कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عہدِ رفتہ کی عظمتِ رفتہ کے چند اسلامی یادگار کی دید

از قلم مفتی محمد اسلم جامعی
(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ)
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

سفر سے انسان کے ذہن و مزاج کو جانچنے اور پرکھنے کا موقع ملتا ہے، انسان کی شخصیت اور کردار میں سفر کا بڑا دخل ہے، سفر درسگاہِ عبرت و نصیحت کے ساتھ، مشاہدہ کی قوت کو بھی جلا بخشتا ہے، بلکہ بقول قاضی اطہر مبارک پوری رح سفر کرنے سے شخصیت کی تکمیل ہوتی ہے قاضی صاحب کے اس معنی خیز جملہ میں جتنا بھی غور کیا جائے اس کی معنویت کی تہیں کھلتی جائیں گی،
جامع مسجد مانڈو:
ہماری گاڑی پیچ درپیچ راستہ پر سبک روی سے دوڑتی ہوئی، مانڈو گڑھ میں داخل ہوئی پہاڑوں کے قدرتی حصار نے، اس شہر کو ناقابلِ تسخیر بنادیا ہے، کیسے بلند حوصلہ اور آہنی عزم کے مالک تھے وہ مجاہد، جنھوں نے اس ناقابلِ تسخیر شہر کو فتح کیا،اور اپنی یادوں کے انمٹ نقوش ثبت کئے ، جامع مسجد کے سامنے ہماری گاڑی رکی، ٹکٹ لیکر مسجد میں داخل ہوئے، یہ مسجد سلطان ہوشنگ شاہ نے اپنی زیست کے آخری لمحات میں بنانا شروع کی، مگر ہوشنگ شاہ کی زندگی میں تکمیل نہ ہوسکی، سلطان محمود خلجی نے اس کی تعمیر جاری رکھی اور 858ھ مطابق 1454ء میں اس کی تعمیر پوری ہوگئی ، مسجد کی لمبائی شرقاً غرباً 273 فٹ 19 اینچ اور چوڑائی شمالاً جنوباً 274 فٹ 6 انچ ہے، مسجد کے مشرقی دروازہ پر ایک کتبہ لگا ہوا ہے جس کا داہنی جانب کا نصف حصہ حادثات زمانہ کی وجہ سے غائب ہے ، کتبہ کے بائیں جانب کی عبارت پڑھی جا سکتی ہے مسجد میں کوئی مینار نہیں ہے، گنبدوں کی شکل فلسطین و شام کے مصنوعی چوبی گنبدوں کے مشابہ ہے، عمارت کا نقشہ جامع قیروان کے نقشہ سے مشابہ ہے لیکن محرابوں کی شکل مختلف ہے۔ مسجد بڑی خوبصورت اور جاذبِ نظر ہے، مگر یہ مسجد اب عبادتِ الٰہی کے لیے نہیں بلکہ سیّاحوں کے لئے سامانِ تفریح بنی ہوئی ہے، اپنی ویرانی پر نالہ کناں بن کر اپنے بانی کے بلند اقبال کا مرثیہ پڑھ رہی ہے، مرد و عورت چپل پہن کر مسجد میں گھوم رہے تھے بعض لڑکیاں منبر پر بیٹھ کر موبائل بینی میں مشغول تھی، مگر ہم کو دیکھ کر فوراً اتر گئی، شرکاءِ وفد میں سے ہر ایک نے اس پُر شکوہ منبر پر بیٹھ کر حمدِ باری تعالٰی سے اس مسجد کے در و دیوار کو معطر کرنے کی کوشش کی ، راقم السطور نے مختلف شہروں کی بہت ساری تاریخی جامع مسجد دیکھی، مگر یہ مسجد سب سے الگ نظر آئی، پوری مسجد کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد، اسی مسجد کے پیچھے سلطان ہوشنگ شاہ کا پُر شکوہ و عالیشان مقبرہ تھا،
سلطان ہوشنگ شاہ کا مقبرہ:
مانڈو گڑھ کے خود مختار بادشاہ دلاور خان کی وفات کے بعد اس کا لائق و فائق اور بلند اقبال، عالی ہمت فرزند الپ خان 808 ھ میں سلطان ہوشنگ شاہ غوری کے لقب سے تختِ سلطنت پر جلوہ افروز ہوا، تمام اضلاعِ مالوہ کو زیرِ نگیں کیا، مہماتِ ملکی کی طرف خاص توجہ دی ، اور تعمیرات کا بھی خوب ذوق و شوق رہا، مختلف آثار اس کی واضح دلیل ہے، بالآخر 30 سال تک تختِ سلطنت پر جلوہ افروز ہوکر اپنی شجاعت و بہادری کے جواہر بکھیرتا رہا، اور 838ھ بمطابق 1434ء میں اس فانی دنیا سے رخصت ہوا، جامع کے پیچھے تیار کردہ مقبرہ میں ابدی نیند سو رہا ہے، سلطان ہوشنگ نے اپنی حیات ہی میں اس مقبرہ کی تعمیر شروع کی تھی، مگر تکمیل نہ ہو سکی پھر سلطان محمود خلجی نے 843ھ میں ایک خطیر رقم خرچ کرکے اس مقبرہ کی تکمیل کی، اور ہوشنگ آباد سے سلطان کی نعش کو مقبرہ میں منتقل کیا، مقبرہ بڑا خوبصورت، دلکش اور جاذبِ نظر ہے، سنگِ مرمر سے آراستہ ہے اس مقبرہ میں ہوشنگ شاہ اور اس کے افرادِ خاندان کی قبریں ہے، ہم مقبرہ میں داخل ہوئے اندر کا دلکش و دلفروز منظر آنکھوں کو خیرہ کررہا تھا، صدرِ محترم حضرت مولانا آصف شعبان صاحب نے اپنی خوشنما آواز میں سورہ بلد کی تلاوت کی، جس سے ہوشنگ شاہ کا پورا مقبرہ گونج رہا تھا، مقبرہ کے باہر بہت ساری بزرگ ہستیاں خوابِ استراحت میں مگن ہیں، فاتحہ خوانی کے بعد ہم آگے کی طرف بڑے، ملک و بیرونِ ملک کے سیّاح عہدِ رفتہ کے ان عظیم المرتبت بادشاہوں کی تربت کو بطورِ تفریح دیکھنے کے لیے جمگھٹا لگا رہے تھے، مگر ان شاہوں کی عظمت و رفعت کا سکہ ہمارے تصورات و خیالات کی دنیا میں رائج ہورہا تھا اور بطورِ عبرت وہ مناظر آشکارا ہونے لگے کہ عظیم شہنشاہیت کے مالک ہونے کے بعد تنِ تنہا زیر زمین محو استراحت ہے سب چھوڑ کر چلے گئے حضرت جواجہ رح کا یہ کلام وردِ زبان ہونے لگا، *ملے خاک میں اہلِ شاں کیسے کیسے،*
*مکیں ہوگئے لا مکاں کیسےکیسے،*
*ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے،*
*زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے،*
*اک دن مرنا ہے آخر موت ہے،*
*کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے* ، واپس جامع مسجد سے نکل کر آگے بڑھے اس تاریخی آثار کی ویرانی کی دید سے دوسرے تاریخی مقام کی طرف چلے
اشرفی محل (اشرفی مدرسہ):
جامع مسجد کے بالکل سامنے لبِ سڑک اشرفی محل، یا مدرسہ اشرفیہ ہے ، یہ حضرت سید اشرف جہانگیر صمنانی رح کے نام سے منسوب ہے، ہوشنگ شاہ، اور محمود شاہ خلجی دونوں ہی حضرت صمنانی رح کے عقیدت مند اور معتقد تھے، جونپور سے دونوں کو پند و نصائح ارسال کرتے تھے، یہ عمارت تین عمارتوں کا مجموعہ ہے، مدرسہ جو ہوشنگ شاہ کے اقتدارِ حکومت میں تعمیر ہوا، مدرسہ کے مشرقی صحن کو پُر کر کے اس پر سلطان محمود خلجی کا مقبرہ بنایا گیا، مدرسہ کے شمالی مشرقی حصہ میں ایک سات منزلہ مینار جو رانا میواڑ پر فتح کی یادگار میں بنایا گیا، یہ دونوں شاہ محمود خلجی نے تعمیر کیا تھا، مگر حوادثِ زمانہ سے شکستہ ہوگئے، اور چند حصہ باقی ہے بیشتر حصہ تاریخِ سلاطین کی طرح ان کا بھی نام و نشان میٹ گیا، ہم ہر چیز کا بغور مطالعہ کررہے تھے، بعض جگہ فارسی کتبات بھی آویزاں تھے، جو حسرت و ایاس کے انداز میں اپنے عروج، عظمت و رفعت کی داستانِ پارینہ بیان کررہے تھے، مدرسہ اچھی حالت میں ہے جہاں کسی زمانے میں حاملینِ علوم نبوت اپنے فلک شگاف نعروں سے درودیوار کو معطر کرتے تھے مگر وہ سب اب قصۂ پارینہ بن گئے، اب صرف سیّاحوں کے لیے سامانِ تفریح سے زیادہ کچھ نہیں ہے، اس حالت کو دیکھ کر راقم السطور یہ اشعار یاد اگئے،
*چمن کے تخت پر جس دم شہ گل کا تجمّل تھا،*
*ہزاروں بلبلیں تھیں باغ میں اک شور تھا، غل تھا،*
*کھلی جب آنکھ نرگس کی، نہ تھا جزء خاک کچھ باقی*
*بتاتا باغباں رورو کے یہاں غنچہ وہاں گل تھا*
محمود شاہ خلجی کا مقبرہ:
سلطان محمود خلجی :
29 شوال المکرم 1446ھ بمطابق 14 مئی 1436، صرف 33سال کی عمر میں تختِ سلطنت پر جلوہ افروز ہوا اپنی شجاعت، بہادری جوانمردی، بلند ہمتی، اور بے پناہ سلطانی صلاحیت کی بنیاد پر ایک مضبوط، منظم، اور وسیع تر سلطنت قائم کردی، اور اطراف و اکناف میں جتنی تعمیرات ہے وہ سب اسی بادشاہ کی مرہونِ منت ہے نیک و صالح ہونے کے ساتھ بزرگوں کا بڑا عقیدت مند تھا، حضرت سید اشرف جہانگیر صمنانی رح سے خصوصی تعلق تھا چنانچہ اپنی حیات ہی میں اپنا مقبرہ تعمیر کیا، مدرسہ اشرفیہ کے اوپری حصہ میں ہے، اگر یہ مقبرہ صحیح سالم ہوتا تو بہت خوبصورت اور خوش نما ہوتا مگر حوادثِ زمانہ اور تعصب کی وجہ سے بیشتر حصہ شکستہ ہوگیا، کچھ باقیات اوپری حصہ میں رکھے ہوئے تھے، مانڈو کو تعمیرات سے آراستہ کرنے والے اس عظیم بادشاہ کا مقبرہ بالکل ختم ہوگیا، 27 سال تک حکمرانی کرنے والے اس عبادت گزار بادشاہ نے 873ھ میں داعی اجل کو لبیک کہا اور اپنے تیار کردہ مقبرہ میں محو استراحت ہے، بادشاہ کے مقبرہ کے ساتھ اور بہت ساری قبریں ہے جو بادشاہ کے متعلقین کی ہے،
روپ متی محل:
یہاں سے گاڑی میں سوار ہوکر روپ متی محل کی طرف بڑھے، راستہ میں کئی مساجد نظر آئی، جو اپنی ویرانی پر نالہ کناں بنی ہوئی ہے، روپ متی محل کے قریب مختلف خورد نوش کی دوکانیں لگی ہوئی تھی، ٹکٹ لیکر محل کی طرف پیدل خراماں چلنے لگے اس بلند وبالا محل سے بہت ساری تاریخ، اور عجب و غریب حکایت منسوب ہے، یہ محل مانڈو کی خود مختارارنہ سلطنت کے آخری فرمانرواں الملک بایزید باز بہادر خان نے اپنی رانی کے لیے بنایا تھا، 1562 میں رانی روپ متی اسی محل میں مدفون ہوئی اور 1588 میں باز بہادر نے اس فانی دنیا کو الوداع کہہ کر رانی کے پہلو میں مدفون ہوا، اس کے بعد سے یہ پورا علاقہ مغلوں کے زیر نگیں ہوگیا، بلند ترین مقام پر تعمیر یہ محل اس پر چڑھ کر پورا مانڈو گڑھ نظر آتا ہے، مانڈو گڑھ ایک تاریخی مقام ہے عہدِ رفتہ کی بہت ساری یادگاریں اس کے سینہ میں پنہاں ہے، وقت کی قلت کی وجہ سے ہم نے اسی مقام پر اکتفا کیا اور دارالعلوم سبحانیہ کی طرف روانہ ہوئے، ورنہ مانڈو گڑھ میں بہت سارے تاریخی مقامات ہے، جس کی دید سے ہم تشنہ رہ گئے، *اس سفر میں حضرت مولانا آصف شعبان صاحب، قاری اخلاق احمد جمالی، حافظ عبدالعزیز رحمانی، مولانا محس کریم محمدی، خلیل احمد ایم ایم مدنی اور راقم الحروف شامل تھے*
(حوالہ جات، مالوہ کی کہانی تاریخ کی زبانی، سلاطینِ مالدہ، سفر نامے)

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے