कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

میرےدل کی آواز

از:محمد رضوان الدین حسینی
شریک دورہ حدیث دارالعلوم وقف دیوبند

وقت بدلتا ہے ، حالات تبدیل ہوتے ہیں،انقلابات زمانہ پاوں کی بیڑیاں بن جاتے ہیں،توسب کچھ تل پٹ ہوجاتا ہے،سردست شاہوں کےتاج عجائب گھروں کی زینت بن گئے۔اور اقتدار پر قابض ہونےوالے پچھلوں کےکارناموں کاموں کو طاق نسیان بنانےکی کوشش کرتےنظر آرہےہیں ایسےہی احوال کےبابت تاجدار صاحب نےکہاتھا:
جن غلاموں کو مقدر سےحکومت مل گئ
وہ میری تاریخ پڑھ لیں حکمرانی کےلیے
آج دیکھیں عدالتوں کاکیاحال ہے،انصاف خون کےآنسوں رورہا ہے،مظلوم کی سننے والاکوئی نہیں ظالم دندناتےپھر رہےہیں کوئی فریاد رس نہیں کہیں سےانصاف کی آواز بلند نہیں ہوتی اور یہ آج کی حقیقت ہے- ظالم حکومت کی یہ پالیسی بن چکی ہے ، ایسےہی ارباب اقتدار کےلیےتاجدار صاحب نےکہاتھا:
منصفوں کایہی فیصلہ ہےاگر اگ اپناپرایانہیں دیکھتی
ان کےدیوار و در کیوں سلامت
رہےمیراگھر کیوں جلاہےپتہ تو چلے
پورےہندوستان کےاحوال وکوائف کو سامنےرکھیں پھر سوچیں کہ میں نےجوکچھ چند سطور میں ظالم حکومت کی عکاسی کی ہے؛آیاوہ صحیح ہےیانہیں،آسام یوپی ہیماچل پردیش ایم پی دہلی (کےعلاوہ وہ تمام ریاستیں جہاں بی جےپی اقتدار پر ہے) کےکیاحالات ہیں ۔جب موبائل کےروشن دان سےیہ کرب ناک حادثادیکھتےہیں تو دل خون کےآنسوں روتاہے-
ہم کو رہزنوں کاشکوہ ہمیشہ سےرہاہے قوموں قبیلوں کےلٹنےاور قافلوں کےتباہ وبرباد اور غارت کیےجانےکےتمام الزامات رہزنوں کےسررکھےجاتےرہے،لیکن یہ اج کی ایک کرب ناک حقیقت ہےکہ رہزنوں سےزیادہ رہبروں نے قوم کو پامال کرنے اور اس سےاس کاتشخص اور اعتماد چھین لینےکاکام جس بےدردی سےانجام دیااوردےرہےہیں شاید اس کی مثال ماضی قریب میں ملے
اچھاہےخود رہبروں نےمل کر ہم کو لوٹ لیا
راہ میں جس کاخطرہ تھاوہ مرحلہ دشوار ہوگیا
دوارن مطالعہ چند اشعار صفحہ کتاب پر نظرآئےبس اسی کوسامنےرکھ کر یہ چند سطور "میرےدل کی اواز ” سپرد قلم کیاہوں-

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے