कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غزہ میں نسل کشی میں ملوث 15 عالمی کمپنیاں بے نقاب: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ

غزہ :18؍ستمبر:ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آج ایک تہلکہ خیز رپورٹ جاری کی ہے جس میں 15 بڑی عالمی کمپنیوں کے نام شامل کیے گئے ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی اور قحط مسلط کرنے کے جرائم میں براہِ راست یا بالواسطہ شریک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ کمپنیاں دیگر بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں میں بھی ملوث ہیں۔فہرست میں بڑی امریکی کمپنیاں شامل ہیں جن میں "بوئنگ”، "لاک ہیڈ مارٹن” اور "پالانٹیر ٹیکنالوجیز” کے نام نمایاں ہیں۔ اس کے علاوہ "ہیک ویژن” (چین)، "سی اے ایف” (اسپین) اور "ایچ ڈی ہنڈائی” (جنوبی کوریا) جیسی کمپنیاں بھی شامل کی گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق فہرست میں متعدد اسرائیلی کمپنیاں بھی موجود ہیں جو اسلحہ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں شہرت رکھتی ہیں، ان میں "البٹ سسٹمز”، "رافائل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز”، "اسرائیل ایروسپیس انڈسٹریز”، "کور سائٹ” اور سرکاری آبی کمپنی "میکوروت” شامل ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل انیاس کالامار نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ اس مہلک لت کو ختم کیا جائے جس کے تحت انسانی حقوق کو معاشی منافع پر قربان کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیل کی کئی دہائیوں پر محیط جارحیت اور اس کے نسلی امتیاز کے نظام کو قائم رکھنے میں ان کمپنیوں کے ساتھ قائم معاشی اور تجارتی تعلقات نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ انسانی وقار کوئی جنس نہیں کہ اس کا سودا کیا جائے، اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ عالمی برادری کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے فوری اقدامات کرنے ہوں گے جن میں سب سے پہلے ان کمپنیوں پر پابندی عائد کرنا شامل ہے جو قابض اسرائیل کے جرائم میں شریک ہیں یا اس سے براہِ راست منسلک ہیں۔ اس کے علاوہ قانون سازی اور مؤثر ضوابط کا نفاذ، سرمایہ کاری واپس لینا، خریداری یا معاہدے منسوخ کرنا اور تجارتی تعلقات معطل کرنا شامل ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دنیا بھر کی حکومتوں سے فوری اپیل کی ہے کہ قابض اسرائیل کو ہتھیار، سازوسامان، فوجی اور سکیورٹی خدمات کی فراہمی پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ اس میں نگرانی کے آلات، مصنوعی ذہانت سے جڑی ٹیکنالوجیز اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر بھی شامل ہیں جو قابض اسرائیل اپنے جنگی اور سکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے لیے ہتھیاروں یا فوجی سازوسامان کی ترسیل پر بھی پابندی لگائی جائے، خواہ وہ کسی ملک کی بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، فضائی حدود یا زمینی راستوں سے ہو کر گزر رہا ہو۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مزید بتایا کہ اس نے برسوں سے ان کمپنیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی دستاویزی شہادتیں اکٹھی کی ہیں اور تمام کمپنیوں کو باضابطہ خطوط بھیجے ہیں تاکہ ان کی سرگرمیوں کے بارے میں وضاحت مانگی جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق سنہ2025ء تک صرف پانچ کمپنیوں نے جواب دیا جبکہ باقی نے مکمل طور پر خاموشی اختیار کی۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے