कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

علم کے قدردان

تحریر:ابو خالد

مفتی عبدالرؤف غزنوی استاد الحدیث جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی اپنی کتاب "حکایت مہر و وفا” میں رقمطراز ہیں کہ : جب حضرت شیخ ابوغدّہ "کلیۃ الشریعۃ جامع ازہر "کی طالب علم تھے، اس زمانے میں ان کے استاذ حضرت علامہ محمد زاہد کوثر حنفی رحمہ اللہ (متوفی 1371ھ) نے ان کو مُلّا علی قاری رحمہ اللہ کی کتاب” فتح باب العنایۃ بشرح کتاب النقایۃ”پڑھنے اور اپنے پاس رکھنے کی تاکید فرمائی تھی، کتاب چونکہ نایاب ہو گئی تھی، اس لیے شیخ ابوغدّہ نے اس کی تلاش میں طویل محنت اور دعائیں کیں، بالآخر ایک نسخہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اپنی منفرد تحقیق کے ساتھ اس کی پہلی جلد شائع کردی، دوسری جلد کا کام جاری تھا کہ شیخ کا انتقال ہوا اور اب ان کے ہونہار صاحبزادے شیخ سلمان ابو غدہ حفظہ اللہ اس کی تکمیل میں مصروف ہے، اللہ تعالی ان کو تکمیل کی توفیق عطا فرمائے۔
شیخ عبدالفتاح ابوغدّہ نے اپنی تحقیق کے مقدمے میں مذکورہ ناپید کتاب تک پہنچنے کا جو عبرت انگیز واقعہ ذکر کیا ہے، اس کا ترجمہ و مفہوم پیش کیا جا رہا ہے:
جب میں "کلیۃ الشریعۃ- جامع ازہر ” کا طالب علم اور قاہرہ میں مقیم تھا، تو ہمارے استاذ حضرت علامہ محمد زاہد کوثری رحمۃ اللہ علیہ سے قریبی وابستگی رہی، اس دوران انہوں نے ایک دفعہ مجھے تاکید فرمائی تھی کہ میں مُلّا علی قاری کی کتاب "فتح باب العنایۃ بشرح کتاب النقایۃ” کو تلاش کر کے اپنے پاس استفادہ کے لیے رکھوں، میرے استاد کو چونکہ یہ معلوم تھا کہ میں نایاب اور مفید کتابوں کا دلدادہ ہوں، اس لیے مجھے مذکورہ کتاب تلاش کرنے کا حکم دیا، میرا خیال یہ تھا کہ مذکورہ کتاب ہندوستان کی چھپی ہوئی ہوگی اور قاہر میں چھ سال قیام کے دوران برابر اس کو تلاش کرتا رہا اور اپنی تعلیم کی تکمیل تک جس کتب خانے میں بھی کچھ اندازہ ہو جاتا کہ شاید یہاں پر موجود ہو، وہاں اسے ڈھونڈتا رہا ،لیکن اس کا کوئی اتاپتا نہیں چل سکا۔
اور جب قاہرہ سے اپنے وطن حلب لوٹا،تو جس شہر میں بھی جانا ہوتا یا جس کتب خانہ کی زیارت ہوتی، میں برابر مذکورہ کتاب کو تلاش کرتا اور چونکہ مذکورہ کتاب کا تعلق فقہ حنفی سے تھا، اس لیے میرا خیال یہ تھا کہ ہندوستان کی چھپی ہوئی ہوگی اور کتاب فروشوں سے اس امید پر ہندوستان کے چھپی ہوئی فقہ حنفی کی عام کتابوں سے متعلق پوچھتا رہتا کہ ہو سکتا ہے اپنی مطلوبہ کتاب ان کی ضمن میں مل سکے، اس لیے کہ بعض مرتبہ کتاب فروشوں کو کتاب کا نام یاد نہیں رہتا اور دمشق کی کتاب فروشوں میں سے کچھ پرانے حضرات ایسے بھی تھے جو پرانے اور عمدہ کتابوں سے متعلق کافی معلومات رکھتے تھے اور خود ان کے پاس بھی ایسی کتابوں کا ایک اچھا ذخیرہ موجود تھا البتہ ان کو بیچنے میں سختی سے کام لیتے تھے اور کافی مہنگے داموں فروخت کرتے تھے۔ ان حضرات میں سے سید عزت القُصیباتی اور ان کے والد اور شیخ حمدی السفر جلانی اور سید احمد عبید بھی تھے۔ میں نے سید عزت القصیباتی سے "فتح باب العنایۃ "سے متعلق یہ کہہ کر دریافت کیا کہ ہندوستان کی چھپی ہوئی کتاب ہے ،انہوں نے کہا کہ ہاں میرے پاس موجود ہے اور مذکورہ کتاب کے بجائے علامہ عینی کی کتاب "البنایۃ بشرح الہدایۃ”جو چھ ضخیم جلدوں میں تقریباً سوسال پہلے سن 1293ھ کی چھپی ہوئی تھی، نکال کر پیش کردی ،میں نے اس کتاب کا نام اگرچہ نہیں لیا تھا، تام یہ بھی ان نایاب اور عمدہ کتابوں میں سے ایک تھی جن کو میں تلاش کر رہا تھا، لہذا میں نے مناسب قیمت پر یہ کتاب ان سے خرید لی اور انہوں نے زیادہ قیمت اس لیے وصول نہیں کی کہ میں نے اس کتاب کا نام تو نہیں لیا تھا، پھر میں نے شیخ حمدی السفرجلانی رحمہ اللہ سے کتاب کے بارہ میں معلوم کیا، تو انہوں نے کہا کہ یہ روس کے ایک شہر قزّان کی چھپی ہوئی ہے اور کبریت احمر سے زیادہ ناپید ہے اور اپنی پوری زندگی اور کتابوں کے مشغلے سے وابستہ ہونے کے دور میں صرف ایک نسخہ میرے ہاتھ آیا تھا ،جو میں نے علامہ کوثری کو اتنے اونچے داموں بیچا کہ تصور سے بالاتر ہے۔ ان کی اس بات سے یہ تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ کس شہر کی چھپی ہوئی کتاب ہے ،البتہ ساتھ ساتھ اس کے دستیاب ہونے کی امید بھی کمزور ہو گئی۔
اور جب اللہ تعالی نے مجھے سن 1374ھ کو پہلی بار اپنے بیتِ کریم کے حج کا موقع نصیب فرمایا اور میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوا ،تو اس امید پر وہاں کے کتب خانوں میں مذکورہ کتاب کو تلاش کرتا رہا کہ شاید روس سے بلد اللہ الحرام کی طرف ہجرت کرنے والوں کے ساتھ یہ کتاب بھی پہنچ گئی ہو، لیکن مجھے کامیابی نہ مل سکے، پھر اللہ تعالی کی عنایت نے مکہ مکرمہ کے چند معمولی بازاروں میں سے ایک بازار کے اندر ایک گوشہ نشین بزرگ کتب فروش تک مجھے پہنچایا ،جن کا نام تھا شیخ مصطفی بن محمد شنقیطی سلمہ اللہ تعالی ،میں نے ان سے کچھ کتابیں خرید لی اور ناامیدی کی کیفیت میں میری مطلوبہ کتاب کے بارے میں بھی ان سے پوچھا ،تو انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک ہفتہ پہلے میرے پاس اس کا ایک نسخہ آیا تھا ،جو میں نے علماء بخارا میں سے ایک شخص کے ترکہ سے خریدا تھا اور پھر تاشقند کے ایک عالم کو اچھی خاصی قیمت پر بھیج دیا، مجھے پورا یقین نہیں ارہا تھا کہ یہ میری مطلوبہ کتاب ہوگی، لیکن جب انہوں نے کتاب کی پوری کیفیت بیان کی تو معلوم ہوا کہ یہ وہی کتاب ہے جس کے حصول کے لیے میں چکر پر چکر کاٹتا رہا ہوں اور عرصہ سے اس کی تلاش میں ہوں۔
میں نے ان سے کہا کہ وہ تاشقندی عالم کون تھے جنہوں نے کتاب خریدی؟ وہ کچھ دیر تک سوچنے کے بعد بتانے لگے کہ ان کا نام شیخ عنایت اللہ تاشقندی تھا۔ میں نے کہا کہ ان کی رہائش گاہ یا کام کرنے کی جگہ کہاں ہے؟ کہنے لگے مجھے مزید کچھ بھی پتہ نہیں، میں نے کہا کہ میں انہیں کیسے تلاش کروں گا؟ انہوں نے کہا کہ میں کچھ نہیں بتا سکتا۔ اس صورتحال سے کتاب یا اس کے خریدار ملنے کی ناامیدی میں اضافہ ہوا، لیکن پھر بھی میں جس بخاری شخص کو مسجد حرام یا مکہ کے بازاروں میں دیکھتا، اس سے شیخ عنایت اللہ کا پوچھتا اور جن مدارس یا رباطات سے متعلق مجھے معلوم ہوتا کہ یہاں بخاری حضرات قیام پذیر ہیں، وہاں جا کر مذکورہ بخاری شیخ کو تلاش کرتا، یہاں تک کہ مکہ سے باہر جو محلے واقع تھے اور مجھے معلوم ہوتا کہ وہاں پر بخاری حضرات رہتے ہیں ،وہاں بھی جا کر پوچھتا، لیکن مطلوبہ شخص کا ملنا دشوار تر ہو گیا، اگرچہ مکہ مکرمہ میں عنایت اللہ نام کے بہت سارے دوسرے حضرات رہتے تھے۔
میری مسلسل تلاش نے اخر میں مجھے شیخ عبدالقادر تاشقندی بخاری ساعاتی رحمت اللہ علیہ تک پہنچایا، جو مکہ کے کنارے میں واقع محلہ "جرول "میں قیام پذیر تھے، میں نے ان سے مطلوبہ تاشقندی شیخ کے بارے میں معلوم کیا، تو انہوں نے ان کو پہچانا اور ان کا صحیح نام "شیخ میر عنایت تاشقندی” بتایا ،لیکن ان کی قیام گاہ یا ملنے کی جگہ سے چونکہ وہ لاعلم تھے، اس لیے مجھ پر ایک مایوسی کی کیفیت آگئی اور جس شیخ کے پاس سے "فتح باب العنایۃ” ملنے کی توقع کی جا رہی تھی، ان سے ملاقات کی امید بظاہر دم توڑ گئی، اس کے بعد میں نے کعبہ معظمہ (زادہا اللہ تشریفاً وتعظیماً) کے ارد گرد طواف کے دوران اللہ تعالی سے یہ دعا مانگنی شروع کیا کہ مجھے اس مطلوبہ شخص سے ملادیں اور میرے لیے اس کتاب کا حصول آسان فرمادیں اور دعا مانگنے کا یہ سلسلہ ایک ہفتے تک برابر جاری رکھا اور اللہ جانتا ہے کہ میرا یہ ہفتہ اس کیفیت میں گزرا کہ میرا دل مذکورہ کتاب اور اس کے مالک کی تلاش میں پریشان تھا۔
مذکورہ کیفیت کے ساتھ میں ایک دن بازار "باب زیادۃ” میں چل رہا تھا (باب زیادۃ مسجد حرام کی توسیع سے پہلے اس کے دروازوں میں سے ایک دروازے کا نام تھا) اس دوران مکہ مکرمہ کے ایک پرانے دمشقی تاجر نے مجھے دیکھا، جن کو ابو عرب کہاں جاتا تھا اور مکہ مکرمہ میں ان کی تجارت گاہ تھی، انہوں نے مجھے شامی ہیئت و لباس میں دیکھ کر اپنے یہاں بلایا اور شام اور شام والوں کے احوال معلوم کرنے لگے، میں نے اپنے مطلوبہ کتاب سے شدتِ محبت کے تحت ان سے مذکورہ بخاری شیخ کے بارے میں پوچھا، حالانکہ یہ تو خود دمشقی تاجر تھے، انہوں نے کہا کہ سامنے والی دکان ان کے داماد کی ہے اور وہ سب سے زیادہ ان سے واقف ہے۔
اللہ کی قسم ! میں زیادہ خوشی کی وجہ سے ان کی تصدیق نہیں کر پا رہا تھا۔
بہرصورت! میں ان کے داماد کے پاس گیا اوران سے شیخ عنایت کا پوچھا ، وہ حیران ہو کر کہنے لگے کہ ان کو تلاش کرنے اور ان سے ملنے کی اپ کو کیا ضرورت پیش آگئی، میں نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں میرا ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ ہوگیا کہ میں ان کو برابر ڈھونڈ رہا ہوں۔ اللہ اپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، آپ اس سلسلے میں میری رہنمائی کیجیے ۔انہوں نے "حی المسفلہ” میں واقع ان کی رہائش گاہ کی پوری نشاندہی کر دی ،جو کہ "قھوۃ السقیفۃ” کے بغل میں واقع تھی، میں بار بار دن رات ان کے گھر جاتارہا ،یہاں تک کہ ان سے ملاقات ہو گئی اور وہ اپنی من پسند قیمت پر کتاب دینے کے لیے امادہ ہو گئے، پس یہ میری زندگی کی خوشیوں میں سے ایک اہم خوشی تھی اور اللہ تعالی نے مجھے کتاب کی جلد اول کی تحقیق واشاعت کی توفیق عطا فرمادی اور اللہ تعالی سے درخواست ہے کہ اپنے فضل و کرم سے باقی حصے کی اشاعت کی توفیق بھی عنایت فرمادیں”۔
(حکایت مہر و وفا ،ص١٣٥- ١٤٠)

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے