कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غرور کی آگ اور انسان کی بربادی: عاجزی ہی انسانیت کا اصل زیور

تحریر: ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306

انسان کی زندگی میں سب سے بڑا امتحان وہ لمحہ ہوتا ہے جب اسے اپنی صلاحیتوں اور کامیابیوں پر فخر محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس احساس کی ابتدا معمولی ہوتی ہے، لیکن اگر دل میں جگہ بنا لے تو آہستہ آہستہ ایک ایسی آگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو سوچ کو جلا دیتی ہے، اخلاق کو متاثر کرتی ہے اور کردار کو تباہی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ غرور ایک باطنی بیماری ہے، جس کی شدت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب انسان خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتا ہے۔عاجزی ایک ایسی نعمت ہے جو انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے، رشتوں کو مضبوط بناتی ہے اور دل کو سکون دیتی ہے۔ ایک متواضع انسان کبھی خود کو بلند نہیں سمجھتا اور نہ ہی کسی کو حقیر سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ دلوں پر راج کرتے ہیں۔ دوسری طرف متکبر انسان اپنی انا کے خول میں قید رہتا ہے۔ اس کی نظر ہمیشہ دوسروں کی خامیوں پر ٹکی ہوتی ہے اور اپنی غلطیاں اسے دکھائی نہیں دیتیں۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑے بڑے بادشاہ، حکمران اور علم کے شہسوار صرف اس لیے زوال کا شکار ہوئے کہ ان کے اندر غرور نے گھر کر لیا تھا۔ فرعون کی ہلاکت ہو یا نمرود کا انجام، قارون کی تباہی ہو یا ابلیس کی محرومی، سب کے پس منظر میں ایک ہی خرابی تھی اور وہ تھی تکبر۔ یہ انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں وہ نہ حقیقت کو قبول کرتا ہے اور نہ نصیحت کو سنتا ہے۔انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی کامیابیوں کو اللہ کی نعمت سمجھے، اپنی قابلیت کو امانت جانے اور اپنی علمیت کو خدمتِ خلق کا ذریعہ بنائے۔ جب انسان اپنی حیثیت کو پہچان کر عاجزی اختیار کرتا ہے تو اس کا وقار بڑھتا ہے اور اللہ بھی اسے عزت عطا فرماتا ہے۔ دل کا سکون بھی اسی میں ہے کہ انسان اپنی اصل کو نہ بھولے اور سادگی، نرمی اور حلم کو اپنی شناخت بنائے۔غرور آدمی کو تنہا کر دیتا ہے۔ لوگ اس سے دور بھاگتے ہیں، بات کرنے سے جھجھکتے ہیں اور تعلقات کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس عاجزی دلوں کو جوڑنے والی طاقت ہے۔ ایک نرم گو انسان اپنی اخلاق سے دل جیت لیتا ہے اور کوئی دشمن تک دوست بن جاتا ہے۔ یہی وہ خوبی ہے جو نبی کریم ﷺ کے اخلاق کی بنیاد تھی۔ آپ ﷺ کے سامنے پہاڑوں جتنی ذمہ داریاں تھیں مگر دل میں ذرہ برابر غرور نہ تھا۔اگر انسان اپنی کمزوریوں پر بھی غور کرے، اپنی خطاؤں کو پہچانے اور اپنی ذات کو عاجزی کے آئینے میں دیکھے تو اس کی شخصیت میں نرمی پیدا ہوتی ہے۔ وہ فیصلہ کرنے سے پہلے سوچتا ہے، بولنے سے پہلے دل تولتا ہے اور چلنے سے پہلے قدم پر غور کرتا ہے۔ یہی سوچ انسان کو نکھارتی ہے اور اسے دوسرے انسانوں کے لیے منفعت بخش بنا دیتی ہے۔آخر میں بات صرف اتنی سی ہے کہ غرور انسان کو برباد کرتا ہے اور عاجزی انسان کو بناتی ہے۔ تکبر کا انجام ہمیشہ رسوائی ہے اور تواضع کا خاتمہ ہمیشہ کامیابی پر ہوتا ہے۔ انسان جتنا جھکتا ہے، اللہ اسے اتنا اٹھاتا ہے۔ زندگی کا اصل حسن اسی میں ہے کہ انسان نرمی، سادگی، برداشت اور عاجزی کو اپنا شعار بنائے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے