कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’’محبتِ رسول ﷺ: حقِ اظہار، آئین اور امن کی آواز‘‘

از قلم:- صباء فردوس
( صدرِ جی آئی او ہنگولی)

ہر دور کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ رہی ہے کہ محبت اور عقیدت کے جذبات کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انسان کے دل میں اگر کسی کے لیے محبت جاگزین ہو جائے تو وہ محض زبان پر ادا ہونے والے جملوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کے ہر قول و فعل میں اس کا عکس جھلکتا ہے۔ آج کے ہندوستان میں یہ سوال اٹھانا کہ اگر کوئی شخص “I Love Muhammad ﷺ” کہہ دے یا اس نام کی حرمت کے اظہار کے لیے ایک پوسٹر اُٹھا لے تو کیا یہ جرم ہے؟ کیا اظہارِ محبت اور اظہارِ عقیدت آئینِ ہند کی روح کے منافی ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ جذبہ ایک انسان کے دل کی سچائی ہے، اور سچائی کو زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا۔
ہندوستان کا آئین اپنے شہریوں کو جس آزادی کی ضمانت دیتا ہے، وہ محض لفظوں کی ادائیگی نہیں بلکہ ایک بنیادی حق ہے۔ آرٹیکل 19 ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور آرٹیکل 25 مذہب کی آزادی کو محفوظ قرار دیتا ہے۔ اس پس منظر میں اگر کوئی شہری اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کے نامِ نامی کے ساتھ عقیدت کا اظہار کرے، تو یہ آئینی و اخلاقی دونوں سطح پر اس کا حق ہے۔ اس حق کو جرم بنانا دراصل آئین کے بنیادی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
مگر افسوس کہ حالیہ برسوں میں مہاراشٹر اور اس کے اطراف میں ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے اس سوال کو زندہ کر دیا ہے۔ نوجوان کو محض ایک پوسٹر اٹھانے یا "I Love Muhammad ﷺ” لکھنے پر قانونی کاروائی کا شکار بنایاگیاہے۔ انتظامیہ نے بعض جگہ اس اظہار کو “اشتعال انگیزی” یا “قانونِ عامہ کے خلاف اقدام” قرار دیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان پوسٹرز میں نہ کسی مذہب کی توہین تھی، نہ کسی پر الزام، نہ نفرت انگیز جملے۔۔۔
یہ محض محبت کا اعلان تھا۔۔ محبت جو دلوں کو جوڑتی ہے، نفرت کو مٹاتی ہے، انسان کو انسان سے قریب کرتی ہے۔۔۔ سوال یہ ہے کہ جس سرزمین نے دنیا کو گنگا جمنیٰ تہذیب کا تحفہ دیا، وہاں محبت کے ایک اعلان کو جرم کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے؟
کسی مسلمان کا ایمان اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا ہے جب تک وہ نبی کریم کریم ﷺ سے دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر محبت نہ کرے مسلمانوں کا یقین ہے کہ جو دل سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے خالی ہے اس میں ایمان کا نور نہیں آسکتا بلکہ یہ تعلق خاطر اس قدر قوی ہونا چاہیے کہ دنیا کی ہر چیز حتٰی کہ انسان کی اپنی شخصیت سے بھی زیادہ محبت آنحضور ﷺ کی ذات گرامی سے ہو ۔۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب تک مجھے اپنے باپ، بیٹے اور سب لوگوں سے زیادہ پیارا اور محبوب نہ بنالے اس وقت تک وہ مومن نہیں ہو سکتا ( بخاری و مسلم ) صرف یہ نہیں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرو بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تمہیں سب سے زیادہ محبت و پیار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ہونا چاہیے ورنہ تم مومن نہیں ہو محبت کا تعلق دل اور جذبات سے ہے۔نبی آخرالزماں ﷺ کی سیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے سب سے روشن مثال ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ عدل و انصاف، رواداری اور عفو و درگزر کی تعلیم دی۔ طائف کی وادیوں میں پتھر کھا کر بھی اپنی قوم کے لیے دعا کی، مکہ میں ظلم سہہ کر بھی بد دعا نہ دی، بلکہ رحم اور صبر کو اپنا شعار بنایا۔ اگر کسی قوم یا ملک میں محبتِ رسول ﷺ کے اظہار پر گرفت ہو، تو یہ نہ صرف سیرتِ نبوی ﷺ کے منافی ہے بلکہ انسانی شرافت کے بھی خلاف ہے۔۔۔۔
یہ احتجاجی صدا صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ ہر انصاف پسند، ہر آئین دوست اور ہر وہ شخص جو آزادی اور انسانیت کو عزیز رکھتا ہے، اُس کے دل کی آواز ہے۔ اگر آج کسی ایک طبقے کو اپنی محبت کے اظہار پر گرفتار کیا جائے گا تو کل یہی روش کسی اور عقیدے کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے۔ یہ صرف ایک مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے سماج کے حقِ آزادی کا سوال ہے۔
اہلِ اقتدار اور ذمہ داران کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا واقعی ایک محبتی جملہ، ایک پرامن پوسٹر یا ایک عقیدت بھرا نعرہ ہماری ریاست کی طاقت کو چیلنج کرتا ہے؟ یا یہ ہماری جمہوری روح کا حسن ہے کہ ہر شخص اپنے دل کی محبت کو عزت کے ساتھ بیان کر سکے؟ ملک کے حکمران دراصل قوم کے امین ہیں۔ ان پر فرض ہے کہ وہ عدل و انصاف کو قائم کریں، محبت کے اظہار کو دبانے کے بجائے اس کی حفاظت کریں۔
ہندوستان کی روح اس وقت تک زندہ ہے جب تک ہر شہری کو اپنی محبت اور عقیدت کے اظہار کی آزادی میسر ہے۔ اگر ہم نے اس حق کو محدود کر دیا تو نہ صرف ایک طبقہ محروم ہوگا بلکہ پورا آئینی ڈھانچہ کمزور پڑ جائے گا۔ یاد رکھیے! محبت دبائی نہیں جا سکتی، محبت کو جتنا دبایا جائے وہ اتنی ہی شدت سے پھوٹتی ہے۔ اور حضور ﷺ کی محبت وہ نور ہے جو ظلمت کو اجالے میں بدل دیتی ہے، وہ سکون ہے جو اضطراب کو ختم کر دیتا ہے، وہ قوت ہے جو کمزور کو حوصلہ دیتی ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر اعلان کریں: محبت جرم نہیں، نفرت جرم ہے۔ عقیدت جرم نہیں، توہین جرم ہے۔ آئین کی اصل روح یہی ہے کہ ہر شخص اپنے ایمان اور ضمیر کے مطابق زندگی گزارے، اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرے۔ اہلِ اقتدار کی ذمہ داری ہے کہ اس محبت کو جرم نہ بنائے بلکہ اس کے تقدس کو تسلیم کرے۔
ہم یہ پیغام اہلِ اقتدار تک پہنچاتے ہیں کہ آپ کو اقتدار اللہ نے امانت کے طور پر دیا ہے۔ یہ امانت انصاف، رواداری اور مساوات کے ساتھ نبھائی جائے تو برکت ہے، اور اگر اس امانت میں خیانت کی جائے تو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ محبتِ رسول ﷺ کا اعلان ایک سادہ سا جملہ نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہے۔ ان دھڑکنوں کو دبایا نہیں جا سکتا، ان آوازوں کو روکا نہیں جا سکتا۔
آئیے ہم سب مل کر اس ملک کو محبت کا گہوارہ بنائیں، جہاں ہر شخص اپنے عقیدے اور اپنے محبوب کے ساتھ کھل کر محبت کا اظہار کر سکے۔۔ اہلِ اقتدار اپنے اختیار کو حکمت، عدل اور نرم دلی کے ساتھ استعمال کریں۔ محبتِ رسول ﷺ کا اظہار جرم نہیں، بلکہ یہ انسانی دل کی سچائی اور مذہبی عقیدت کی علامت ہے۔ براہ کرم فیصلے میں انصاف اور رواداری کا مظاہرہ کریں تاکہ یہ واضح ہو کہ ریاست ہر شہری کے ایمان اور عقیدت کے اظہار کا احترام کرتی ہے، اور اپنے فیصلے سے پورے سماج میں امن، محبت اور اتحاد کی فضا قائم ہو۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے