح کبھی نہیں رکتی؛ وہ ہمیشہ آگے بڑھتی ہے، محبت، امید اور انقلاب کی طرف۔یہ نسلوں کی کہانی نہیں، بلکہ ہم سب کی کہانی ہے۔ ایک دل کو چھو لینے والی کہانی جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تبدیلی ہمارے ہاتھوں میں ہے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے