कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وحی اور انبیاء کرام

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

وحی الہی میں گویا کہ پوری دنیا اور ما فیہا کا علم ہے ۔ جو خداے برتر نے دنیا کے وجود سے قبل ہی مہیا فرمایا ہے۔ جو دنیا کے ہر انسان کی کامیابی کا ضامن ہے۔ علم سارا دین ہے۔ اور دین سارا علم سے بھرا ہوا ہے۔ جو دین کے ساتھ سائنس، اور دنیاوی علوم کو بھی سماے ہوے ہیں۔ علم کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ علم جو اللہ رب العزت وحی کے ذریعہ انبیاء علیہ السلام پر مختلف ادوار میں اور مختلف زمانوں میں نازل کیا ہے ۔ جس سے علم کی اہمیت اور اس کی افادیت ساری دنیا پر ( Disclose) آشکارہ ہوتی ہے۔ چنانچہ اللہ نے علم کی اہمیت اور اس کی افادیت پر قرآن کریم میں سب سے پہلے جو آیت پیغمبر اسلام پر نازل کی وہ اقرآ باسم ربک الذی خلق الی آخر نازل فرمائ۔ اور اس بات کا ( proof) ثبوت ساری کائنات اور دنیا کے انسانوں کو پیش کردیا کہ سارا علم دین ہے، اور سارا دین علم ہے۔ اور یہ بھی چیلینج کیا کہ ( The Quran emphasizes its own uniqueness and challenges people to produce some thing similar. In surh all isra, it States that if all humanity and jins were to come) together , they would not be able to produce something like the Quran. ساری دنیا کے ادباء، فقہاء، صلحاء , شعراء اور اہل زبان قرآن کی ایک آیت پیش کریں۔ بلکہ یہی نہیں قرآن کا ایک نقطہ یا (Dot) حذف یا اضافہ نہیں کر سکتے چہ جاے کہ ایک قرآنی آیت ۔ لوگوں نے علم دنیا اور علم دین کو الگ الگ تناظر میں رکھا ہے جبکہ اسلام نے علم دنیا اور علم دین کو ایک تناظر میں پیش کیا ہے۔ جس طرح اچھی قیادت اور سیاست دین سے جدا نہیں ہے۔ اور دین اسلام سیاست سے جدا نہیں ہے۔ کیونکہ ساری کائنات اور ( Universe) کائنات کی ہر شئ خداے برتر کی تخلیق کردہ ہے۔ چنانچہ اس تناظر میں دیکھا جاے تو علم دین اور علم دنیا دونوں اللہ کی مخلوق ہے۔ اگر علم دنیا الگ ( Category) کی حیثیت رکھتا تو ہم صرف یہی دعا کرتے کہ اللہ ہمیں صرف آخرت کی ہی بھلائ عطا فرما۔ ( الدنیا) کا ذکر نہیں کرتے۔ چناں چہ دین کا علم اور دنیا کا یہ دونوں اللہ کی مخلوق ہے۔ اسی لیے ہر مومن یہ دعا کرتا ہے کہ اےاللہ ہمیں دین اور دنیا میں دونوں میں بہترین بدلہ عطا فرما۔ اور دوزخ کی آگ سے ہماری حفاظت فرما۔ آج کے اس پر فتن دور میں ماضی بعید کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ جہاں کفر الحاد کا غلبہ تھا جہاں پیغمبر اسلام اور صحابہ نے مجاہدوں اور قربانیاں دیکر اسلام کے پرچم کو ہم تک پہونچایا۔ آج ہمارے پاس زندگی گزارنے کی تمام تر لوازمات اور زندگی کا ساز و سامان ہے۔ اگر ہمارے پاس فقدان ہے تو تعلیم ، ( Civilization) تہذیب، اور ( moral values) اخلاقی اقدار۔ آج کے اس دور میں ماضی کی طرح اسلام کو ( Challenges) چیلینجیس کا سامنا ہے۔ اس کے سد باب اور ( satisfied) مطمئن کرنے کے لیے ہمیں دین اسلام کے علوم کے ساتھ عصری علوم پر مہارت اور جرآت کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ورنہ پھر اس شعر کے مطابق جلال بادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو۔ جدا ہو دین سے سیاست تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔ جہاں دینی تعلیم کے ساتھ ( science) سائنس، ٹیکنالوجی، انگلش زبان سے مکمل واقفیت، شعبہ طب ، علم فلکیات ،اور علم نجوم ، صحافت، اور علم ریاضی جیسے علوم و فنون پر کمال اور بہتر قیادت اور سیاست کے ذریعہ ہی ہم اس دور حاضر میں انقلاب لا سکتے ہیں۔ میں ایک مثال دیتا چلوں، ندوی میں ایک سوکھا پتہ گرا، لیکن پانی میں کوئ لہر نہیں اٹھی اور نہ کوئ ہلچل، اس بار ندی میں ایک پتھر گرا پانی میں لہریں اٹھی اور ایک ہلچل ہوئ کیونکہ پتھر وزنی تھا۔ ایسے ہی علم کے ذریعہ دینی، سماجی، ،معاشرتی ،تعلیمی سیاسی اور اچھی ( leadership) قیادت کا انقلاب بپا کرسکتے ہیں۔ جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمارے مدارس آج سے پچاس سال پہلے دین کی تعلیم کے ساتھ ان علوم و فنون سے اگر وابستہ ہوتے، اور اپنے نصاب میں آزادانہ شامل کرتے تو۔ آج تک ہمارے دینی مدارس اور جامعات سے لاکھوں شمائل ندوی جیسے ( Honest) ہونہار علماء نکلتے، جو اپنے ٹھوس اور ( Fundamental education) تعلیم سے کفر و الحاد کو سأنٹیفک جواب دیتے۔ بے شمار ڈاکٹرس، انجینئر، اور (IAS) آی اے ایس آفیسرس اور ( IPS) جنم لیتے۔ لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔آج بھی مدارس سے بہت سارے فارغین ایسے ہیں جو فقہ، تفسیر، عربی ادب اور اردو پر مہارت رکھتے تو ہیں ، لیکن ریلوے اسٹیشن ،بس اسٹینڈ کے بورڈ پر رقم شدہ مراٹھی یا انگلش کے نام پڑھنے سے قاصر ہیں۔ ہمارے پاس بہت سارے دینی مدارس ہیں جو دہائیوں سے جاری ہیں، لیکن ٹھوس اور بنیادی تعلیم کا فقدان ہے۔ جس سے بچوں کے مستقبل پر تابناک اثر ہوسکتا ہے۔ آج ہماری نسل نوع کو بنیادی دینی سائنسی اور عصری علوم کی اشد ضرورت ہے ۔ پگھلنا علم کے خاطر مثال شمع زیبا ہے۔ بغیر علم کے نہیں جانتے کہ ہم خدا کیا ہے۔ چناں چہ ہمیں دونوں علم یعنی دینی اور دنیوی مطلوب ہے۔ جو ہمارے مدارس دینیہ کو جامع نظام تعلیم فراہم کرسکے، اور یہی دور حاضر میں انقلاب کا ذریعہ ہے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے