कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسلام میں عورتوں کی سیاست کا تصور

تحریر: محمد سفیان سہیل (شعبۂ افتاء دارالعلوم حیدرآباد)
موبائل نمبر:6304838230

اس دنیائے رنگ وبوء میں انسان کو بسانے کا مقصد عبادت الہٰی ہے ،اس کے لیے انبیاء ورسل کا سلسلہ چلا ہے تاکہ توحید کا پیغام ساری انسانیت تک پہونچایاجاسکے۔دورِ نبوی ﷺ سے حفاظت اسلام ،اشاعت اسلام کے لیے کئی معرکے سر کیے گئے ،جس میں اہل ِاسلام کو فتوحات نصیب ہوئی ۔گویا اس کرۂ أرض میں قلعۂ اسلام کے تحفظ وبقاء میں سیاسی وجنگی کردار بڑا اہم رہا ہے ، سیاسی نقطۂ نظر کے تسلسل کا آغاز نبی عربیﷺسے لیکر دورِ خلفاء راشدین ،دور ِبنو عباسؓ،دور بنو امیہ ،بعد میں سلطنتِ عثمانیہ کاقیام دور سلاطین ہند وغیرہ شامل حال ہیں ۔
خواتین کی سیاسی حیثیت
سابقہ تفصیلات میں بتلا گیا،کہ رجال اللہ نے سیادت وقیادت کے ذریعہ توحید وسنت کے مشن کو مستحکم رکھنے میں کارہائے نمایاں خدمات انجام دی؛ لیکن سوال یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ نے دختران ملت کو مطلقاً سیاست کرنے کاحکم دیا ہے یا نہیں ؟اس اکا آسان سا جواب یہ ہے کہ اسلام ، خواتین کو سربراہ بنانے کا قائل نہیں ہے ؛اس لیے کہ خواتین کو حکمران بنانے میں مردوعورت کا اختلاط لازم آتا ہے ،جس سے فواحش ومنکرات کی راہ ہموار ہوتی ہے ، اسلیے مذہب اسلام نے اس راہ کو اول وہلہ میں مسدوس کردیا ۔
روشن خیال طبقہ کا اشکال
نئی تہذیب سے متاثرہ طبقے کا خام خیال ہے کہ مردوعورت کے حقوق مساوی ہونا چاہیے !ان متجددین کا اشکال فطرت کے بھی خلاف ہے اور عقل کے بھی؛ اس لیے کہ تخلیقی اعتبار سے ہی مرد وعورت کی ساخت مختلف ہے ، اس کے احکام الگ ہیں ، اس کی قوتِ کار اور استعداد مرد سے مختلف ہے ؛تو لازمی بات ہے کہ فرق تو ہوگا مگر اس کے باوجود اسلام نے بہت سے احکام میں مردوعورت کو مساوی حقوق عطاء فرمائے ہیں ،صوم وصلوۃ کا حکم مرد کو بھی ہے عورت کو بھی ہے، ایسےہی کسی صاحب ِنسبت بزرگ سے اصلاحی تعلق قائم کرنے کا حق جس طرح مرد کو ہے ایسے عورت کو بھی ہے ،خود آپ ﷺنے مردوں کی طرح عورتوں کو بھی بیعت کیا البتہ طریقۂ بیعت میں کچھ فرق تھا (مرد کو ہاتھ پکڑ کر بیعت کرتے تھے اور عورت کو رومال کے ذریعہ بیعت کرتے تھے)۔
قائدانہ اوصاف
(۱)اخلاص : کامیاب قیادت کے لیے اخلاص کا کلیدی کردار ہوتا ہے ، ناموافق حالات ،درپیش مسائل کے حل کرنے میں روح ِرواں کا اخلاص کی دولت سے مالا مال ہونا ضروری ہے ۔
(۲)علم وحکمت: قافلۂ حق کے میرِکارواں کے لیے علم وحکمت کا مخزن ہونا چاہئے ؛اس لیے کہ علم وحکمت ہی رشد وہدایت معرفتِ الٰہی کے فیضان کے اکتساب کا ذریعہ ہے ۔
(۳)اعتدال: ہرکام کو انجام دینے کے لیے اعتدال وتوازن کا ہونا ضروری ہے ،اسلام نے زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال کی رہنمائی کی ہے ۔
(۴)شجاعت: قائد کا بہادر ہونا ضروری ہے ؛کیوں کہ اس کے بغیر امارت وسیادت ممکن نہیں ہے ،آپ ﷺ سب سے زیادہ دلیر بہادر تھے، جب گھمسان کی جنگ ہوتی تو صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین آپ ﷺ کے ماتحتی میں لڑتے تھے ۔
یہ اوصافِ مطلوبہ برائے قیادت ایک عورت میں نہیں پائی جاتی ہیں ؛ اس لیے بھی اسلام نے ان کی حاکمیت سے روکا ہے ۔
نیا نظریہ اور عصر حاضر کا فتنہ
آج کل عورت کی سربراہی کا مسئلہ صرف پاک و ہند ہی میں نہیں بل کہ اقوامِ عالم میں موضوعِ سخن بناہواہے۔ ہندوستان میں بہت سے لوگ اس سلسلے میں دلچسپی لے رہے ہیں ، بعضنام نہاد اہل علم نے اسلامی مملکت کے اندر عورت کی سربراہی کو قرآن وحدیث اور فقہی روایات کی روشنی میں جائز قرار دیاہے ؛حالانکہ امتِ مسلمہ کا اجماع ہے کہ عورت سیاست میں حصّہ نہیں لے سکتی ہے ؛البتہ عصرِحاضر کے سلگتے مسائل میں خواتین سے مشاورت کرنے کی گنجائش ہے، خود نبی عربیﷺ نے بھی بہت سے امور میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مشورہ کیا ہے؛ لیکن جہاں تک سربراہ بننے کی بات ہے تو اسکی قرآن وسنت میں ممانعت وارد ہوئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد عالی ہے:الرجال قوامون على النساء بما فضل الله بعضهم على بعض.(النساء:۳۴)۔عورت ذات کو اللہ تعالیٰ نے ناقص العقل اور ناقص الدین بنایا ہے ،انہیں امامت صغری ،امامت کبری ،اذان ،خطبہ ،اقامتِ جمعہ ،اقامتِ عیدین سے محروم رکھا ہے ،حدود وقصاص میں ان کی شہادت غیر معتبر قرار دیا ہے ، انہیں جنازہ میں شرکت اور تنہا سفرکرنے سے منع فرمایا ہے، جہاد جیسا اہم ترین رکن سے روک دیاگیا ہے؛ علاوہ ازیں عقل وفہم ، تدبروبصیرت ، قوت جسمانیہ ، شجاعت ،صبروثبات ا ورتحمل و بردباری کے لحاظ سے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی ہے ؛ اس لیے امت کی نیابت کا فریضہ مرد کے لیے ہے ۔آپ ﷺ نے صنف ِنازک کو اقتدار دینے سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث کی روشنی میں جائزہ:
حضرت ابوبکرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : لن یفلح قوم ولوأمرهم امرأة.
(بخاری، رقم الحدیث:۴۱۶۳،کتاب المغازی، باب کتاب النبی ﷺالی کسری وقیصر)
فقہی حیثیت سے جائزہ
علامہ بغوی رحمہ اللہ متوفی :۱۵۱۶ھ تحریرکرتے ہیں: اتفقوا على ان المرأة لا تصلح أن تكون اماما لان الامام يحتاج الى الخروج لاقامة امر الجهاد والقيام بأمر المسلمين …والمرأة عورة لا تصلح المبروز .
(شرح السنة للبغوي ١٠\٧٧، باب کراهیة تولیة النساء، المکتب الاسلامی)
نااہل کی قیادت کے نقصانات:
سیاست ایک بڑا اہم منصب ہے ،اس کی حساسیت کی بنیاد پر اس کے فرائض کو کماحقہ ادا کرنے کے لیے کمالِ عقل ،کمالِ فہم ،بے انتہاء بصیرت اور حالات کی نزاکت سے واقفیت کا ہونا ضروری ہے ۔ بحیثیت مجموعی یہ اوصاف مرد کے اندر تو پائے جاتے ہیں ؛لیکن عورت کے تخلیقی اعتبار سے اور اس کے جنسی اعتبار سے وہ اس منصب کی صحیح معنی میں ترجمانی کرنے کی لیاقت نہیں رکھتی ؛اس لیے فقہی عبارات میں ولایتِ نکاح کا حق مرد کو ہے ،عورت کو نہیں ہے ؛کیوں کہ عورت کے پاس اگرچہ کمال شفقت تو ہے مگرکمالِ عقل نہیں ،جب کہ مرد میںکمالِ شفقت کے ساتھکمالِ عقل بھی ہے؛اسی بناء پر عقلی اعتبار سے بھی قیادت کا صحیح وارث مرد ہی ہے ۔
عورت کے سیاسی نظائر
عصر ِحاضر میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیںکہ جہاں ممالک ِاسلامیہ میں خواتین کی حکمرانی رہی ، وہاں ان کی قیادت مختلف قسم کے بحران اورناعاقبت اندیش سیاست کا شدت سےمظاہرہ کررتی نظر آئی؛ جس کی وجہ سےحکومت عوامی بغاوت کا شکار ہوئی اور ہورہی ہے؛جیسے: بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ نے کس طریقے سے اپنے ملک کو معاشی پسماندگی اور اعداءِ اسلام کے ہاتھوں میں فروخت کردیا اور فی الحال یہی صورتحال پاکستان کے ایک صوبہ پنجاب کے اندر مریم نواز کی وزارت میں بھی پائی جارہی ہےجہاں اخلاقی انحطاط ،قتل وغارت گری اور تباہ کن صورت حال، اس کے بھیانک نتائج کی منظر کشی کررہی ہے ؛ اِنہیں حالات کی عکاسی یہ حدیث کرتی ہے ،آپ ﷺ نےارشاد فرمایا:إذا وسد الأمر إلى غير أهله ‌فانتظر ‌الساعة .(بخاری ،رقم:۶۱۳۱)۔
نتیجہ
بہرحال کسی ملک کی سربراہی کے لیے عورت کاتقرر کرنا ہرگز جائز نہیں ہے ،تمام ائمہ کا یہ متفقہ فیصلہ ہے ، اور یہ اجماعی مسئلہ بن چکاہے ۔کامل العقل اور اہلیت ِتامہ رکھنے والے مرد کی موجودگی میں عورت کو ملک کی وزارت یا صدر کے لیے منتخب کرنا ،اسلام اور مسلمانوں کے لیے نہ صرف ننگ وعار کا مسئلہ ہے بل کہ تاریخ اسلام میں بدنما داغ ہے ، اور مملکت کے یقینی ناکام ہونے کی علامت ہے ،اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق کی اتباع کرنے کی توفیق بخشے ،اور اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے