कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یورپ میں چارہفتے

یورپ میں چارہفتے
مصنف:شورش کاشمیری
تبصرہ:محمد رضوان الدین حسینی
شریک دورہ حدیث دارالعلوم وقف دیوبند

کسی بھی کتاب پر تبصرہ کرنا،اس کی خوبیوں اورخامیوں کو بیان کرناایک ادیب کامل کاکام ہے،مجھ جیسےہیچ مداں کمترین خلائق ناتجربہ کار کسی کتاب پر کیاتبصرہ کرےکیااور کیسےلکھےتاہم مطالعہ کےبعد جو کچھ بھی باتیں شورش کاشمیری کی اس کتاب کے بابت ذہن میں آئیں اسی کو اپنےہیچ پوچ قلم سےصفحہ قرطاس پر بکھیرنےکی ادنی سی کوشش کی ہے-
اردو ادب کی تاریخ میں آغاعبد الکریم شورش کاشمیری بھی ایک ایسانام ہے،جو یقینارہتی دنیاتک اپنےزلہ رباوں کو سامان ادب فراہم کرتارہے گا،اور اپنےکارہائےنمایاں کی وجہ سےتابندہ وپائندہ رہےگا،قدرت نےشورش کو سیاست وادب ہر دومیدان میں بےپناہ کمالات سےنوازاتھا،یہی وجہ ہے کہ گو ان کی حیات مستعار کابیشتر حصہ سیاست کی خارزار وادیوں کی آبلہ پائی میں بسر ہوا،مگر کبھی بھی زبان و ادب سےان کاپنڈ نہ چھوٹابلکہ جہاں انہوں نےاپنی گرمی گفتار سےسیاسی ایوانوں کو لرزہ براندام کیا،وہیں اپنی فکر و نظر کی تمام تر توانیاں صرف کر کے ادب اردو کی زلف پیچاں کو بھی سنوارتےر ہے،شورش کاشمیری بہ یک وقت اردو زبان کےیگانہ خطیب بھی تھے،باکمال شاعر بھی اور سحرنگار ادیب بھی اور حقیقت پسند صحافی بھی –
ان کی خطابت کاسانچہ اساطین فن کی صحبت سےتیارہواتھا بالخصوص حضرت علامہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری رح کی ہمہ وقتی صحبت ان کےسمندر خطابت کےلیےتازیانہ ثابت ہوئی،چناچہ عنفوان شباب ہی میں وہ ایک عظیم الشان خطیب کی حیثیت سےمتعارف ہوگئے،اور جب مجلس احرار سےوابستہ ہوگئےتو غیر منقسم ہندوستان کےبیشتر خطے "شورش کاشمیری زندہ باد ” کےنعروں سےگوںجنےلگےاور آپ کی خطابت کےوقت ہرسامع محو حیرت ہوجاتااور بےاختیارکہہ اٹھتا:
دیکھناتقریر کی لذت کہ جو اس نےکہا
میں نےجانا کہ گویایہ بھی میرے دل میں ہے
سفرروم کی روداد اپنےالبیلےاور انوکھےانداز میں بیان کرتےہوئےایک جگہ رقمطراز ہیں:
روم مجسموں اور چشموں کاشہر ہے،تمام شہر میں بےشمار مجسمےاور چشمےہیں اور ہرمجسمہ چشمے سےڈھکاہوا ہے،پانی کی لہریں اعضاوجوارح سےنکلتی ہیں ،اور روشنیوں کاامتزاج انہیں کچھ زیادہ ہی حسین کردیتاہےجگہ جگہ بت ہیں یادفوارے کوئی سامکان ان سے خالی نہیں بڑی سڑکیں دوچار ہوں گی اکثرلاہور* *سےملتی جلتی گلیاں اور بازار ہیں مگر صفایی اور سجاوٹ میں بہت آگےان تنگ کوچوں اور تنگ بازاروں میں بھی فواروں کازور ہے-
تریوکاچوک ایک عجیب جگہ ہے،یہاں نیچپوں دیوتاکامجسمہ نصب ہے،ہاتھ میں منہ زور گھوڑوں کی لگامیں ہیں ،اردگرد کی مورتیوں سےفوارےچھوٹ رہےہیں ان فواروں کاپانی ایک قطعہ سےدوسرےقطعےکی آغوش میں کنواریوں کےرقص کی طرح موجیں مارتاہواایک چھوٹی سی جھیل بن جاتا ہے،اس چوک کو محبت کا چوک بھی کہتےہیں-روایت یہ ہے کہ گرم گرم جوانیاں یہاں آپس میں عہد محبت کرتی اور پانی میں سکے ڈال کر ایفائےعہد کاحلف اٹھاتی ہیں ،ایک دوسرےچوک میں سنگ مرمر کےسات مجسمےہیں اور ہر مجسمےکےاعضاسےپانی کی دھاریں پھوٹتی ہیں ،مثلاپہلےمجسمےکے دل سےپانی بہتاہے جو عشق کےآغاز کاکنایہ ہے،ساتویں مجسمےکی آنکھوں سےپانی گرتاہےجو عشق کےانجام کی تعبیر ہے ،اس آخری روایت کےراوی ماتری ہیں جنہیں عشق کرنےکاشوق تو ہےلیکن حوصلہ نہیں بیچارےہر جگہ اپنی بی بی کو یاد کرتےاور خوش ہولیتےہیں-
(یورپ میں چارہفتے:ص.113)
دیکھیےکس البیلےانداز میں اپنی روداد کو بیان کررہے ہیں۔
یقیناشورش کاشمیری کےقلم میں فاطر کائنات نےرنگارنگی اور تنوع خوب بھردیاتھا شورش صاحب شاعر بھی تھے عضب کےشاعر!قادر الکلام اور فطری شاعر زبان وادب کےباتاج بادشاہ بقول شاعر:
زباں ایسی کہ دل کی کھیتیاں سرسبز ہوجائیں
بیاں ایساکہ قد اونچارہےجس کابیانوں میں
شورش کاشمیری دوسرےادیبوں سےاس وجہ سےبھی ممتاز ہیں کہ انہیں وقت کےاکابر علماء سےگہرےمراسم رہے-
ان کےادبی کمال فن اور خون جگر کاثمرہ ہےکہ ان کی ہر کاوش جدید وجاوداں نظر آتی ہے۔ان پر کئ دہاییاں بیت گئیں وقت کی تہ بہ تہ پرتوں میں لگاتاراضافہ ہورہا ہے۔لیکن ذوق سلیم والاکوئی بھی شخص یہ دعوی نہیں کرسکتاکہ ان کی تخلیقات پر رفتار زمانہ کی دھول چڑھی ہو،وہ تازگی ورعنائی،وہ دلکشی و جاذبیت،وہ دل برائی وجاں ربائی،وہ رنگین ادائی اور شوخ نگاری جو پہلےدن تھی وہ اب بھی پائندہ ہے- اس کی ایک تازہ مثال آپ کی تصنیف یورپ میں چار ہفتےہےجو تقریبا65سال بعد شائع ہوئی آج بھی اس کو وہی پذیرائى حاصل ہوئی جو پہلےتھی-
آپ کےگوہر بار قلم کی بیسیوں تخلیقات ہیں ان ہی میں سےایک یہ یورپ میں چار ہفتے ہے-آپ نےجن الفاظ کاانتخاب کیاہےاور جن تراکیب وتعبیرات کو ملتقط کیاہےاس کےآپ خود موجد ہیں ، ایک جگہ تناسب حسن کو بیان کرتےہویےکس انوکھےانداز میں دوشیزاوں کےعکس کو سپرد قرطاس کررہے ہیں:
تناسب حسن کےاعتبار سےجرمن عورت کو تمام یورپ پر ترجیح دی جاسکتی ہے۔
لمبی لمبی پلکوں میں ڈھکی ہوئی موٹی موٹی سیاہ آنکھیں بغیر کسی روک کےدل میں اتر تی چلی جاتی ہیں۔ان کےلہجےمیں میٹھاس ہےاس آہستگی سےیاہ(ہاں)کہتی ہیں جیسےاکتارےریشم کی جھلمل ان کےبرعکس یورپ کی عام لڑکیاں ارزاقی آنکھیں رکھتی اور آریایی حسن سےبالکل کوری ہیں ،ان کااپناایک حسن ہے،جرمن عورت میں سروقامتی کےعلاوہ جسم کابانکپن بھی ایک گونہ توازن رکھتاہےمگر ان کے خرام میں فرانسیسی عورت کے علی الرغم لچک کم ہے۔
(یورپ میں چارہفتے:ص.142)
دیکھیےکس البیلےانداز میں جرمن عورت کےظاہری خد وخال کو بیان کررہےہیں روزمرہ کی زندگی کو الفاظ کی قیدمیں لاکر اسےادبی شاہکار بنانایہ تو شورش صاحب سےسیکھے-
شورش کاشمیری اپنےنگارشات سے قاری کو الفاظ کےخوبصورت جام میں آتش سیال دینےکےخوگر ہیں بات کتنی ہی غیر اہم کیوں نہ ہو اگر وہ اسےبیان کرنےپر آمادہ ہوجائیں تو وہی زائد کلام گوہر شاہ وار لگنےلگے مثلادیکھےائیرپورٹ کی واپسی پرجو منظر انہوں دیکھاکس شگفتگی سےبیان کررہےہیں:
ساڑھےبارہ بجےکےلگ بھگ ہم ائیر پورٹ واپس آگئے یہاں باہر پانی اور فواروں کاطائفہ پنگھٹ پر ناچتی ہویی لڑکیوں کےجھرمٹ کی طرح ناچ رہا ہے ، اورگررےہوئےپانی کی بوندیں رقاصہ کےگھنگرؤوں کی طرح لو دےرہی ہیں ،یہ روداد اییرپورٹ کےریستوران میں بیٹھ کر لکھ رہاہوں-ادھر ادھر شرابی میزوں پر کتاب مقدس کی آیتیں شطرنج کےپٹےہوئےمہروں کی طرح بکھری پڑی ہیں۔اکثرلڑکیاں تاش کےپتےمعلوم ہوتی ہیں ،ان سےکھیلنےوالےڈاٹ بغیر بوتلوں کی طرح کھلےپڑےہیں –
(یورپ میں چارہفتے:ص.115)
عاجز نےآپ کی چار پانچ کتابوں کامطالعہ کیا مثلا شب جائےکہ من بودم ، علامہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری سوانح حیات، اس بازار میں ، اور اب یورپ میں چارہفتے،ان تمام تحریروں کی روشنی میں ایک بات میں کہہ سکتاہوں کہ شورش صاحب پکےمذہبی تھے،ان کاظاہری حلیہ اور وضع قطع کا بیرونی انداز گرچہ پکےمسلمان کانہ تھا ، لیکن ان کےسینےمیں جو دل تھاوہ نور ایمان سےانتہاہی منور تھا ، ان کی روشن وشگفتہ جبیں سےہرکویی اندازہ لگاسکتاتھاکہ وہ مجسم عزیمت اور ثبات وپامردی کےایک مردکوہ پیکر ہیں ، جنہوں نےانہیں نہیں دیکھااور کاغذی پیرہن میں ملبوس ان کاتصویری پیکر بھی ان کی نظر سےنہیں گزرا ان کےلیےان کی تحریریں ہی کافی ہوںگی وہ سوز و ساز وہ دل گدازیاں آہ و فغاں کی وہ رسمیں جو خالص اور مذہبی مسلمانوں کاشعارہوتی ہیں ، ساری ان کی نگارشات سےمترشح ہوں گی ان کی کیفیت باطن کی جھلک دیکھنی ہواور ان کےاندر کےمسلمان کامشاہدہ کرناہوتو دیکھیےوارفتگی سے پر ان شہ پاروں کو اور ربودگی سےمملو ان عبارتوں کو یہی بات کوئی اور کہےگاتو اس میں وہ خوبو نہ ہوگی جو شورش کاشمیری کی بات میں ہے-
امید ہے قارئین اس کلپترہ گوئی اور لاطائل نویسی سےبور نہ ہوں گے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے