कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سید النسا العالمین فاطمۃ الزہرہؓ

تحریر:رخسانہ رخشی

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مقام و مرتبے کو آج تک کوئی خاتون نہ پہنچ پائیں۔ ان جیسی مشکل زندگی بھی کسی کی نہیں رہی، یوں تو آپ اپنے نام کے ساتھ مختلف مناسبت رکھتی ہیں بقول امام جعفر صادق کے کہ حضرت فاطمہ کے نو نام ہیں فاطمہ، صدیقہ، مبارکہ، طاہرہ، ذکیہ، زہرا، رافیہ، مرفیہ، محدثہ یہ تمام نام مختلف مناسبتوں سے رکھے گئے ہیں۔ اسم اور مسمی کے درمیان مطابقت توجہ طلب ہوتی ہے لیکن فاطمہ اور محدثہ اہم ترین ہیں ویسے آپ کا اسم گرامی تو فاطمہ ہے جس کا مطلب ہے نارجہنم سے بچانے والی، آپ کے یہ تمام نام اور القابات کسی نا کسی واقعہ سے مربوط ہیں جیسے کہ زیادہ معروف ہیں زہرا زہرا کا مطلب کلی ہے وہ بھی جنت کی کلی۔ پھر اگلا نام بتول ہے، بتول سے مراد اللہ کی سچی اور بیلوث بندی جو اللہ کی راہ میں دنیا سے قطع تعلق کرنے والی، یہ آپ نے ظاہر بھی کیا کہ آپ نے دنیا اور دنیاوی ہنگامہ آرائیوں سے علاوہ عبادت اور گھریلو مشقت میں زندگی گزاری، سید النسا العالمین ، یعنی سارے جہان کی خواتین کی سردار، بعن الرسل، جگر گوشہ رسولؓ ، سید النسا، اہل الجن، جنت کی عورتوں کی سردار غرض آپ فاطمہ زہرا کے تمام ناموں پر لاکھوں سلام۔فاطمہ سیدہ زہرا نے اپنی زندگی واقعی عبادت اور دنیاوی آزمائشوں سے گزار کر گزاری۔ آپ اس قدر عبادت گزار تھیں کہ پائوں مبارک پر ورم آجاتا یعنی سوجن ہو جاتی اس کے باوجود عظیم المرتبت خاتون گھر کے کام کاج اپنے ہاتھوں سے انجام دیتیں۔ شوہر کی خدمت اور بچوں کی تربیت و دیکھ بھال آپ ہی کے ذمے تھی، صرف آپ کی زندگی میں یہ ہی کچھ نہ تھا بلکہ زندگی کے سخت سے سخت مراحل میں اپنے شوہر اور والدمحترم کیلئے ڈھارس اور دلجوئی کا سبب بھی تھیں۔ حضرت زہرا نے بعثت کے پانچویں سال دنیا میں آنکھ کھولی جب پیغمبر اکرمﷺ کی دعوت حق اپنے عروج پر تھی یہ وہ زمانہ تھا کہ تمام سختیاں اور مشکلات و مصائب نے آپﷺ اور آپﷺ کے گھرانے کو نشانے پر لیا ہوا تھا۔ حضرت فاطمہ کی والدہ خدیجہ نے جب رسول خدا سے عقد کیا تو مکہ کی عورتوں نے حضرت خدیجہ سے قطع تعلق کر لیا تھااور آپ کے گھر آنا جانا بھی بند کر دیا تھا اس وجہ سے وہ غمگین رہتی تھیں مگر جیسے ہی حضرت فاطمہ سے حاملہ ہوئیں تو تنہائی کے غم سے نجات پاگئیں اور اپنے بطن میں موجود بچے سے انسیت پیدا کی اور اس سے باتیں کرتی رہتیں، جبریل نے تو پیغمبر اسلامﷺ کو اور حضرت خدیجہ کو یہ خوشخبری سنائی تھی کہ ایک ایسی بیٹی پیدا ہوگی جس سے آپﷺ کی نسل چلے گی، حضرت خدیجہ کیلئے یہ پیام ایک بہت بڑی خوشخبری تھی، پروردگار کی کچھ ایسی ہی رضا تھی،سید النسا العلمین کی زندگی کچھ خاص خوش کن نہ تھی مگر مقام و مرتبے میں اللہ تعالی نے انہیں کئی فضیلتوں سے سرفراز فرمایا، ماں کی شفقت سے محروم ہوئیں تو افسردگی نے آلیا ایسے میں والد محترم کی محبت نے بہت سہارا دیا۔ آپﷺ جب تک ان کے ساتھ پیار اور کھیل نہ لیتے تو خود بھی آپﷺ آرام نہ فرماتے، والدہ کی وفات کے بعد تینوں بہنوں کی وفات ہوئی، اس سے پہلے بھائیوں کی وفات بھی ہو چکی تھی، صرف والدمحترم کی شفقت اور وابستگی ہی ان کے لئے نہایت اہم اور چاہت سے بھرپور تھی، سید فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا اگر مشاہدہ کیا جائے تو آپ کی زندگی کا ہر لمحہ و ہر لحظہ راضی برضائے خدا گزری، آپ ایسے راضی رہیں کہ بزبان پیغمبرﷺ یہ سند حاصل کرلی کہ اللہ تعالی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے راضی ہونے سے راضی ہوتا ہے اور آپ کی ناراضی سے ناراض ہوتا ہے۔فاطمہ زہرا جنت کی عورتوں کی سردار جیسے مقام تک پہنچیں مگر مصائب ایسے ایسے زندگی میں آئے کہ سنتے ہی روح کانپ جائے، امام حسین کی ولادت کے بعد رسولﷺ، سیدناعلی اور سیدنافاطمہ کے رنج و غم سے آگاہ تھے۔ آپﷺ ان کے گھر تشریف لائے اور اسما سے فرمایا میرے بیٹے کو لائو، اسما نے ایک سفید کپڑے میں لپیٹ کر رسولﷺ کو پیش فرمایا۔ آپﷺ نے امام حسین کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی، پھر آپ کو آغوش میں لے کر رونے لگے، اتنی بڑی ولادت باسعادت پر روناکیسا، اسما کہتی ہیں میں نیرسولﷺ سے عرض کیا آپﷺ کیوں رو رہے ہیں، فرمایا اس بچے کی وجہ سے رو رہا ہوں میں نے کہا کہ یہ تو ابھی پیدا ہوا ہے یعنی یہ خوشی کا مقام ہے، آپﷺ نے فرمایا اس کو میرے بعد ایک ستم گر گروہ شہید کرے گا جس کو ہرگز میری شفاعت نصیب نہیں ہوگی، رسولﷺ نے کچھ وقت گزرنے کے بعد اپنا لخت جگر فاطمہ کو دیا تو آپ نے بہت زیادہ گریہ کیا اور پھر پوچھا کہ یہ واقعہ کب پیش آئے گا، آپﷺ نے فرمایا، جب یہ واقعہ پیش آئے گا تو نہ میں رہوں گا ، نہ علی اور نہ تم، یہ سن کر جناب فاطمہ مزید رونے لگیں تو اس وقت رسولﷺ نے فرمایا امت کے مرد اورعورتیں کربلا کے شہدا اور اہل بیت کی عورتوں کے مصائب پر گریہ و زاری کریں گے، یہ غم تھے زندگی کے حضرت فاطمہ کیلئے اور یہ ہی غم کے ساتھ زندگی گزارتے خود بھی چلی تھیں حضرت اسما نے دلہن کے ڈولے کی طرح ایک پردہ پوش چادر چارپائی پر اٹھایا جو رائج ہوگیا آج تک۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے