कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یہ سفر سیاحت کا نہیں، شناخت کا ہے—اورنگ آبادی مسافر

از قلم: خان افراء تسکین
9545857089

اورنگ آباد دکن محض ایک شہر نہیں—یہ محبتوں کا گلستان ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں وقت نے اپنی سانسیں اینٹوں، دروازوں اور فصیلوں میں قید کر رکھی ہیں۔ جہاں فضاؤں میں تہذیب کی خوشبو رچی ہے اور گلیوں میں تاریخ آج بھی آہستہ آہستہ چلتی محسوس ہوتی ہے۔ مگر ایک سوال مدتوں سے موجود تھا: اس تاریخ کو نئی نسل تک کیسے پہنچایا جائے؟ کتابوں کے ورق پلٹتے ہوئے جو احساس جنم لیتا ہے، کیا وہ اسکرین کی روشنی میں بھی زندہ رکھا جا سکتا ہے؟
اسی سوال کا عملی، تخلیقی اور بصیرت افروز جواب بنے مدثر ندیم صاحب—ایک حساس ذہن رکھنے والے برانڈ ڈیزائنر اور اورنگ آبادی مسافر جیسے باوقار ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم کے بانی۔ جون 2019 میں شروع ہونے والا یہ فکری سفر آج محض ایک پلیٹ فارم نہیں رہا بلکہ ایک تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کا مقصد اورنگ آباد کی تاریخ، تہذیب، ثقافت اور اردو زبان کو ڈیجیٹل دنیا میں باوقار انداز میں زندہ رکھنا ہے۔ طویل دورانیے کی دستاویزی فلمیں ہوں یا مختصر ویڈیوز، اورنگ آبادی مسافر نے تاریخ کو اسکرین سے نکال کر اورنگ آباد کی عوام، بالخصوص نئی نوجوان نسل تک پہنچانے کا بیڑا اٹھایا۔
اسی وژن کے تحت ہر سال ایجوکیشن ایکسپو میں اورنگ آبادی مسافر کی جانب سے ایک ایسی نمائش پیش کی جاتی ہے جو محض نمائش نہیں بلکہ ماضی اور حال کے درمیان ایک بامعنی مکالمہ ہوتی ہے۔ ہر برس ایک نئی تھیم، ایک نیا زاویہ اور تاریخ کا ایک نیا باب، جدید اسلوب اور تخلیقی اظہار کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
سال 2025 کے ایجوکیشن ایکسپو میں اورنگ آبادی مسافر کی موجودگی نے نمائش کو ایک خاص تعلیمی وقار عطا کیا۔ جہاں عموماً مستقبل کی تعلیم، جدید ادارے اور ٹیکنالوجی زیرِ بحث ہوتے ہیں، وہیں اس نمائش نے یہ احساس تازہ کیا کہ مستقبل کی مضبوط بنیاد، ماضی کو سمجھے بغیر ممکن نہیں۔ طلبہ، اساتذہ اور والدین—سب کے لیے یہ ایک ایسا فکری تجربہ تھا جہاں سیکھنا صرف نصابی نہیں بلکہ تہذیبی اور شعوری بھی تھا۔
سال 2025 کی یہ خصوصی نمائش دکن کی تاریخ کے ایک درخشاں باب، ملک عنبر کے نام منسوب کی گئی، جو ان کی چار سوویں برسی کے موقع پر پیش کی گئی۔ اس نمائش میں ملک عنبر کے بارہ نمایاں اور فیصلہ کن کارناموں کو تحقیق، حسنِ ترتیب اور تخلیقی جمالیات کے ساتھ پیش کیا گیا—حکمرانی، شہری منصوبہ بندی، آبی نظام، دفاعی حکمتِ عملی اور دکن کی سیاست میں ان کا ناقابلِ فراموش کردار۔ یہ تاریخ محض بتائی نہیں گئی بلکہ محسوس کرائی گئی۔
نمائش کی سب سے دل موہ لینے والی جھلک مصنوعی ذہانت کے تخلیقی استعمال میں نظر آئی۔ قدیم تحریریں، خاکے اور تاریخی حوالہ جات جب جدید ڈیجیٹل آرٹ میں ڈھلے تو یوں محسوس ہوا جیسے ماضی نے موجودہ دور کی زبان سیکھ لی ہو۔ خصوصاً غِبلی آرٹ اسٹائل میں تخلیق کیے گئے مناظر نے تاریخ کو ایک خوابناک کیفیت عطا کی۔ قلعے، دروازے، گلیاں اور کردار ایسے محسوس ہوئے جیسے کسی کہانی کی تصویری دنیا سے نکل کر حقیقت میں ہمارے سامنے آ کھڑے ہوں۔ یہاں دیکھنے والا تاریخ کو دیکھ نہیں رہا تھا بلکہ اس کے اندر داخل ہو رہا تھا۔
نمائش میں اورنگ آباد کے بھاڈکل دروازہ، مکئی دروازہ، نہرِ امبری، چِتّا خانہ، خڑکی خاص مرکزِ توجہ بنے۔ ہر دروازہ ایک کہانی، ایک مقصد اور ایک دور کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان دروازوں کے پیچھے پوشیدہ دفاعی حکمتِ عملی، شہری بصیرت اور سیاسی ذہانت نے ناظرین کو حیرت اور فخر کے احساس سے بھر دیا۔
یہ نمائش محض ایک بصری تجربہ نہیں تھی بلکہ ایک فکری سفر تھا، جہاں تاریخ کو دو مرتبہ پڑھا گیا—ایک بار کتابوں میں، اور دوسری بار ٹیکنالوجی، آرٹ اور احساس کے ذریعے۔ مدثر ندیم صاحب کی یہ کاوش اس حقیقت کا واضح اعلان ہے کہ اگر تاریخ کو جدید اسلوب میں پیش کیا جائے تو نئی نسل نہ صرف اسے سمجھے گی بلکہ اس سے جُڑ بھی جائے گی۔
اورنگ آبادی مسافر کی یہ نمائش ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک روشن پل ہے، جہاں تعلیم، تہذیب، تاریخ اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے سے ہم کلام نظر آتے ہیں۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے