कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انتخابات ختم ہوئے!۔۔۔ اب بے چارے شیر کو اب جنگل جانے دیں

شیر بن کر عوام کو خوف زدہ کرنے سے بہتر ہے انسانی صفات کے ساتھ انسانیت کی خدمت کی جائے

از قلم: محمد سرور شریف ابن یوسف شریف
ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز پربھنی
9960451708

حالیہ میونسپل کارپوریشن انتخابات میں امیدواروں کی تشہیری مہم کے دوران شیر آیا شیر آیا کے نعروں کا شور جو ہم اپنے بچپن سے سنتے آرہے ہیں اس بار بھی سنائی دیا اور بڑی بڑی ہورڈنگس کے اوپر امیدواروں کی تصویر کے ساتھ شیر کی تصویراور پس منظر میں دھاڑتے ہوئے شیروں کے چہرے مہاراشٹر میں ہر طرف دیکھائی دیے اور پھر 16 جنوری کو انتخابات کے نتائج کے بعد جو منظرنامہ سامنے آیا وہ خوشی سے زیادہ تشویش پیدا کرتا ہے۔ کیوں کہ انتخابات میں جیت کے فوراً بعد کچھ نمائندے خود کو ’’شیر‘‘ کہلوانے لگے ہیں، ایک دوسرے کو غرور اور تکبر کے لہجوں میں للکارا جانے لگا ہے، جیسے اقتدار نہیں ملا بلکہ جنگ جیت لی ہو۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا عوام نے اپنے دکھوں کے مداوا کے لیے آپ کو ووٹ دیا ہے یا آپ کی دھاڑ سننے کے لیے؟
یاد رکھیے شیر جنگل کی شان ضرور ہے، مگر سماج کا حسن نہیں۔ سماج دھاڑ سے نہیں، مظلوم ، بے سہارا، غریب و پریشان حال لوگوں کی خدمت سے ملنے والی دعاؤں سے چلتا ہے۔ قومیں خوف سے نہیں، بلکہ اعتماد سے بنتی اور چلتی ہیں۔ آج بھی ہماری گلیوں ،محلوں میں غربت اور بے شمار مسائل ہیں جس سے لوگ نبرد آزما ہیں ، آج بھی دو وقت کی روٹی اور پیٹ بھرنے کے لیے لوگ حرام اور ناجائز طریقے استعمال کر رہے ہیں ، ماں باپ اپنے بچوں کے مستقبل سے خوف زدہ ہیں، نوجوان بے روزگاری کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ، بیمار علاج کو ترس رہے ہیں ایسے میں اگر کوئی قائد شیر بن کر دھاڑے تو یہ آواز نہیں، بلکہ ان پریشان حال لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
حقیقی قیادت اور قائد وہ نہیں جو سینہ تان کر مخالف کو نیچا دکھائے، بلکہ وہ ہے جو جھک کر کمزور وں کا ہاتھ تھام لے۔ اصل طاقت زبان کی تیزی اور لفاظی میں نہیں، دل کی نرمی اور شیریں بیانی میں ہے۔ جو رہنما اپنی کامیابی کو انا کا تاج بنا لیں وہ عوام کے غموں کا مداوا نہیں کرسکتا بلکہ جو قائد اپنے منصب کو امانت سمجھے، وہی لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں آج بھی سماج کو درندہ صفت قائدین و نمائندوں کی نہیں، بلکہ انسانی صفات سے مزین اور آراستہ رہنماوٴں اور قائدین کی ضرورت ہے ایسے قائدین جو اپنے ماننے والوں اور نوجوانوں کو ہلڑ بازی ، سیٹیاں بجانا ، شور شرابہ اور نفرت نہیں، سکون صبر برداشت ادب و احترام اور محبتیں بانٹیں؛ جو دلوں میں ناامیدی نہیں، امید جگائیں؛ جو دھاڑ نہیں، دعا بنیں۔ ہمیں ایسے رہنما چاہیے جو اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں، جو طاقت کے نشے میں نہیں بلکہ ذمہ داری کے احساس میں جئیں۔
آج اگر سیاست خدمت کے بجائے غرور کا میدان بن گئی تو کل تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ اس لیے ہم نے ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطےضروری سمجھا ایسے قائدین کو ’’شیر‘‘ کے استعارے سے شیر کی کھال سے بنے لبادے سے باہر نکا لیں اور انہیں ’’انسان‘‘ کی اصل پہچان انسانیت کو اپنانے کی ترغیب دیں۔ کیونکہ قومیں دھاڑنے والوں سے نہیں، نرمی کے ساتھ درد سمجھنے والوں سے بنتی ہیں اور اقتدار کا اصل حسن انسانیت کی خدمت ہی ہے۔
ہم شہر عزیز پربھنی اور ریاست مہاراشٹر کے ایسے تمام نو منتخب کارپوریٹرس کو دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہیں جھنوں نے جیت کے بعد عاجزی اور انکساری کے ساتھ عوام اور ووٹرس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بلا تفریق مذہب و ملت ساری انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اس خوشی کے موقع پر شیر کہلانے والے قائدین و نمائندوں سے ایک مودبانہ اور خلوص بھری گزارش بھی کرناچاہتےہیں کہ شیر بن کر لوگوں کو خوفزدہ کرنے سے بہتر ہے انسانی صفات کے ساتھ انسانیت کی خدمت کریں۔ کیونکہ آپ کو اقتدار دھاڑنے کے لیے نہیں، بلکہ دکھ بانٹنے کے لیے ملا ہے۔
عوام نے آپ کو اس لیے منتخب نہیں کیا کہ آپ غرور اور تکبر کے لہجے میں للکاریں، بلکہ اس لیے چنا ہے کہ آپ ان کے زخموں پر مرہم رکھیں، ان کے مسائل سنیں اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ یاد رکھیے، خوف وقتی طور پر خاموشی تو لا سکتا ہے، مگر دلوں میں جگہ صرف محبت، عاجزی اور خلوص ہی کے ذریعے بنا جاسکتی ہے۔قائد اور لیڈر کی اصل پہچان دھاڑ نہیں، بلکہ اس کا کردار ، بے لوث خدمت ہوتی ہے۔ اگر آپ انسانیت کے راستے پر چل پڑے تو نہ صرف عوام کے دل جیتیں گے بلکہ تاریخ میں بھی عزت کے ساتھ یاد رکھے جائیں گے۔ امید ہے ہماری اس تحریر سے متاثر ہوکر آپ آئندہ پانچ سال عوامی خدمات کو اپنا نصب العین بنائیں گے اور لوگوں کے دلوں پر اپنے خلوص، محبت ، اخلاق کے ساتھ حکومت کریں گے۔
اور رہی بات شیر کی تو مہربانی فرما کراس بیچارے شیر کو اب جنگل جانے دیں ، وہاں اس کے بیوی بچے اسکے پیار ، محبت کے لیے اسکا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں اور سنا ہے دیگر جانور بھی جنگل میں چین ، سکون امن و انصاف کے لیے شیر کی آمد کے منتظر ہیں اور ہم نے یہ بھی سنا اور پڑھا ہے کہ شیر اپنی فطرت کے ساتھ جنگل ہی میں جی سکتا ہے اور یہاں انسانوں کی بستی میں اس بات کا بھی ڈر ہے کہ کہیں نفرت کی سیاست میں یہ بیچارا شیر بھیڑیا صفت انسانوں کے ہاتھوں مارا نہ جائے ۔ مختصر یہ کہ موجودہ سنگین صورت حال میں ہماری اس تحریر اور مضمون کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے سیاست اور سماج کو جنگل نہیں بننے دینا ہے، بلکہ ایسا مثالی گھر بنانا ہے جہاں کمزور خود کو محفوظ سمجھے، اور ہر شہری کو انصاف اور احترام ملے۔اور ہمارا شہر ،ریاست اور ملک ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر رواں دواں ہو اور ہر طرف امن ، چین ، سکون اور محبت کا ماحول قائم ہو

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے