कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نتیش کمار: بہار کے دسویں وزیرِ اعلیٰ یا محض بی جے پی کے ربڑ اسٹیمپ؟

(پٹنہ سے دہلی تک: بہار کے اختیارات کی منتقلی کا المیاتی سفر)

ازقلم: اسماء جبین فلک

پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں 20 نومبر 2025 کی صبح کا سورج طلوع ہوا تو اس کے ساتھ ہی بہار کی سیاست کے افق پر ایک نئے لیکن مانوس عہد کا آغاز ہو گیا۔ نتیش کمار نے دسویں مرتبہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا کر ایک ایسی سیاسی داستان رقم کی جو بیک وقت حیرت انگیز اور لمحۂ فکریہ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی پروقار موجودگی اور ہزاروں کے مجمع کی تالیوں کے باوجود، اس تقریب کے پس پردہ ایک ایسی خاموش حقیقت چھپی ہوئی تھی جو بہار کے مستقبل کے سیاسی منظرنامے پر گہرے سائے ڈال رہی ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ "وکاس پُرش” کا تاج اب محض ایک علامتی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس کی اصل چمک دہلی کے ایوانوں سے کنٹرول کی جا رہی ہے۔ 2025 کے انتخابی نتائج نے بہار کی سیاسی شطرنج پر مہرے کچھ اس انداز میں سجائے ہیں کہ بی جے پی 89 نشستوں کے ساتھ "بڑے بھائی” کے کردار میں ابھر کر سامنے آئی ہے، جبکہ نتیش کمار کی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) 85 نشستوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ عددی تفاوت محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ طاقت کے توازن کی اس تبدیلی کا عکاس ہے جس نے نتیش کمار کو ان کی اپنی ہی حکومت میں ایک کمزور کردار میں تبدیل کر دیا ہے۔
سیاسی حرکیات کا یہ نیا دور ماضی کے ان تمام ادوار سے مختلف ہے جب نتیش کمار اپنے بل بوتے پر حکومت سازی کی شرائط طے کیا کرتے تھے۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ کابینہ کی تشکیل سے لے کر اہم فیصلوں تک ہر جگہ بی جے پی کی چھاپ واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ 25 رکنی کابینہ میں بی جے پی کے 14 وزراء کی شمولیت اور جے ڈی یو کے حصے میں صرف 8 وزراء کا آنا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ اقتدار کی کنجی اب پٹنہ کے بجائے ناگپور اور دہلی کے ہاتھ میں ہے اور نتیش کمار محض ایک "مہرِ تصدیق” یا "صورتِ حاکم” بن کر رہ گئے ہیں جن کا کام صرف فیصلوں پر دستخط کرنا ہے۔ دو نائب وزرائے اعلیٰ، سمراٹ چودھری اور وجے سِنہا، کی تقرری دراصل نتیش کمار کے گرد ایک ایسا سیاسی حصار قائم کرنے کی کوشش ہے جس سے باہر نکلنا ان کے لیے ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہوگا۔ یہ دونوں رہنما بی جے پی کے اس گیروے ایجنڈے کے علمبردار ہیں جو نتیش کمار کے روایتی سیکولر امیج کے لیے ایک مسلسل چیلنج بنا رہے ہیں۔
ماضی کے اوراق پلٹیں تو 2014 کا وہ منظر نگاہوں میں گھوم جاتا ہے جب جتن رام مانجھی نے نتیش کمار پر انہیں کٹھ پتلی کی طرح نچانے کا الزام عائد کیا تھا، لیکن وقت کا پہیہ دیکھیے کہ آج وہی الزام، وہی طعنہ اور وہی بے بسی خود نتیش کمار کے سیاسی وجود کا حصہ بن چکی ہے۔ گاندھی میدان میں حلف برداری سے قبل وزیر اعظم مودی کے قدم چھونے کی وائرل ہونے والی ویڈیو نے ان کی سیاسی حیثیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ منظر صرف تعظیم کا نہیں بلکہ اس سیاسی تابعداری کا بھی غماز ہے جو اب ان کی بقا کی واحد ضمانت بن چکی ہے۔ کبھی جنہیں بہار کا واحد "چہرہ” سمجھا جاتا تھا، آج وہ بی جے پی کی حکمت عملی کا محض ایک مہرہ ہیں جسے استعمال کر کے سنگھ پریوار ریاست کے پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقات (ای بی سیز) میں اپنا نفوذ بڑھا رہا ہے اور نتیش کمار کی خاموشی اس خاموش دراندازی کو جواز فراہم کر رہی ہے۔
بہار کی موجودہ صورتحال کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بی جے پی کی یہ حکمت عملی انتہائی دور رس اور عیارانہ ہے، کیونکہ وہ نتیش کمار کو وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھا کر ان کے ووٹ بینک کو بھی محفوظ رکھنا چاہتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی تنظیمی جڑوں کو بھی مضبوط کر رہی ہے۔ "ڈبل انجن” کی سرکار کا نعرہ، جو کبھی ترقی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، اب ایک ایسے تضاد کا شکار ہے جہاں انجن تو دو ہیں لیکن ان کی سمتیں مختلف ہیں۔ ایک طرف بی جے پی کا ہندوتوا ایجنڈا ہے جو 2029 کے لوک سبھا انتخابات کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے اور دوسری طرف نتیش کمار کی وہ نام نہاد سوشلسٹ سیاست ہے جو اب دم توڑ رہی ہے۔ اس کشمکش میں بہار کے بنیادی مسائل، بے روزگاری، سیلاب، تعلیم اور صحت کی ابتر صورتحال، کہیں پس پشت چلے گئے ہیں۔ عوام، جنہوں نے 40 ہزار کروڑ کے پیکج اور روزگار کے وعدوں پر ووٹ دیے تھے، اب خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔
معاشی اور سماجی محاذ پر بھی یہ حکومت چیلنجز کے پہاڑ تلے دبی ہوئی نظر آتی ہے، کیونکہ بہار کی ترقی کے دعوے زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کی تلاش میں دیگر ریاستوں کا رخ کرنے پر مجبور ہے اور تعلیمی نظام کی خستہ حالی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، لیکن موجودہ حکومت کی ترجیحات میں ان مسائل کا حل شاید اتنا اہم نہیں جتنا کہ سیاسی جوڑ توڑ اور اقتدار کی بقا۔ پرشانت کشور جیسے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکومت اپنی طبعی عمر پوری کرنے سے پہلے ہی اندرونی تضادات کا شکار ہو سکتی ہے، کیونکہ دو متضاد نظریات کا یہ ملاپ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا اور بالآخر بی جے پی اپنے اصل ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لیے نتیش کمار کو راستے سے ہٹانے میں دیر نہیں لگائے گی۔
اس تمام سیاسی منظرنامے میں سب سے بڑا نقصان بہار کی اس سیاسی ساکھ کا ہوا ہے جو کبھی جے پرکاش نارائن اور کرپوری ٹھاکر جیسے رہنماؤں کی وجہ سے پورے بھارت میں ایک مثال تھی۔ آج کا بہار نظریات کی جنگ کے بجائے اقتدار کی چھینا جھپٹی کا میدان بن چکا ہے، جہاں "آیا رام گیا رام” کی سیاست کو ادارہ جاتی شکل دے دی گئی ہے۔ نتیش کمار، جو کبھی اصولوں کی سیاست کا استعارہ سمجھے جاتے تھے، آج سمجھوتوں کی ایک زندہ مثال بن کر رہ گئے ہیں اور ان کا یہ سیاسی زوال آنے والی نسلوں کے لیے ایک عبرت ناک سبق ہے کہ جب اقتدار کو مقصد بنا لیا جائے تو اصول خود بخود قربان ہو جاتے ہیں۔
مستقبل قریب میں بہار کی سیاست کیا کروٹ لے گی، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ لیکن موجودہ اشارے اس بات کی طرف واضح اشارہ کر رہے ہیں کہ نتیش کمار کا عہد اب اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بی جے پی نے انہیں وزیر اعلیٰ بنا کر دراصل انہیں ایک "سیاسی قیدی” بنا لیا ہے جو اپنی مرضی سے نہ تو فیصلہ کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی قدم اٹھا سکتا ہے۔ عوام کی نظریں اب اس بات پر لگی ہیں کہ کیا یہ کمزور حکومت ان کے مسائل حل کر پائے گی یا پھر بہار ایک بار پھر سیاسی عدم استحکام کے اندھیروں میں گم ہو جائے گا؟ بہر کیف، گاندھی میدان کی فضاؤں میں گونجنے والے نعرے وقتی جوش تو پیدا کر سکتے ہیں، لیکن وہ ان تلخ حقیقتوں کو نہیں چھپا سکتے جو بہار کے ہر گاؤں اور قصبے میں منہ کھولے کھڑی ہیں۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے