कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حضرت مولانا سیّد میر ذاکر علی صاحب محمدی کا مختصر تعارف

از قلم مفتی محمد اسلم جامعی
(صدر ادارہ پیغامِ جامعی مالیگاؤں )
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

منفرد خصائل و محاسن:
آپ سادگی و سنجیدگی، تواضع و فروتنی کے عادی ہیں، خوش رو، خوش گفتار اور خوش پوشاک سے مزین ہیں، صالحِ فکر و شگفتہ رقم اہلِ قلم ہیں، بہ وقتِ ملاقات لبوں پر شریں تبسّم ہویدا ہوتا ہے،خردوں کےعلمی کاموں اور کارناموں پر بطورِ تشجیع بلند کلمات سے داد دینے کا انداز بڑا نرالا ہے، آپ ہر ایک کے تئیں نفع رسا ہیں، علاوہ ازیں ایک بلند فکر اور عالی عزم عالم دین ہیں۔
اسمِ گرامی وتاریخ پیدائش:
آپ کا اسمِ گرامی سیّد میر ذاکر علی ابن سیّد میر طالب علی ہیں، پیدائش ریاستِ مہاراشٹر کے ایک معروف ضلع پربھنی میں ایک متوسط اور دینی گھرانے میں 1969 میں ہوئی، آپ کی عمر 6 سال ہوئی تو، پدرِ محترم نے داغِ مفارقت دی، برادرِ کلاں جناب سیّد میر اقبال علی صاحب نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی، یعنی ابتدائی تعلیم و تربیت اور اخلاقی نشوونما بردارِ بزرگ کی مرہونِ منّت ہے، گھر کے دینی ماحول کا اثر ہر ایک فرد پر نمایاں تھا اسی اثر نے برادرِ کلاں جناب سید میر اقبال صاحب کے دل میں داعیا پیدا کیا کہ اپنے چھوٹے بھائی کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کریں اور خود آپ کا ذوق و مزاج بھی نسبتِ علمی سے متصف ہونے کا تھا بلکہ آپ کے والد محترم کی آرزو تھی کہ آپ عالم بنے
ابتدائی تعلیم و تربیت:
اسی ذوق اور والدِ گرامی کی آرزو نے حصولِ علم کی طرف راغب کیا، تو اوّلاً مدرسہ معراج العلوم ہنگولی میں داخلہ لیا یہاں پر دینیات سے لیکر عربی کی متوسطات تک تعلیم، حضرت مولانا سید ظفر ہاشمی ندوی صاحب، حضرت مولانا عبدالقادر صاحب ملی،حضرت مولانا عظیم الدین صاحب ملی، حضرت مولانا نظام الدین صاحب ملی، حضرت مولانا عبدالقدیر ندوی صاحب وغیرہ حضرات کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرکے حاصل کیں ، پھر مزید تحصیلِ علم کے شوق نے دارالعلوم محمدیہ کے طرف آمادہ کیا،
دارالعلوم محمدیہ میں داخلہ:
مادرِ علمی دارالعلوم محمدیہ کا اپنی اساس کے وقت سے ہی دور دور تک شہرہ پھیلا ہواتھا ریاست اور بیرونِ ریاست میں علمی ڈنکا بج رہا تھا، حالاں کہ در و دیوار اور عمارت کے اعتبار سے چند کمرے اور مختصر عمارت تھی، مگر تعلیم کی بلندی اور ناموری، ہر ایک طالب علم کو اپنی جانب مائل کررہی تھی، چناں چہ حضرت مُفکرِ اسلام مولانا ابو الحسن علی ندوی رح نے فرمایا کہ مدرسہ اینٹ اور پتھر کا نام نہیں بلکہ تعلیم کا نام ہے، اور مورّخِ اسلام حضرت مولانا قاضی اطہر مبارک پوری رح نے فرمایا، اگر طالبِ علم میں محنت اور کوشش کے ساتھ آگے بڑھنے کا ذوق و شوق ہو تو چھوٹی جگہ رہ کر بڑا ہوسکتا ہے اور اگر یہ باتیں نہ ہو تو بڑی جگہ رہ کر چھوٹا ہی رہے گا چناں چہ آپ نے دارالعلوم محمدیہ میں 1982 کے اوائل میں داخلہ لیا، اور یہاں آکر علم کی آغوش کشادہ ہوتی رہی اور آپ علم و فن کی جلوہ طرازیوں میں گُم ہوتے رہے مادرِ علمی میں آپ نے حضرت علامہ محمد سلیمان شمسی صاحب رح حضرت مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی، حضرت مولانا شکیل احمد صاحب قاسمی، حضرت حافظ عزیز الرحمٰن صاحب، حضرت مولانا خلیل احمد صاحب قریشی قاسمی وغیرہ حضرات کے آبِ دہن سے علومِ دینیہ اور فنون ادبیہ کی پیاس بجھائی، اور 1984 میں دارالعلوم محمدیہ سے فراغت حاصل کیں، (اس وقت آپ کی عمر پندرہ سال تھی ) مزید علمی توانائی کے لیے ندوة العلماء لکھنؤ کا سفر کیا،
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ:
دارالعلوم میں عالیہ ثالثہ و عالیہ رابعہ میں داخلہ لیا اور محنت لگن، کثرتِ مطالعہ کے ساتھ دو سال تک حضرت مولانا عارف صاحب سنبھلی رح حضرت مولانا عبدالنور صاحب رح حضرت مولانا شمسِ تبریز صاحب ندوی اور حضرت مولانا محمود الازھار صاحب ندوی رح کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور ادب کی تکمیل کیں
عصری تعلیم:
دینی تعلیم اور نسبتِ علمی سے سرشار ہوکر عصری علوم میں بھی مہارتِ تامہ حاصل کیں، انٹرمیڈیٹ یعنی بارہویں جماعت میں اچھے کارکس سے کامیاب ہوئے، موجودہ حالات میں عصری علوم سے وابستگی بھی ضروری ہے
تدریسی خدمات:
تحصیلِ علمِ دین کے بعد، اس امانت کے ذریعے نونہالانِ قوم کی ذہنی و اخلاقی کردار سازی اور علمی آبیاری کے لئے سات سال تک اپنے علاقے میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہیں، پھر دو سال 1991،1992 اشاعت العلوم اکل کوا میں تدریسی خدمت انجام دئیے پھر وہاں سے مستعفی ہوکر اپنے علاقے پربھنی میں مستقل سکونت اختیار کر لیں،
بلدیہ عظمی میں ملازمت:
◻️ 1994 سے تا دمِ تحریر بلدیہ عظمیٰ پربھنی میں برسرِ روزگار ہے، اور یہاں پر ملازمت کا دورانیہ تقریباً 31 سال ہورہا ہے، غالباً ایکاد سال کے بعد ملازمت سے ریٹائرڈ ہوجائے گے اتنی طویل مدت تک سرکاری ملازمت پر قائم ودائم رہنا، یقیناً یہ اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کے انجام دہی کے احساس کی طرف اشارہ کررہا ہے
قلم کا سفر و تحریری کاوش:
آپ ایک رواں دواں قلم کے مالک ہیں، ملک کے موقر اخبارات میں مختلف موضوعات اور متنوع عنوانات پر آئے دن آپ کے علمی ادبی اور مذہبی مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں، آپ جس موضوع پر لکھتے ہیں پوری توجہ اور انہماک اور ٹھوس معلومات کے ساتھ لکھتے ہیں آپ کا ہر مضمون سنجیدگی اور متانت کا آئینہ دار ہوتا ہے، اہلِ قلم بخوبی جانتے ہیں کہ مختصر مضمون زیبِ قرطاس کرنے کے لیے طویل ورق گردانی کرنا پڑتی ہے، بلکہ اس قلمی میدان کے شہسوار اور بادشاہوں کا مقولہ ہے 5 صفحہ لکھنے کے لیے 500 صفحات کا مطالعہ کرو، تاکہ مضمون نگاری کے وقت ذہن سے مضامین چھلکے، کُلّ اِناءٍ یَتَرَشَّحُ بِمَا فِیْه، کثرتِ مطالعہ کی بنیاد پر ہی قلم اپنی جولانی بکھیرے گی، آپ ملازمت، کثرتِ مطالعہ اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ ہفتہ میں ایک دو مضمون لکھتے ہیں فی الحال آپ کے مضامین کے تعداد بہت زیادہ ہے عن قریب آپ کے تمام مضامین، کتابی شکل میں مضامینِ محمدی کے نام سے منصّہ شہود پر آئے گے، علاوہ ازیں آپ کا ہمت و حوصلہ دلانے کا جذبہ بھی نہ صرف قابلِ تحسین بلکہ جمود کی چھائی ہوئی ہماری اس فضاء میں قابلِ تقلید ہے، کتنی ہی ایسی صلاحیتیں ہیں جن کے جوہر کی نکھار پر حوصلہ شکنی کے پردے پڑے ہوئے ہیں اور کتنی ہی ایسی قابلیتیں ہیں جن کی چنگاریوں کو جمود کے خاکستر ہی نے بجھا رکھا ہے
ادارہ پیغامِ جامعی کی جانب سے استقبال:
آپ کی جہدِ مسلسل اور فکرِ پیہم سے لیس تابندہ و درخشندہ خدمات اور کاوشات پر ادارہ کی جانب سے اعزاز و استقبال ہوگا، راقم السطور کو گزشتہ سال آپ کے شہر کے چند مشہور علماء کرام سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا انھوں نے کہا کہ مولانا میر ذاکر علی صاحب محمدی، محمدی فارغین میں بہت فعال، متحرک اور سر گرم عمل ہے، اور ہمہ وقت کسی نہ کسی علمی کام میں مشغول رہتے ہیں الحمدللہ والشكر للہ علاوہ ازیں آپ کی کئی خدمات ہیں اسی لیے 7 دسمبر 2025 بروز اتوار، ادارہ کی جانب سے آپ کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا انعقاد ہوگا

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے