कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نا فرمانی کے عناصر

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729.
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

دین اسلام نے نافرفانی اور کفر تک پہنچانے والی چیزوں کا ذکر کیا ہے جس سے انسان کی عاقبت کی تخریب کاری اور ذلت و رسواٸ کا سبب ہوتا ہے۔ وہ چار چیزیں ہیں۔ کبر غصہ شہوت نفسانی اور حسد ۔ جس سے اجتناب کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ اول الذکر کبر ego ایک ایسا مرض ہے جس سے انسان اپنے مال و دولت علم پر کبر محسوس کرتا ہے ۔اللہ اور پیغمبر اسلام نے اس خطرناک عنصر سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کسی بھی انسان چاہے وہ اہل علم کیوں نہ ہو بلکہ اہل علم کے لیے تو سخت warning وعیدیں ہیں۔ کہ کبر انانیت اپنے آپ کو اعلی و ارفع سمجھنے یا محسوس کرنے سے اجتناب کرے۔ اللہ کا ارشاد ہے الکبریاء رداٸ کہ کبریاٸ بالا و بلند ترین ذات صرف اللہ کی ہے۔ ہم سب اس رب کے محتاج ہیں جس نے یہ دنیا وجود میں لاٸ۔ شیطان نے اپنے علم و فضل پر فخر کیا ۔ اللہ نے اس کو ذلیل و رسوا کیا۔ جو تکبر کرتا ہے اللہ اس کو ذلیل و خوار کرتے ہیں صرف وقت کا انتظار ہوتا ہے۔ آپ جو چاہتے وہ کبھی نہیں ہوگا۔ سب اللہ کی ایماء اور منشاء پر ہوتا ہے۔ جو اللہ کے لیے عاجزی و انکساری اختیارکرتا ہے اللہ اسکو عالی مرتبہ عطا کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ارشاد فرمایا آ پ کے زمین پر اکڑ کر چلنے سے نہ تو زمین کو کوٸ فرق پڑتا اور نہ پہاڑوں کو ۔ آپ عاجزی انکساری اور جھک کر پہاڑ کی چوٹی پار کرسکتے ہیں۔ اور اکڑ کر ایک قدم بھی طے نہیں کرسکتے۔ دنیا میں جوبھی براٸیاں کا وجود ہے یا ہورہی ہیں وہ انانیت خود پسندی selft اور ego اور اچھے خیالات کا ہم آہنگ نہ ہونا غصہ نفرت بغض و عنادتشدد و بربریت برداشت کی عدم صلاحیت سب کی اصل وجوہات حقیقت پر مبنی سوچ کا فقدان ہونا ہے۔ اللہ نے شیطان کو پوری کاٸنات کا خلیفہ بنایا تھا۔لیکن شیطان نے اتنا سب میسر ہونے کے بعد بھی ناشکری اور اللہ کے فرمان کی حکم عدولی کی تھی جو کبر اور تفاخر سے بھرا ہوا تھا۔ جس کی پاداش میں ذلیل خوار ہوا۔ اللہ نے انسان کو علم عطا کیا اور دنیا میں خلیفہ بناکر بھیجا کہ آپس میں بغض وعناد جنگ و جدال غصہ نفرت تشدد اور کبر گھمنڈ نہ کریں جو ذلالت و رسواٸ کا سبب بن سکتی ہے۔ حسد یہ ایک مہلک اور اپنے حسنات اور اچھے اعمال کو ختم کرتا ہے۔ جس سے اجتناب از حد ضروری ہے۔ حسد نیکیوں کو اسطرح ختم کر دیتی ہے جس طرح آگ لکڑی کو۔ اللہ جس کو اپنی نعمت عطا کرتا ہے۔ یا اسکو اپنے علم وفضل سے نوازتا ہے۔ تو ہم اس کے لیے مزید ترقی اور کامیابی کی دعا کریں۔ نہ کہ اس نعمت کو چھین جانے کی۔ اللہ جس کو چاہے اور جب چاہے اپنے فضل و کرم سے نوازتا ہے۔ ہم کسی کے علم وفضل کو دیکھ کر اس جیسا بننے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔ میں پناہ چاہتا ہوں رب کی حاسد کے شر سے اور نہ کسی کے بارے میں تجسس اور نہ اسکی ٹوہ میں لگے رہو اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو۔ غیبت ایک سنگین جرم ہے کسی انسان کے دل میں حسد اور ایمان یکجا نہیں ہو سکتے یا تو ایمان ہوگا یا پھر حسد۔ جس کے باے میں سخت وعیدیں ہیں۔ غصہ غیض و غضب کے بارے ہے اجتنبوا الغضب غصہ سے پرہیز کریں غصہ عقل کو اندھا کردیتا ہے۔ ایسا انسان عدل و انصاف نہیں کرتا جو غیض و غضب کا شکار ہوتا ہے۔ معاف کرنا بڑی دولت ہے۔ جو لوگ بڑے گناہ اور بے حیاٸ سے اجتناب کرتے ہیں اور غصہ آنے پر عفو صفح سے کام لیتے ۔ اسی لیے فرمایا گیا ہیکہ جب آپ بحالت غصہ ہوں تو بیٹھ جایں بیٹھے ہو تو لیٹ جایں ہم اس عمل سے غیض و غضب سے بچ سکے ہیں۔ جب تم میں کسی کو غصہ آے تو تمہیں چاہیے کہ خاموشی ااختیار کریں۔ من صمت نجا جس نے خاموشی اختیار کی وہ کامیاب ہوا۔ لیکن حق کے خاطر خاموشی یہ بھی ایک گناہ ہے۔ جب تم کوٸ براٸ دیکھو تو آپ پر لازم ہیکہ اسکو ہاتھ سے روکے یہ سکت نہ ہو تو اپنی زبان سے پند و نصیحت کریں۔ یہ بھی طاقت نہ ہو تو دل میں اس عمل کو برا جانیں یہ ادنی درجہ کا ایمان ہے۔ strong man is not one who defeat well, but the strong man one who control him self , when he s power full in range.پہلوان وہ نہیں جو دوسرے کو بدلے کی آگ سے دوسرے کو شکست دے۔ بلکہ طاقت ہوتے ہوے بھی معاف کردے ۔ یہی تعلیمات دین اسلام سکھاتا ہے۔ نفسانی خواہشات کا میلان اکثر نا جاٸز تکمیل کی طرف راغب ہوتا ہے۔ جو عبادات اور اللہ کے احکامات کو یکسوٸ سے کرنے میں حاٸل ہوتا ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ تم میں جو نکاح کرنے کی طاقت رکھتا و تو پہلے نکاح کرلیں۔ کیونکہ نکاح سے ہر چیز کا تحفظ ہوتا ہے۔ عبادات میں خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے ۔لیکن افسوس کہ ہماری نسل نکاح کرنے میں تساہل کررہی ہے۔ آج جو بہت ساری مسلم لڑکیاں دیناسلام سے دوری اختیار کررہی ہے اس کی بڑی وجہ مخلوط تعلیم ہے۔ اور پھر ستم یہ کہ ہمارے مسلم نوجوان اور ذمہ دار اس سے آشنا نہیں ہے کہ ہمارا معاشرہ ہمارے نوجوان کس بے راہ روی کی سمت جارہے ہیں۔ یہ ایک سلگتا ہوا مسٸلہ ہے جہاں معاشرہ کے ہر فرد کی لازم ذمہ داری ہے کہ ہم اس طرف خصوصی توجہ مبذول فرمایں۔ پہلے مسلم معاشرہ اور خصوصا لڑکیوں کو دینی مذہبی تعلیم سے آراستہ کریں۔ ان کے نکاحوں کو آسان کریں۔ بعدہ آپ انہیں اعلی عصری تعلیم دیں تو بہت حد تک ہماری نسل میں کوٸ بھی ارتداد کی جرأت نہیں کریگا۔ کیونکہ خدا کا خوف اور اسلامی تعلیمات ہی انسان کو برے عمل سے بچاتی ہے۔ اور یہی ہمارے اور ہماری نسل کے کامیابی کا ضامن ہے۔ لہذا ہمیں ہر شکوک و شبہات کوچھوڑکر خالص یقین کی طرف ماٸل ہونا چاہیے۔ دنیا و مافیہا کی رغبت کو ترک کرکے اخروی زندگی کی فکر کرنا چاہیے۔ کبر و انانیت کو چھوڑ کر عاجزی انکساری اور تواضع کو اپنانا چاہیے۔ برے اعمال کو ترک کرکے اعمال صالحہ کی طرف رجوع ہونا چاہیے۔ رعاء کاری کوچھوڑکر اخلاص کی طرف آنا چاہیے۔ غفلت کو چھوڑکر اللہ کے ذکر کی طرف آنا چاہیے۔ کونوا مع الصادقین یہی ہمارے اور ہمارے نسل کے کامیابی و کامرانی کا واحد ذریعہ ہے۔ جس کو چھوڑ کر ہم کبھی بھی فلاح نہیں پاسکتے۔ چاہے ہم دنیاوی اعلی سے اعلی تعلیم حاصل کیوں نہ کرلے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے