कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مجاہد آزادی شہید اشفاق اللہ خان

از قلم:- سید مستقیم سید منتظم
صدر مدرس

اس دور جدید میں امت کا نوجوان طبقہ سوشل میڈیا پر اس قدر مصروف ہیں کے شاید ہی اس نام سے واقف ہو اور اس عظیم شخصیت کی قربانیوں سے روشناس ہو۔ امجد ساگر نے خوب فرمایا تھا ۔
یادوں کو بھلانے کو کچھ دیر تو لگتی ہے
آنکھوں کو سلانے کو کچھ دیر تو لگتی ہے
کسی کو بھلا دینا اتنا آسان نہیں ہوتا
دل کو سمجھانے میں کچھ دیرتو لگتی ہے
بھری محفل میں جب کوئی یاد آجائے
پھر آنسو چپھانے میں کچھ دیر تو لگتی ہے
جس دور میں ہندوستان کی کئی نامور شخصیات انگریزوں کا بل توڑنے میں لگی تھیں اور انگریز مذہب کے نام پر ہندوؤں اور مسلمانوں کو لڑانے میں لگے تھے، ایک ایسی جانباز ہستی نے جنم لیا جس کی ساری زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ وطن پرستی ایمان کا افضل ترین حصہ ہے۔ اس عظیم ہستی کا نام اشفاق اللہ خان ہے۔جو ٢٢ اکتوبر ١٩٠٠ عیسوی کو اتر پردیش کے شاہجہاں پور علاقے میں پیدا ہوئے ۔یہ بھی بڑی تعجب کی بات ہے کہ آپ کے والد شفیق اللہ خان اور خاندان کے دیگر افراد برطانوی حکومت میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔
جب ٢٠ سال کے ہوئے تو محمد علی جناح کی تحریک کے بارے میں سنا, رام پرساد بسمل کے ساتھ مل کر لوگوں کو تحریک آزادی پر ابھارنے لگے۔یہ وہ دور تھا جب آزادی کے بارے میں سوچنا بھی انگریزوں کے ظلم کو دعوت دینے جیسا تھا.١٩٢٢ میں پہلی مرتبہ انقلابیوں نے مسلح جدوجہد کا فیصلہ لیا۔ اور اس کام میں اشفاق اللہ خان بھی ان انقلابیوں کے ساتھ ہو لئے۔ لیکن جیسا کہ مسلح جدوجہد کے لیے اسلحہ اور کثیر رقم کی ضرورت تھی، لہذا اشفاق اللہ خان ،رام پرساد بسمل اور ان کے چند ساتھی انقلابیوں نے ارادہ کیا کہ انگریزوں نے جو خزانہ ہندو ستانیوں سے چرایا ہےاسے واپس لیا جائے۔اگست ١٩٢٥ کو رام پرساد بسمل کی سربراہی میں اشفاق اللہ خان اور ان کے دیگر آٹھ ساتھیوں نے مل کر کا کوری میں موجود انگریزی خزانہ لے جانے والی ٨ ڈاؤن سہارنپور-لکھنؤ پیسنجر ٹرین روک کر خزانہ لوٹ لیا۔ اشفاق اللہ خان نے خود اپنے ہاتھوں سےتجوری توڑ کر خزانہ نکالا۔ اس سانحے نے انگریزی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اشفاق اللہ خان اس میں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے مگر چند ساتھیوں کو انگریزی حکومت ‌نے پکڑ لیا ۔
چونکہ محب وطن کا دل خاموش نہیں بیٹھتا ۔ وطن کی آزادی اور دوستوں سے وفاداری کا جذبہ بھی پروان چڑھا تھا ۔لہذا انہوں نے امریکہ جا کر لا لہ ہردیال سے ملنے کا ارادہ کیا۔دلی ایئرپورٹ پر انگریزوں نے انہیں پکڑ لیا۔ ان پر مقدمہ چلایا , چوری اور ڈکیتی کے الزام میں انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ دوسری طرف انہیں رام پرساد بسمل کے خلاف سرکاری گواہ بننے کے لئے بھی اکسایا گیا، پر انہوں نے صاف انکار کر دیا اور خوشی خوشی موت کو گلے لگا لیا۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے