कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جمعہ – محاسبۂ نفس اور زندگی کو درست کرنے کا دن

تحریر:ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر
مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306

جمعہ مسلمانوں کی زندگی میں محض ایک دن کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا ہفتہ وار موقع ہے جو انسان کو اپنے آپ سے ملاقات کی دعوت دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں یہ یاد دلانے آتا ہے کہ زندگی صرف روزگار، مصروفیات اور معمولات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل اخلاقی اور روحانی سفر ہے، جس میں ہر موڑ پر خود احتسابی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جمعہ گویا اس سفر میں ایک ٹھہراؤ ہے، ایک لمحہ ہے جس میں انسان کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ خود سے سوال کرے اور ایمانداری سے جواب تلاش کرے۔
آج کا انسان خود کو وقت کی کمی کا شکار بتاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ فرصت نہیں، حالات سازگار نہیں، ماحول اجازت نہیں دیتا۔ مگر سچ یہ ہے کہ ہم نے سب سے زیادہ لاپرواہی اپنے باطن کے ساتھ برتی ہے۔ ہم نے خود کو جانچنے کا عمل مشکل سمجھ کر چھوڑ دیا ہے۔ ایسے میں جمعہ کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم نے خود کو نہیں بدلا تو حالات کبھی نہیں بدلیں گے۔
جمعہ کی نماز سے پہلے خطبہ، قرآن کی آیات، نصیحت کے جملے اور دعا کے کلمات دراصل ایک مکمل نظامِ فکر پیش کرتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ مسلمان ہونا صرف چند رسومات ادا کرنے کا نام نہیں، بلکہ ذمہ داری، شعور اور کردار کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر اس پیغام کو سن کر بھی نہیں سنتے۔ ہمارے کان کھلے ہوتے ہیں مگر دل بند ہوتے ہیں۔
اکثر یہ منظر دیکھنے میں آتا ہے کہ جمعہ کے خطبے کے دوران ذہن کہیں اور ہوتا ہے۔ کاروبار کے منصوبے، ذاتی مصروفیات اور موبائل فون کی دنیا ہمیں اس لمحے سے کاٹ دیتی ہے جو ہمیں جوڑنے آیا ہوتا ہے۔ ہم نماز ادا کر لیتے ہیں، مگر نماز ہمیں بدل نہیں پاتی۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں جمعہ کا اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
محاسبۂ نفس دراصل زندہ ضمیر کی علامت ہے۔ جو انسان اپنے اعمال، رویّوں اور فیصلوں پر غور نہیں کرتا، وہ آہستہ آہستہ بے حس ہو جاتا ہے۔ جمعہ ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ ہفتے میں کم از کم ایک دن ایسا ضرور ہونا چاہیے جب ہم خود سے سچ بولیں۔ ہم یہ پوچھیں کہ کیا میں نے کسی کا حق مارا؟ کیا میں نے کسی کا دل دکھایا؟ کیا میں نے اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کیے؟
بدقسمتی سے ہمارے سماج میں دینداری کو اکثر ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ اسی تقسیم کا ایک افسوس ناک پہلو نماز کے معاملے میں بھی نظر آتا ہے۔ بہت سے لوگ جمعہ کی نماز کا تو خصوصی اہتمام کرتے ہیں، مگر اسی دن کی فجر اور عصر کی نماز ان کی زندگی سے غائب ہوتی ہے۔ گویا وہ آٹھ کے نمازی بن کر رہ گئے ہیں، حالانکہ نماز کا مطالبہ پورے دن اور پوری زندگی سے ہے۔
اسی تناظر میں اہلِ فکر نے ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے نمازیوں کو چار واضح اقسام میں تقسیم کیا ہے، جو ہمارے دینی رویّوں کی اصل تصویر پیش کرتی ہیں۔
پہلی قسم “ٹھاٹھ کے نمازی” کی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پنج وقتہ نماز کے پابند ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی میں نماز کوئی بوجھ یا رسمی عمل نہیں بلکہ ایک منظم اور شعوری ذمہ داری ہوتی ہے۔ دوسری قسم “آٹھ کے نمازی” کہلاتی ہے، جن سے مراد وہ افراد ہیں جو پورے ہفتے میں صرف جمعہ کی نماز پر اکتفا کرتے ہیں۔ تیسری قسم “تین سو ساٹھ کے نمازی” کی ہے، یعنی وہ لوگ جو سال بھر میں صرف عید کی نماز پڑھتے ہیں۔ اور چوتھی، سب سے زیادہ دردناک قسم “کھاٹ کے نمازی” کی ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی نماز ادا نہیں کی، مگر وفات کے بعد لوگوں نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھ لی۔
جمعہ کا دن دراصل اسی انجام سے پہلے انسان کو جھنجھوڑنے آتا ہے۔ یہ دن ہر مسلمان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ دین جزوی نہیں، مکمل مطالبہ کرتا ہے۔ جمعہ ہمیں وقتی اور رسمی دینداری سے نکال کر شعوری اور مستقل عبادت کی طرف بلاتا ہے، تاکہ انسان “ٹھاٹھ کے نمازی” بننے کی کوشش کرے، نہ کہ محض مواقع کا مسلمان بن کر زندگی گزار دے۔
جمعہ ہمیں صرف عبادات کا سبق نہیں دیتا، بلکہ معاملات کی درستگی کا بھی پیغام دیتا ہے۔ سچائی، دیانت، نرمی، عدل اور برداشت وہ صفات ہیں جو جمعہ کے پیغام کا حصہ ہیں۔ اگر جمعہ کے بعد بھی ہمارے لہجے میں سختی، معاملات میں بے ایمانی اور رویّوں میں تلخی برقرار رہے تو ہمیں اپنے جمعہ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
آج ہمارے معاشرے میں بے چینی، غصہ اور عدم برداشت عام ہو چکی ہے۔ لوگ چھوٹی باتوں پر بکھر جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں جمعہ کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ جمعہ ہمیں تحمل سکھاتا ہے، اختلاف کے باوجود احترام سکھاتا ہے اور یہ یاد دلاتا ہے کہ مسلمان کا اصل امتحان مسجد کے باہر شروع ہوتا ہے۔
خاندان کے دائرے میں بھی جمعہ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہ دن ہمیں شوہر، بیوی، والدین اور اولاد کے حقوق یاد دلاتا ہے۔ اگر جمعہ کے بعد بھی گھر میں سخت لہجہ، بے صبری اور بے توجہی برقرار رہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم نے جمعہ کی روح کو نہیں سمجھا۔
اسی طرح پیشہ ورانہ زندگی میں بھی جمعہ ہمیں دیانت اور ذمہ داری کا سبق دیتا ہے۔ استاد ہو یا تاجر، ملازم ہو یا افسر، ہر شخص کے لیے جمعہ یہ سوال چھوڑ جاتا ہے کہ کیا میں اپنے کام کے ساتھ انصاف کر رہا ہوں؟
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جمعہ کو ایک زندہ دن بنائیں۔ ایک ایسا دن جو ہمیں ہر ہفتے تھوڑا سا بہتر انسان بنا دے۔ اس کے لیے بڑے دعوؤں کی ضرورت نہیں، بس ایک چھوٹا سا فیصلہ کافی ہے: اس ہفتے ایک غلطی کم، ایک اچھائی زیادہ۔
یہی چھوٹے فیصلے آہستہ آہستہ بڑی تبدیلی کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ جمعہ ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ انسان ایک دن میں کامل نہیں بنتا، مگر ایک دن میں اپنی سمت ضرور درست کر سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جمعہ اللہ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ دن ہمیں غفلت سے بیداری، مایوسی سے امید اور انتشار سے ترتیب کی طرف بلاتا ہے۔ اگر ہم نے اس دن کی قدر کر لی تو ہماری زندگی خود بخود سنورنے لگے گی۔

جمعہ آئے اور گزر جائے، مگر انسان وہی کا وہی رہے، تو یہ خسارے کی علامت ہے۔ اور اگر جمعہ آئے اور انسان کے دل میں ایک سوال، ایک ندامت اور ایک مضبوط ارادہ چھوڑ جائے، تو یہی اس دن کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے