कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یوم پیدائش آخری شہنشاہ ہند

از قلم:- سید مستقیم سید منتظم
صدر مدرس ضلع پریشد اردو اسکول اندرا نگر بیودہ ضلع امراؤتی

دیوالی کی تعطیلات چل رہی ہیں ۔فرصت کی اوقات ہے ان فرصت کے اوقات میں کل ایک غزل نظر سے گزری تو غزل کو سن کر ایسی شخصیت کی یاد تازہ ہو گئی ہے جس شخص کو ابتدائی تعلیم کے زمانے میں کتابوں میں پڑھا تھا سنا تھا۔ یہ غزل ہمیشہ سن کر پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے اس شخص کی یہ زندگی کی روداد ہو۔
لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
بُلبُل کو باغباں سے نہ صَیَّاد سے گلہ
قسمت میں قید لکّھی تھی فصلِ بہار میں
کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں
ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان
کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں
عُمْرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
دِن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی
پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کُنجِ مزار میں
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
آج ہی کے دن مغلیہ سلطنت کا اخری چشم چرا غ اس دنیا میں پیدا ہوا تھا جسے لوگ بادشاہ ظفر کے نام سے جانتی ہیں۔ ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ غازی ؔ (ثانی) ہندوستان کے بیسویں اور آخری مغل شہنشاہ تھے، جو 24 اکتوبر 1775 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام اکبر شاہ ثانی اور والدہ کا نام لعل بائی تھا جوا ایک راجپوت گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ بہادر شاہ ظفر 1837 میں 62 سال کی عمر میں مغلیہ مسند پر متمکن ہوئے۔ افسوس ایک نرم دل غریب پرور شاعرانہ اور صوفیانہ مزاج کے پیکر ہندوستان کی بیسویں اور اخری مغل شہنشاہ کو ایک ایسی نام نہاد حکومت ملی جس کی طاقت اور دائرہ اختیار کمپنی کے کوتوال سے بھی کم تھا۔عمر کے اخری پڑاؤ میں اپسی رنجشیں اور آپس میں اختلاف جس کی بنیاد پر ہندوستان کا شیرازہ بکھرتا چلا گیا۔ ضعیف العمر شہنشاہ ہند نے سپاہیوں اور کمپنی کے مابین جو گلے شکوے دور کرنے کے لیے ثالثی کردار ادا کیا وہ بھی قابل تعریف ہے مگر انقلابی سپاہی بضد تھے۔چنانچہ شہنشاہ ہند کی دور اندیشی اور حکمت عملی کے بعد یہ معاملہ سلجھ گیا اور اخر تک بادشاہ سلامت مستقل مزاجی کے ساتھ کاربند رہے ان کی حکمت عملیوں نے باغی فوجیوں کے حوصلوں میں ایک نئی جان پھونک دی دلی میں جو در جوق انقلابیوں کے انے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بہادر شاہ ظفر کی زندگی سے کون واقف نہیں ہے ہم نے جتنا پڑھا جتنا مطالعہ کیا بڑے بڑے مفکروں نے مفسروں نے بہادر شاہ ظفر کے بارے میں جو لکھا اس کا علم اج کے دور میں ہر نوجوان کو ہونا لازمی اور ضروری کیوں کہ یہ ہمارا ورثہ ہے اور ہمارا ورثہ ہمیشہ قائم رہے گا اسی ورثے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم زندگیوں میں حکمت عملی تیار کرتی رہے تو کامیابیاں ہمارے قدم چومیں گی کہ ان لوگوں نے مشکلات میں حالات میں رہ کر کیسی اپنی قربانیاں دی ۔ آخر میں انگریزی کمپنی نے مقدمہ چلا کر انہیں جلا وطن کردیا ۔جہاں وہ نہایت کسمپرسی کے عالم میں زندگی کے آخری ایام گزار کر 7؍نومبر 1862ء کو اپنے رب حقیقی سے جا ملے۔ بہادر شاہ ظفر نے جلاوطنی میں بھی اپنے شعری ذوق کو پروان چڑھایا۔ اس دوران انہوں نے جو غزلیں لکھیں۔ ان میں استعارتی انداز اور کنایوں کی شکل میں اپنی دلی کیفیتوں کا عکس صاف جھلکتا ہے ۔
یہ مضمون اس شخصیت پر ہے جس پر کئی نامور شخصیات نے بڑی بڑی کتابیں لکھیں ۔ اور اس شخصیت پر لاکھوں افراد نے پی ایچ ڈی کی میں ایک ادنی سا شخص کیا ان کی حیات پر لکھنے کی جسارت کر سکتا ہوں ۔ مگر اس دور جدید میں ہمارے اجداد اور رہنماؤں کی زندگی پر روشنی ڈالنا ضروری ہیں ۔ آخر میں شہنشاہ ہند کے میرے ایک پسندیدہ شعر سے تحریر کو مختصر کرتا ہوں ۔
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے