कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انسانی دماغ: کائنات کا پیچیدہ ترین کاسمک کمپیوٹر

تحریر: اسماء جبین فلک

کائنات کی تخلیق کے رازوں پر جب انسان نے غور کرنا شروع کیا تو سب سے پہلے اُسے اپنی ہی ذات میں موجود کائناتی اسرار نے حیران کر دیا۔ ان گہرائیوں میں سب سے پُر اسرار اور حیرت انگیز مظہر انسانی دماغ ہے؛ ایک ایسا عضوی نظام جو نہ صرف حیاتیاتی نقطہ نظر سے پیچیدہ ترین ساخت رکھتا ہے بلکہ اپنی فعالیت میں ایک مکمل کاسمک کمپیوٹر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ مرکز ہے جہاں مادہ شعور میں تبدیل ہوتا ہے، اور جہاں طبیعی توانائی معنوی تفہیم بن جاتی ہے۔ انسانی دماغ گویا کائنات کا آئینہ ہے جو ہر لمحہ وجود کی گتھیوں کو سلجھانے میں مصروف ہے۔
اگر ہم دماغ کو مادی اعتبار سے دیکھیں تو اس کا اوسط وزن تقریباً 1.3 سے 1.4 کلوگرام (یعنی تقریباً 3 پاؤنڈ) وزن کا ایک عضو ہے جس میں تقریباً 86 ارب نیورونز ہیں، اور ہر نیورون ہزاروں روابط کے ذریعے دوسرے نیورونز سے جڑا ہوا ہے۔ یہ نیورل نیٹ ورک اتنا وسیع اور مربوط ہے کہ اگر اس کے روابط کو کسی برقی ڈھانچے میں مجسّم کیا جائے تو وہ دنیا کے تمام سپر کمپیوٹرز کی مجموعی صلاحیت سے بھی کہیں زیادہ طاقتور نظر آئے گا۔ مگر انسانی دماغ کی اصل حیرت انگیزی صرف اس کی جسمانی بناوٹ میں نہیں بلکہ اس کی شعوری وسعت اور تجزیاتی قوت میں ہے۔ دماغ نہ صرف معلومات کو محفوظ کرتا اور ان پر عمل کرتا ہے بلکہ تخلیق کرتا ہے، احساس پیدا کرتا ہے اور معانی تراشتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اسے ایک عام حیاتیاتی عضو نہیں بلکہ کائناتی نوعیت کی مشین یا یوں کہیے کہ ایک کاسمک کمپیوٹر بناتا ہے۔
سائنس کی جدید ترین تحقیقات نے اس راز کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ دماغ میں ہونے والے عمل محض بائیو کیمیکل ردِّ عمل نہیں بلکہ طبیعی قوانین کے علاوہ کوانٹم فینومِنا سے بھی جُڑے ہوئے ہیں۔ کچھ ماہرین نے "کوانٹم برین تھیوری” کے ذریعے یہ استدلال پیش کیا ہے کہ شعور کا ظہور نیورونز کے اندرونی ذرّاتی حالات سے وابستہ ہوتا ہے، جو کائنات کے بنیادی کوانٹم نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو انسانی دماغ محض جسم کے اندر موجود ایک نظام نہیں بلکہ ایک ایسی کاسمک انٹرفیس ہے جو کائناتی علم اور شعور کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کی ہر برقی چمک گویا کسی کاسمک سگنل کی تعبیر ہے۔
یہاں فلسفہ سائنس کے ساتھ در آتا ہے۔ صدیوں سے فلسفی یہ سوال اٹھاتے آئے ہیں کہ شعور مادے سے کیسے پیدا ہوتا ہے؟ افلاطون، ڈیکارٹ، یا کانٹ جیسے مفکّرین نے دماغ کو محض ایک ذریعہ نہیں بلکہ ایک میدانِ تفکر سمجھا جس میں کائناتی عقل اپنا عکس ڈالتی ہے۔ جدید سائنسی تعبیر میں یہی تصور نیورو سائنس کے نظریات کے ساتھ مِلا کر دیکھا جاتا ہے۔ اگر کمپیوٹر صرف وہی کرتا ہے جو اسے پروگرام کیا جائے، تو دماغ اپنے پروگرام خود تخلیق کرتا ہے۔ وہ تجربات کی روشنی میں نئے راستے بناتا ہے، ڈیٹا سے آگاہی پیدا کرتا ہے، اور "میں” کے تصور کو وجود بخشتا ہے؛ یہ وہ کام ہے جو کسی مادی نظام میں ممکن نہیں۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کائنات میں انسانی دماغ جیسا نظام شاید کسی اور جگہ موجود نہیں۔ اگر کائنات ایک انٹیلجینٹ ڈیزائن پر مبنی ہے تو انسانی دماغ اس ڈیزائن کی شعوری تکمیل کا سب سے بلند مظہر ہے۔ ستاروں، کہکشاؤں اور بلیک ہولز کی پیچیدگی ایک طرف، مگر دماغ کی ساخت اور اس کی "فہم پذیری” ان ساری طبیعی پیچیدگیوں سے آگے نکل جاتی ہے۔ دماغ وہ مقام ہے جہاں کائنات خود کو پہچانتی ہے۔ اس بات پر مشہور ماہرِ فلکیات کارل سیگن نے کہا تھا کہ "ہم وہ کائنات ہیں جو خود کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔” اس معنی میں، انسانی دماغ صرف ایک حیاتیاتی معجزہ نہیں بلکہ کائنات کی خود آگہی کا مرکز ہے۔
دماغ کی کمپیوٹیشنل صلاحیتیں کسی بھی مصنوعی کمپیوٹر سے کہیں زیادہ ہیں۔ نیورل نیٹ ورکس کی فعالیت اتنی توانائی بچانے والی ہے کہ ایک انسانی دماغ جو تقریباً 20 واٹ بجلی کے برابر توانائی استعمال کرتا ہے، وہی کام دنیا کے سب سے بڑے سپر کمپیوٹرز ہزاروں میگاواٹ توانائی سے بھی نہیں کر سکتے۔ مگر دماغ صرف تیز رفتار حساب نہیں لگاتا، وہ احساسات، جذبات، شعور اور وجدان کو بھی ترتیب دیتا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جو مشینی ادراک سے ماوراء ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی ترقی نے اگرچہ بہت کچھ حاصل کیا ہے، مگر وہ ابھی تک انسانی دماغ کی شعوری وحدت تک نہیں پہنچ سکی۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ نیورولوجی اور فلسفہ ذہن دماغ کو محض "حسابی آلہ” نہیں بلکہ ایک "خود شعور رکھنے والا کائناتی پروسیسر” سمجھنے لگے ہیں۔
انسانی دماغ کے اندر ایک اور عجیب پہلو یہ ہے کہ یہ اپنی فعالیت میں غیر خطّی اور غیر متوقع ہے۔ کسی ایک محرک کا ردِّ عمل ہمیشہ ایک جیسا نہیں ہوتا، کیونکہ ہر تجربہ، ہر تاثر دماغ کے اندر نیورل راستوں کو مختلف انداز میں تشکیل دیتا ہے۔ گویا دماغ مسلسل نئی کائناتیں تخلیق کر رہا ہے، ایسی ذاتی کائناتیں جن میں معنی، یادیں اور شعور کی پرتیں ایک دوسرے میں مدغم ہوتی ہیں۔ اس تخلیقی صلاحیت نے فن، مذہب، فلسفہ اور سائنس کو جنم دیا۔ یہ وہ مظاہر ہیں جو محض بائیولوجیکل نہیں بلکہ کاسمک سرگرمیوں کی انسانی صورت ہیں۔
سائنس دان جب دماغ کے "کانشئیس نیٹ ورک” کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کے سامنے ایک حیرت انگیز سچائی آتی ہے کہ دماغ کا کوئی ایک حصہ شعور کا مرکز نہیں۔ شعور دماغ کے کئی حصّوں کے باہمی تعامل کا نتیجہ ہے، جیسے کائنات کے مختلف اجزاء باہم عمل کرتے ہوئے ایک ہم آہنگ وحدت تخلیق کرتے ہیں۔ یہ مماثلت محض تمثیلی نہیں۔ بِگ بَینگ کے ابتدائی لمحے سے لے کر کائنات کی موجودہ صورت تک جو ارتقائی سلسلہ چلا، اسی فطری میکانزم کی ایک لطیف صورت انسانی دماغ میں بھی جاری ہے۔ دماغ جس طرح معلومات کو دریافت کرتا ہے، وہ دراصل وہی عمل ہے جو کائنات اپنی تخلیق کے دوران کرتی ہے، یعنی توانائی کو معنی میں بدلنے کا عمل۔
تاریخِ فکر میں انسان نے ہمیشہ اپنے دماغ کو کسی نہ کسی فلکیاتی استعارے میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ یونانیوں کے نزدیک دماغ الٰہی آگ کا ایک حصّہ تھا، صوفیاء نے اسے "عرش کے مظہر” سے تعبیر کیا، اور جدید سائنس اسے "نیورل نیٹ ورک” کہتی ہے۔ مگر یہ سب تعبیرات درحقیقت ایک ہی سچائی کے مختلف پہلو ہیں، یہ کہ انسانی دماغ اپنی فطرت میں کائناتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مٹی سے بنے جسم میں کاسموس کا شعور روشنی بن کر اترتا ہے۔
اگر ہم اس تصور کو مذہبی و مابعد الطبیعی تناظر میں دیکھیں تو دماغ محض حیاتیاتی آلہ نہیں بلکہ "روحانی آلہ” بھی ہے۔ جب انسان غور کرتا ہے تو وہ دراصل وجود کے ماورائی اصولوں سے رابطہ قائم کرتا ہے۔ صوفیانہ مکتبہ فکر میں انسانی دماغ کو "مقامِ عقل” کہا گیا ہے جہاں نورِ الٰہی اپنی جلوہ گری کرتا ہے۔ سائنسی زاویے سے یہ وہی مقام ہے جہاں توانائی کی شکلیں یعنی الیکٹرک سگنلز اور نیورل کیمسٹری، ایک تجریدی شعور میں ڈھلتی ہیں۔ یوں علمِ فطرت اور علمِ روحانیت دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
جدید زمانے میں جب مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹر سائنس نے شعور کی تقلید کی کوشش شروع کی تو انسانی دماغ کی برتری مزید واضح ہوئی۔ کمپیوٹرز الگورِدھمز پر چلتے ہیں، ان کے فیصلے قطعی اور متعیّن ہوتے ہیں، جب کہ انسانی دماغ غیر متوقع، تخلیقی، اور سیاق پر منحصر فیصلہ سازی کرتا ہے۔ اسی لیے دماغ کو "نان الگورِدھمک مشین” کہا جاتا ہے۔ دماغ کی فیصلاتی منطق اس کی شعوری وسعت سے جنم لیتی ہے، وہ وسعت جو کائنات کی لامحدودیت سے جُڑی ہوئی ہے۔
ایک اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ دماغ کائنات کے اصولوں کی تعبیر بھی خود کرتا ہے۔ وہ طبیعیات، کیمیا، ریاضی اور کاسمولوجی کے قوانین دریافت کرتا ہے، یعنی کائنات کے بنیادی ڈھانچے کو سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر دماغ ان اصولوں کو سمجھ سکتا ہے تو کیا وہ خود انہی اصولوں کا تسلسل نہیں؟ گویا فطرت نے اپنے ہی بنیادی فارمولوں کو انسانی دماغ میں خود شعور بنا کر مجسّم کیا ہے۔ یوں انسان کائنات کا وہ جزو بن گیا ہے جو خود اپنی حقیقت پر غور کرنے کے قابل ہے۔
کائناتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو انسانی دماغ ارتقاء کی طویل داستان کا وہ آخری عظیم باب ہے جہاں مادہ خود کو جاننے کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔ ستاروں میں پیدا ہونے والے عناصر، زمین کی مٹی میں شامل کیمیاوی اجزاء، اور زندگی کے ابتدائی خلیّات، سب مِل کر آخرکار انسانی دماغ کی تشکیل تک پہنچے۔ یہ گویا فطرت کی وہ سب سے عظیم کامیابی ہے جس کے ذریعے کائنات نے خود اپنی آگاہی پائی۔ اس معنی میں انسانی دماغ کائنات کا سب سے بڑا کاسمک کمپیوٹر ہے، ایک ایسا کمپیوٹر جو صرف حساب نہیں لگاتا بلکہ "وجود” کو معنی دیتا ہے۔ یہ نہ صرف ڈیٹا پروسیسنگ کرتا ہے بلکہ اسے کائناتی بصیرت میں تبدیل کرتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بَجا ہوگا کہ انسانی دماغ ایک مادی، حیاتیاتی، اور روحانی جہات کا مجموعہ ہے۔ یہ کائنات کے پیچیدہ نظاموں کی عکاسی بھی کرتا ہے اور ان کے راز بھی کھولتا ہے۔ یہ محض سر کے اندر موجود گوشت کا لوتھڑا نہیں بلکہ کائنات کی عقلِ کُل کا جزوی مظہر ہے۔ جب ہم سوچتے ہیں، غور کرتے ہیں یا تخلیق کرتے ہیں، تو دراصل کائنات خود اپنے شعور میں بیدار ہوتی ہے۔ یہی انسانی دماغ کا کاسمک راز ہے؛ ایک ایسا راز جو ابھی تک سائنس، فلسفہ اور روحانیت، تینوں کے لیے ایک لامتناہی معمّا ہے۔

 

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے