कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اللہ نے انسان کو اچھے سانچے میں ڈھالا ہے

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

خداے برتر نے انسان کی تخلیق کی ہے۔ اور اس کو خوبصورت سانچے میں ڈھالا ہے۔ قران کریم کا مفہوم ہے ، کہ ہم نے انسان کی خوبصورت تخلیق کی ہے۔ اور اچھے سانچے میں ڈھالا ہے. دو آنکھیں عطا کیے ہیں، جس سے وہ دیکھتا ہے، دو کان دیے ہیں جس سے وہ سنتا ہے، دو ہاتھ اور دو پیر عطا کیے ہیں۔ جس سے وہ اچھائ اور برائ کی طرف چلتا ہے۔ بندہ اللہ کا شکر اور اسکی ربوبیت کو جان کر خداے برتر کا شکر گذار بنتا ہے یا پھر کفران نعمت اور نا شکری کرکے اللہ کے عذاب کا شکار ہوتا ہے ۔ آج انسان دو چشم سے دنیا کی فر فریب اور دھوکہ میں ڈالنے والی اشیاء اور مناظر کو دیکھ کر بے دریغ بھاگا جارہا ہے ۔ کیونکہ کہ اس کو اصل یہی معلوم ہورہا ہے۔ اس لیے کہ وہ دو آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ اور اسکو دھوکہ میں ڈالنے والی چیز کا وجود نظر آرہا ہے۔ پیغمبر اسلام نےفرمایا ہے۔ دنیا ایک مردار شئ ہے ، اور اسکی چاہت اور طلب کرنےوالے کلاب کی مانند ہیں۔ لیکن انسان دنیا کی رنگینیاں اور اور دنیا کی رونق کو دیکھ رہا ہے۔ جو ایک سراب کے مانند ہے۔ دور سے دیکھنے کے بعد یو ں معلوم ہوتا ہے کہ آسمان اور زمین ایک دوسرے سے بہت قریب یے۔ لیکن ایسا ممکن نہیں۔ دور سے مشاہدہ کرنے پر ریت پانی کا نقشہ پیش کرتی ہے ، لیکن قریب جانے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ پانی نہیں ریت ہے۔ بس دنیا بھی اسی طرح ہے۔ جس کی کوئ حقیقت نہیں۔ آج انسان مال کو جمع کرنے میں مصروف ہے اور مزید حصول کا متمنی ہے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آئیگا کہ جہنم بھی کہیگا ھل من مزید۔ جس کا ایندھن انسان ہوں گے۔ اور یہ کہ انسان اس بات سے غافل ہے کہ خداے برتر نے انسان کو تیسری آنکھ بھی عطا کی ہے۔ دید کے لیۓ صرف تھوڑا انتظار باقی ہے۔ جب وہ اپنی تیسری چشم سے اپنے اعمال کی کیفیت اور جزا اور سزا کو دیکھیگا۔ اور کہیگا کاش میں مٹی ہوتا تو یہ ہولناک اور دل سوز کیفیت کو نہ دیکھتا۔ اللہ نے ہر انسان کو تیسری آنکھ بھی عطا کی ہے۔ جس طرح ہم دنیا کی اشیاء کو ہی حقیقت سمجھ رہے ہیں۔ جس طرح ہم دنیاوی زندگی اور اس کے حصول کو ہی کامیابی کا ضامن سمجھ رہے ہیں ۔ اور ہر انسان یہ جانتا ہے کہ آخرت کی زندگی واقع ہونے والی ہے ۔اور آخرت کو جانتا ہے۔ لیکن پھر بھی انجان ہے۔ یہاں تک کہ دین کا علم رکھنے والے بھی ایسی کاموں کے مرتکب ہیں جس کی دین واسلام میں قطعی اجازت نہیں۔ اور نہ ہی گنجائش ہے۔ جب ہم تیسری آنکھ سے آخرت کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کریں گے تو ہمارے ہوش باختہ ہوجائینگے۔ لیکن اس آنکھ کو ابھی خداے برتر نے Activate نہیں کیا ہے۔ اور جب یہ تیسری آنکھ قابل دید ہوجائیگی تو کف افسوس کے علاوہ اور کچھ نہ ہوگا۔ اور یہ سب دید کے لیے مرنا شرط ہے۔ اور یہی ہمارا ایمان ہے ۔ غرض کے اللہ تعالی نے انسان کو ہر عضو ایک نعمت عظمی کے طور پر عطا کیا ہے۔ دو آنکھیں خداے برتر کی خوبصورت تخلیق اور فطری مناظر کو دیکھ کر ، اور دو ہاتھ اور دو پیر کو خیر کی طرف چلنے کے لیے عطا کیا ہے۔ اور دو کان کو بھلائ کی باتیں سماعت کے لیے دیا ہے۔ اور خوبصورت دل خدا کے ذکر اور اسکی اطاعت کے لیے عطا کیا ہے۔ کیونکہ اللہ کے ذکر کے علاوہ دنیا میں کوئ شئ دل کو مطمئن نہیں کرسکتی ہے۔ خدا برتر کا فرمان ہے، کہ ہم نے موت اور حیات کو ایک امتحان کے طور پر بنایا ہے۔ ہم روز مرہ کی زندگی میں باہر نکلتے ہیں۔ یا ہم نوکری یا کسی اور پیشہ کے لیے گھر سے باہر نکلتے ہیں۔ پھر گھر آتے ہیں۔ جو ہمہ وقت ہمارا گھرہمارے سامنے ہوتا ہے۔ لیکن یہ ہمارا عارضی گھر ہے ۔ جہاں ہم چند برس یا اس سے بھی کم ہمارا مسکن ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارا دوسرا گھر بھی اور تیسری آنکھ بھی دوسرا ہمارا گھر قبر ہے۔ جو دائمی ہے۔ اور تیسری آنکھ بھی جس سے ہم پر وہ تمام چیزیں خداے بر تر آشکارہ کریگا جس کو ہم جانتے تو ہیں ، لیکن اس کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے