कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غزہ میں نسل کشی کے 702 دن، صہیونی درندگی کا تازہ ہولناک سلسلہ جاری

غزہ :8ستمبر:قابض اسرائیلی فوج نے امریکی حمایت کے سائے میں غزہ کی پٹی پر اپنی نسل کشی کی جنگ کو آج مسلسل 702 ویں دن بھی جاری رکھا۔ صہیونی درندگی کے اس نہ تھمنے والے سلسلے میں فضائی اور زمینی بمباری کے ذریعے بھوک سے بلکتے اور بے گھر کیے گئے انسانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی خاموشی اور بے حسی نے ان مظالم کو مزید بڑھا دیا ہے۔ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق قابض فوج نے آج درجنوں فضائی حملے کیے جن کے نتیجے میں مزید خونریز قتل عام برپا ہوئے اور دو ملین سے زائد فلسطینیوں کی بے دخلی اور قحط کی اذیت ناک صورت حال مزید گہری ہو گئی۔
تازہ ترین مظالم
غزہ کے ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ آج اتوار کی صبح سے اب تک صہیونی حملوں میں 21 شہری شہید ہو چکے ہیں۔خان یونس کے شمال میں بلدیہ القرارہ پر صہیونی بمباری سے 29 سالہ جمیل غسان جمیل کلاب شہید ہو گئے۔اسی دوران دیر البلح شہر میں مسجد البلد القدیم کی مینار کو فضائی بمباری کا نشانہ بنایا گیا جس میں آمل عبدالرزاق محمد العوضی شہید ہوئیں اور کئی شہری زخمی ہوئے۔نصیرات کیمپ کے شمال مشرقی حصے پر بمباری کی گئی۔اسی طرح دیر البلح میں مسجد ابو سلیم کی مینار کو ڈرون طیاروں سے تیسری بار نشانہ بنایا گیا۔آج صبح الشجاعیہ چوراہے کے قریب غزہ کے مشرقی علاقے پر فضائی حملہ ہوا۔شیخ رضوان محلے کے قریب قابض فوج نے بارودی روبوٹ دھماکے سے اڑا دیا۔آج صبح قابض فوج نے ایک اور قتل عام کیا، جب یرموک اسٹیڈیم کے قریب الفارابی سکول، جس میں بے گھر فلسطینی پناہ گزین تھے، کو نشانہ بنایا۔ اس مجزر میں 8 شہری شہید ہوئے جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ کئی زخمی ہیں۔اسی علاقے میں توپخانے سے شیخ رضوان محلے کو بھی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔رمل محلے میں پارلیمانی کونسل کے قریب بے گھر شہریوں کے خیمے پر بمباری سے دو بچے شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔شیخ رضوان محلے میں ایک رہائشی فلیٹ کو بھی فضائی بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔شہر غزہ پر فجر کے وقت دو فضائی حملے کیے گئے۔
نسل کشی کی ہولناکیاں
قابض اسرائیلی فوج نے امریکہ کی کھلی حمایت کے ساتھ جاری اس جنگ میں وزارت صحت کے مطابق اب تک 64 ہزار 300 فلسطینی شہید کر دیے ہیں، 1 لاکھ 62 ہزار سے زائد زخمی ہیں اور 10 ہزار سے زیادہ لاپتہ ہیں۔ قحط نے بھی سینکڑوں زندگیاں نگل لی ہیں جبکہ دو ملین سے زائد انسان مسلسل جلاوطنی اور کھنڈر نما حالات میں زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔اسرائیل نے بچوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا ہے، اب تک 20 ہزار سے زیادہ بچے اور 12 ہزار 500 خواتین شہید ہوئیں جن میں 8 ہزار 990 مائیں شامل ہیں۔ ایک ہزار سے زائد شیرخوار بچے بھی شہید کر دیے گئے جن میں 450 وہ تھے جو جنگ کے دوران پیدا ہوئے اور کچھ ہی عرصے بعد بمباری کا نشانہ بنا دیے گئے۔18 مارچ 2025 کو قابض اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے سے انکار کے بعد 11 ہزار 768 فلسطینیوں کو شہید اور 49 ہزار 964 کو زخمی کیا۔27 مئی کے بعد جب قابض اسرائیل نے امدادی تقسیم کے محدود مراکز کو قتل گاہوں میں بدل دیا تو 2 ہزار 362 فلسطینی شہید ہوئے، 17 ہزار 434 زخمی اور 45 لاپتہ ہوئے۔ اس دوران قابض قوتوں نے نام نہاد "غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن” کے ذریعے فلسطینیوں کو ذلت آمیز تسلیم اور قتل پر مجبور کرنے کی سازش کی، جسے عالمی سطح پر بھی مسترد کر دیا گیا۔بھوک اور بدترین غذائی قلت سے 382 شہری شہید ہوئے جن میں 135 بچے شامل ہیں۔مزید برآں 1 ہزار 670 طبی اہلکار، 139 سول ڈیفنس کے کارکن، 248 صحافی، 173 میونسپل ملازمین اور 780 امدادی پولیس اہلکار بھی شہید ہو گئے۔ کھیلوں سے تعلق رکھنے والے 860 فلسطینی بھی شہداء کی فہرست میں شامل ہیں۔اب تک 15 ہزار سے زائد مجازر میں 14 ہزار سے زیادہ خاندان متاثر ہوئے اور 2 ہزار 700 خاندان مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے۔سرکاری اور عالمی اداروں کے مطابق غزہ کی 88 فیصد سے زائد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں جن کے نتیجے میں 62 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ قابض اسرائیل نے 77 فیصد علاقے پر قبضہ، آگ اور جبری بے دخلی کے ذریعے کنٹرول جما رکھا ہے۔اس درندگی نے 163 تعلیمی اداروں کو مکمل طور پر مٹا دیا، 369 کو جزوی نقصان پہنچایا۔ 833 مساجد مکمل طور پر اور 167 جزوی طور پر شہید کر دی گئیں۔ یہاں تک کہ 19 قبرستان بھی تباہ کر ڈالے گئے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے