कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تصنیف وتالیف کی اہمیت اور اس کے بارے میں اقوال

تحریر: ابو خالد

علم و ہدایت کے سارے چراغ جن ہاتھوں سے روشن ہوئے، ان میں قلم کو سب سے نمایاں درجہ حاصل ہے۔ یہی قلم ہے جس نے آدمؑ کے وارثوں کو علومِ نبوت تک پہنچایا، یہی قلم ہے جس نے گزرے ہوئے انبیاء، اولیاء، حکماء اور ائمہ کے افکار و تجربات کو محفوظ کیا۔ اگر یہ تصنیف و تالیف کا سلسلہ نہ ہوتا، تو آج امتِ محمدیہ کا علمی سرمایہ بکھر کر رہ جاتا، اور وہ تمام خزانے جو ماضی کے علمائے امت نے کھولے تھے، زمانے کی گرد میں دب کر مٹ چکے ہوتے۔ اربابِ قلم کا اس امت بر بڑا احسان ہے کہ ان کی روشنائی کے توسط لوگ دین سے روشناس ہوسکے ، اللّٰہ تعالیٰ ان حضرات کو اپنی شایان شان اجر عطاء فرمائے ۔
آج بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ اہل علم حضرات اپنی اپنی استطاعت اور قدرت کے حساب سے اپنے تجربے ، اور معلومات کو نوک قلم لائے اور آنے والی نسل کے لیے سلسلہ کتابت جاری وساری رکھے ۔
یقینا میدان تصنیف نہایت فضیلت کا حامل ہے ، ساتھ ساتھ انتہائی پر خطر اور شاق بھی ہے تو جلیے جانتے ہیں اس بارے میں علما کے کیا اقوال ہیں ۔
ابن جماعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اُنہیں حدیث کے شغف نے تصنیف، جمع اور تالیف میں مشغول کر دیا، باوجود اس کے کہ ان میں کامل فضیلت اور پختہ اہلیت تھی، کیونکہ تصنیف کے عمل سے انسان مختلف فنون کے حقائق اور علوم کی باریکیوں تک رسائی حاصل کرتا ہے، کیوں کہ اس کے لیے کثرتِ تلاش، مطالعہ، غور و خوض اور مراجعت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ [تذکرة السامع والمتكلم: ۱۸]
عبد اللہ بن المعتز رحمہ اللہ: انسان کا علم اس کی دائمی اولادہے۔ [الجامع الأخلاق الراوي: ۲۸۰/۲]
ابن القیم رحمہ اللہ:عالم کی تصنیفات اُس کی دائمی اولاد ہیں، حقیقی اولاد نہیں۔ [بدائع الفوائد: ۲۲۷/۳]
ابن الجوزی رحمہ اللہ: عالم کی تصنیف اس کی اولادِ مخلّد (ہمیشہ باقی رہنے والی اولاد) ہے۔ [صيد الخاطر: ۳۴]
انہوں نے مزید فرمایا:میں نے درست رائے یہی دیکھی کہ تصنیفات کا نفع بالمشافہ تعلیم کے نفع سے زیادہ ہے، کیونکہ بالمشافہ میں تو میں اپنی زندگی میں محدود تعداد کے طلبہ سے ملاقات کر سکتا ہوں، مگر اپنی تصنیف کے ذریعے ایسے بے شمار لوگوں تک پہنچتا ہوں جو میرے بعد بھی پیدا ہوں گے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ لوگوں کا سابقین کی تصنیفات سے استفادہ اپنے مشائخ سے استفادہ سے کہیں زیادہ ہے۔ [صيد الخاطر: ۲۴۱]
اور فرمایا: عالم کو چاہیے کہ اگر اللہ نے اُسے مفید تصنیف کی توفیق دی ہے تو وہ اس میں ہمہ تن متوجہ ہو جائے، کیونکہ ہر تصنیف، تصنیف نہیں ہوتی۔ مقصود محض کسی چیز کو جمع کر دینا نہیں، بلکہ یہ وہ اسرار ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں پر ظاہر فرماتا ہے، اور انہیں اُن کے انکشاف کی توفیق دیتا ہے، تاکہ وہ منتشر علوم کو جمع کریں، بکھری ہوئی باتوں کو مرتب کریں یا کسی مہمل چیز کی وضاحت کریں — یہی مفید تصنیف ہے۔ [صيد الخاطر: ۲۴۲]
امام منذری رحمہ اللہ : جو شخص نافع علم کو نقل کرے، اُس کے لیے اُس کا اپنا اجر بھی ہے اور اُس شخص کا اجر بھی جس نے اُسے پڑھا، لکھا یا اس پر عمل کیا — جب تک اُس کا خط باقی ہے۔ اور جو شخص کسی گناہ پر مبنی تحریر نقل کرے، اُس پر اپنا گناہ بھی ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی، جب تک وہ خط باقی رہے۔[فيض القدير: ۴۳۷/۱]
خطيب بغدادی رحمہ اللہ : کم ہی کوئی شخص علمِ حدیث میں مہارت حاصل کرتا ہے، اُس کی گہرائیوں تک پہنچتا ہے اور اس کے دقیق فوائد پر مطلع ہوتا ہے، سوائے اس کے جو منتشر مواد کو جمع کرے، متفرق چیزوں کو یکجا کرے، ابواب کی تصنیف اور اصناف کی ترتیب میں مشغول ہو۔ یہ عمل نفس کو مضبوط کرتا ہے، حافظہ کو پختہ بناتا ہے، دل کو روشن کرتا ہے، طبیعت کو تیز کرتا ہے، زبان کو رواں بناتا ہے، بیان کو عمدہ کرتا ہے، مشتَبہ امور کو واضح کرتا ہے، اور مبہم باتوں کو روشن کر دیتا ہے۔ نیز یہ عمل صاحبِ تصنیف کو خوبصورت یادگار اور دائمی شہرت عطا کرتا ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا:( مترجم)
کچھ لوگ مر جاتے ہیں مگر علم اُن کا ذکر زندہ رکھتا ہے،
جبکہ جہالت مردوں کو مردوں سے جا ملاتی ہے۔
[الجامع الأخلاق الراوي: ۲۸۰/۲]
اور فرمایا: مصنف کے لیے ضروری ہے کہ وہ تصنیف کے لیے اپنا دل فارغ کرے، اپنی پوری توجہ اُسی پر مرکوز کرے، اپنی تمام مصروفیات اس کے لیے وقف کر دے اور اپنا وقت اسی میں صرف کرے۔[الجامع الأخلاق الراوي: ۲۸۲/۲]
تاج الدین السبکی رحمہ اللہ: عالم اگرچہ علم میں بلند مقام رکھتا ہو، مناظرے کے میدانوں میں قوی دلائل رکھتا ہو، اور اس کے بازو اتنے مضبوط ہوں کہ وہ تمام رکاوٹوں کو توڑ ڈالے، اپنی ذات میں کامل اور دفاع میں پختہ ہو، تب بھی اُس کا نفع اُس کی زندگی ہی تک محدود رہتا ہے — جب تک وہ کوئی ایسی کتاب تصنیف نہ کرے جو اُس کے بعد بھی باقی رہے، یا ایسا علم نہ چھوڑے جسے اُس کا شاگرد لوگوں تک پہنچائے جب وہ خود دنیا سے رخصت ہو جائے، یا ایسی جماعت کو ہدایت نہ دے جو اس کے بعد بھی اس کے علم سے فیضیاب ہوتی رہے۔
بلاشبہ! تصنیف ان تمام صورتوں میں سب سے بلند درجہ رکھتی ہے، کیونکہ اس کا اثر سب سے طویل مدت تک باقی رہتا ہے، اور بعض اوقات صاحبِ تصنیف کے مرنے کے بعد بھی وہ زندہ رہتی ہے۔
[فتح المغیث: ۳۱۸/۳]
خطيب بغدادی رحمہ اللہ : کتاب اپنے مصنف پر بھی فضیلت رکھتی ہے اور کئی پہلوؤں سے اُس کے لیے باعثِ شرف بن جاتی ہے، مثلاً: کتاب ہر جگہ پڑھی جاتی ہے، اس کے مندرجات ہر زبان پر ظاہر ہوتے ہیں، اور یہ ہر زمانے میں باقی رہتی ہے، اگرچہ زمانے مختلف ہوں اور شہروں کے درمیان فاصلے ہوں۔ یہ وہ بات ہے جو خود مصنف یا مناظر کے لیے ممکن نہیں۔ بسا اوقات عالم دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، مگر اس کی کتابیں باقی رہتی ہیں، عقل فنا ہو جاتی ہے، مگر اُس کا اثر قائم رہتا ہے۔ [تقييد العلم: ۱۱۷]
ابو الفتح علی بن محمد البُستی : لوگ کہتے ہیں کہ انسان کا ذکر اُس کی نسل سے باقی رہتا ہے، حالانکہ اگر نسل نہ ہو تو کوئی ذکر نہیں رہتا۔ میں نے ان سے کہا: میری نسل تو میری حکمت کے نادر نگینے ہیں، پس جسے نسل پر فخر ہے، وہ دیکھے کہ ہم اپنی تصنیفات ہی سے نسل رکھتے ہیں۔
[الجامع الأخلاق الراوي: ۲۸۰/۲]
یحییٰ بن کثیر رحمہ اللہ نے: علم کا میراث مال کے میراث سے بہتر ہے۔
[المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي: ۲۷۷/۱]
ابو محمد ابنِ حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے صرف اُن تصنیفات کا ذکر کیا ہے جو واقعی ذکر کے قابل ہیں، اور وہ سات اقسام میں آتی ہیں، جن میں سے کسی ایک میں عقل مند انسان تصنیف کرتا ہے:
۱۔ کوئی ایسی چیز ایجاد کرے جس پر پہلے کسی نے قلم نہ اٹھایا ہو۔
۲۔ کسی ناقص چیز کو مکمل کرے۔
۳۔ کسی مشکل امر کی وضاحت کرے۔
۴۔ کسی طویل کتاب کو اختصار کے ساتھ پیش کرے، بغیر کسی معنی کے نقصان کے۔
۵۔ کسی منتشر علم کو جمع کرے۔
۶۔ کسی مخلوط مواد کو مرتب کرے۔
۷۔ کسی سابق مصنف کی غلطی کو درست کرے۔
[رسائل ابن حزم: ۱۸۶/۲]
حاجی خلیفہ رحمہ اللہ نے بعض علما سے نقل کیا: طالبِ علم کو چاہیے کہ وہ اپنے فہم کے مطابق تصنیف و تحقیق میں مشغول ہو، جب لوگوں کو اس کی ضرورت ہو۔ عبارت کو واضح کرے، اصطلاحات سے نہ ہٹے، مشکل باتوں کی وضاحت کرے، مبہم باتوں کو روشن کرے، تاکہ اسے اچھا ذکر اور دوامِ نام حاصل ہو۔
لہٰذا جب تصنیف کا ارادہ کرے تو اپنے دل کو اس کے لیے فارغ کرے، اور پوری توجہ اسی پر مرکوز کرے، تاکہ کوئی رکاوٹ اسے اس شرف تک پہنچنے سے نہ روکے۔
اور جب کتاب مکمل ہو جائے، تو اسے لوگوں کے سامنے پیش کرنے سے پہلے اس کی اصلاح، تنقیح، تحقیق اور بار بار مطالعہ کرے، کیونکہ کہا گیا ہے: انسان اپنی عقل کے دائرے میں آزاد اور اپنی قوم کی زبان سے محفوظ رہتا ہے، جب تک وہ کتاب نہ لکھے یا شعر نہ کہے۔
[كشف الظنون: ۳۸/۱]
ابراہیم الصولی رحمہ اللہ نے فرمایا: کتاب کو دیکھنے والا، مصنف سے زیادہ اس کی خامیوں کو پہچانتا ہے۔
[الأعلام للزركلي: ۲۲/۱]
قاضی عبد الرحمن البَیسَانی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ کوئی شخص کتاب لکھتا ہے تو اگلے ہی دن کہتا ہے: اگر یہ بات بدل دی جاتی تو بہتر ہوتا، اگر یہ اضافہ کیا جاتا تو اچھا ہوتا، اگر یہ مقدم ہوتی تو زیادہ موزوں ہوتا، اگر یہ حذف ہوتی تو زیادہ خوبصورت ہوتا۔
[كشف الظنون: ۱۸/۱]
مزنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام شافعی کی کتاب الرسالہ اسی (۸۰) مرتبہ پڑھی، اور ہر بار اس میں کسی نہ کسی غلطی پر نظر پڑی۔
امام شافعی نے فرمایا: واللہ! بس کرو — اللہ نے اپنی کتاب کے سوا کوئی کتاب ایسی نہیں بنائی جو ہر لحاظ سے کامل ہو۔
اور فرمایا گیا: اگر کوئی کتاب ستر مرتبہ پیش کی جائے، تب بھی اس میں غلطی نکل آئے گی۔ اللہ نے اپنی کتاب کے سوا کسی کتاب کو خطا سے پاک نہیں رکھا۔(المنتقی ٢٨٠)
معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کتاب کو سو مرتبہ بھی پیش کیا جائے، تب بھی وہ کسی نہ کسی سقط یا خطا سے خالی نہیں رہے گی۔
ثَعالِبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کوئی شخص کتاب لکھ کر ایک رات بھی گزارتا نہیں مگر اگلے دن چاہتا ہے کہ اس میں کچھ اضافہ یا کمی کرے — یہ ایک رات میں حال ہوتا ہے، تو پھر سالوں بعد کی حالت کیا ہوگی!
سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کتنی ہی کتابیں ایسی ہیں جنہیں میں نے پڑھا اور دل میں کہا کہ میں نے اسے درست کر دیا، مگر دوبارہ مطالعہ کیا تو تصحیف (غلطی) پائی، اور پھر اس کی اصلاح کی۔ [المقاصد الحسنة: ۳۹]
یحییٰ بن خالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انسان کے خطوط اور تحریریں اس کی عقل کے درجے پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہیں، اور اُس کے باطن پر سب سے سچا گواہ ہیں، بلکہ بالمشافہ گفتگو کے مقابلے میں اس کے معنی اور گہرائی کو کہیں زیادہ ظاہر کرتی ہیں۔
[الآداب الشرعية: ۳۵۹/۱]
ہلال بن العلاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسی شخص کے عقل و فہم کا اندازہ اُس کی وفات کے بعد اُس کی تصنیف کردہ کتابوں، کہے گئے اشعار، اور تحریروں سے لگایا جاتا ہے۔
[الجامع الأخلاق الراوي: ۲۸۳/۲]
خطيب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے کوئی کتاب تصنیف کی، گویا اس نے اپنا عقل و فہم ایک طشت میں رکھ کر لوگوں کے سامنے پیش کر دیا۔
[الأربعون على الطبقات لعلي بن مفضل المقدسي: ۵۰۵/۱]
یحییٰ بن خالد البرمکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تین چیزیں اپنے اہلِ عقل کی عقل پر دلالت کرتی ہیں: کتاب، جو اپنے مصنف کی عقل کے مطابق ہوتی ہے؛ پیغام، جو اپنے بھیجنے والے کی عقل کے مطابق ہوتا ہے؛ اور ہدیہ، جو اپنے دینے والے کے عقل و شعور کے مطابق ہوتا ہے۔
[الآداب الشرعية: ۲۱۱/۲]
ابن المقفع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو شخص کتاب لکھتا ہے، وہ خود کو نشانہ بنا لیتا ہے؛ اگر اچھا لکھا تو عزت پائے گا، اور اگر برا لکھا تو ذلت اٹھائے گا۔ [مروج الذهب: ۵/۱]
بعض اہلِ علم نے کہا: جس نے کتاب لکھنی ہو، اسے یہ گمان رکھنا چاہیے کہ دنیا کے تمام لوگ اُس کے دشمن ہیں، سب علوم میں ماہر ہیں، اور سب فارغ ہیں کہ اُس کی کتاب پر نظر ڈالیں۔ [الحيوان: ۸۸/۱]
منقول ہے: آدمی اس وقت تک پردہ میں اور محفوظ رہتا ہے جب تک شعر نہ کہے یا کتاب نہ لکھے؛ کیونکہ اُس کا شعر اُس کے علم کا ترجمان ہوتا ہے، اور اُس کی تصنیف اُس کے عقل و شعور کا عنوان۔
[غاية الأماني: ۱۲۴/۱]
مزید: انسان کے جسمانی بیٹوں (اولاد) کو نکاح کے لیے پیش کرنا، عقل کے بیٹوں (خیالات و افکار) کو اہلِ فہم کے سامنے پیش کرنے سے زیادہ آسان ہے۔
نیز: انسان کی کتاب اُس کے عقل کا عنوان اور اُس کے فضل کا ترجمان ہے۔
[زهرة الأدب: ۱۴۰/۱]
اور کہا گیا: آدمیوں کی عقلیں ان کے قلموں کی نوکوں کے نیچے چھپی ہوتی ہیں۔
[الطرائف واللطائف: ۱۰۴]
ابن عبد البر رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں: جب امام مالک رحمہ اللہ نے الموطأ کی تصنیف کا ارادہ کیا اور اسے تیار کیا، تو اُس وقت مدینہ کے دیگر علما نے بھی موطآت تیار کیں۔ کسی نے امام مالک سے کہا: آپ نے اپنے آپ کو ایسی محنت میں ڈال دیا ہے، جبکہ لوگ بھی اسی طرح کی کتابیں لکھ چکے ہیں۔
امام مالک نے فرمایا: لاؤ، ان کی تصنیفات مجھے دکھاؤ۔
جب وہ پیش کی گئیں تو آپ نے اُنہیں دیکھا، پھر پھینک دیا اور فرمایا: تم جان لو کہ وہی کتاب بلند ہوگی جس سے اللہ کا چہرہ (رضا) مقصود ہو۔
پھر ایسا ہوا کہ گویا اُن سب کتابوں کو کنوؤں میں پھینک دیا گیا — ان میں سے کسی کا ذکر باقی نہ رہا، اور صرف امام مالک کی الموطأ ہی باقی رہی۔
[التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: ۲۸۶/۱]

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے