कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اُردو کی پہلی مزاح نگار خاتون ڈاکٹر شفیقہ فرحت

تحریر: ڈاکٹر مرضیہ عارف(بھوپال)

آزادی کے بعد بھوپال کی خواتین نثر نگاروں میں صفیہ اختر کے بعد دوسرا بڑا نام ممتاز ادیبہ ڈاکٹر شفیقہ فرحت کا ہے، جنہوں نے کہانی نویسی اور طنز و مزاح نگاری میں اپنا مقام بنایا ہے، وہ ۲۶؍ اگست ۱۹۳۱ء کو ناگپور میں پیدا ہوئیں، ابتدائی تعلیم پرائمری سے پانچویں کلاس تک ناگپور کے کانوینٹ اسکول سینٹ جوزف میں ہوئی، جو بچوں کی تعلیم کا معیاری ادارہ تھا، ۱۹۴۷ء میں میٹرک کا امتحان دیا، بعد میں سی ، سی ، ڈبلیو کالج ناگپور سے ۱۹۵۱ء میں بی ا ے کیا ، وہ اپنے ذہنی رُجحانات کے مطابق پولیٹکل سائنس میں ایم اے کرنا چاہتی تھیں ، لیکن خاندان کی مالی حالت نے اجازت نہیں دی تو ۱۹۵۴ء میں ڈپلوما اِن جرنلزم کرلیا، اُنہیں کم عمری میں انگریزی اور اُردو زبانوں پر عبور حاصل ہوگیا تھا، لیکن اُردو میں پہلا مضمون ۱۹۵۱ء میں شائع ہوا، یہ ڈرامہ نُما اِنشائیہ کے طرز پر تھا اور کالج میگزین میں اِس کی اشاعت ہوئی، اِسی زمانہ میں اُنہوں نے کچھ عرصہ ناگپور سے شائع ہونے والے بچوں کے رسالے’’چاند‘‘ میں معاون ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا، بعد میں والد محمد رستم خاں کی مدد سے ۱۹۵۵ء میں اپنا رسالہ’’ کرنیں ‘‘ نکالنے لگیں ، یہ صرف بچوں کا رسالہ نہیں تھا بڑے بھی اِسے دلچسپی کے ساتھ پڑھتے تھے ، اُس زمانہ کے معروف ادیب مثال کے طور پر رضیہ سجاد ظہیر، راجہ مہدی علی خاں ، سلام مچھلی شہری ، ابنِ انشا، پرکاش پنڈت ، نریش کمار شاد ، سراج انور وغیرہ کی تخلیقات اِس میں شائع ہوتی تھیں ، خاص بات یہ ہے کہ ادیبوں کو اُن کی تخلیقات کا معاوضہ بھی دیا جا تا تھا۔
’’ کرنیں ‘‘ مقبول رسالہ تھا، لیکن مالی وسائل کی کمی اِس کی مزید اشاعت میں مانع ہوئی تو اِسے بند کردیا گیا، بعد میں شفیقہ فرحت نے ۱۹۵۷ء میں ناگپور یونی ورسٹی سے اُردو میں ایم اے کیا اورفوراً ہی اُن کا تقرر اُردو لیکچرار کی حیثیت سے حمیدیہ کالج بھوپال میں ہوگیا، وہ ترقی کرکے شعبۂ اردو صدر کے عہدہ تک پہونچیں ، یہ وہی کالج ہے جس میں مجاز لکھنوی کی بہن اور جاں نثار اختر کی اہلیہ صفیہ اختر اُردو اُستاذ کی خدمت انجام دے چکی تھیں، شفیقہ فرحت نے اپنی صلاحیت سے کالج اور بھوپال کے ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کی، اِسی دوران اُنہوں نے ’’ نظیر اکبر آبادی ایک مطالعہ‘‘ موضوع پر تحقیقی مقالہ ہندی میں قلم بند کرکے جیواجی رائو یونیورسٹی گوالیارسے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، ۱۹۹۱ء تک ملازمت کرکے وہ سبک دوش ہوگئیں ، ۷۷ برس کی عمر میں جنوری ۲۰۰۸ ء میں بھوپال میں ہی اُن کا دم آخر ہوا، انتقال سے دوماہ پہلے کولہے کی ہڈی ٹوٹنے سے وہ صاحبِ فراش رہیں، شادی نہیں کی تھی، اولاد نہ ہونے سے احباب اور اسٹو ڈنس ہی آخری زمانہ میں اُن کی دیکھ بھال کرتے رہے۔ اقبال مسعود اُن کی شادی کے بارے میں رقم طراز ہیں
’’ پاکستان کے شہرۂ آفاق محقق مشفق خواجہ جب بھوپال تشریف لائے تو اُنہوں نے شفیقہ فرحت سے ایک انٹر ویو لیا تھا، جب مشفق خواجہ نے شادی کے بارے میں سوال کیا اور کہا کہ اب کیا ادارہ ہے اور اُس وقت وہ پچاسویں موسم بہار سے گزر رہی تھیں تو اُنہوں نے تپاک سے جواب دیا ؎
میں محبت کی نگاہوں کو سمجھ سکتی ہوں
میرے معیار کے قابل کوئی پیغام تو دے
اور اگر آج کوئی مل جائے تو ، سبحان اللہ اُن کا جواب تھا، جو ہنسی کے پسِ پردہ ایک آنسو کی طرح چمک رہا تھا، زندگی بھر اُن کی آنکھوں کو نمناک کرتا رہا‘‘ نئی کتاب، جنوری تا مارچ 2011صفحہ 177)
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالرظفر الاسلام کا شفیقہ فرحت کی شادی کے بارے میں تجزیہ ہے۔
’’ مردوں کی بنائی ہوئی اِس دنیا میں جہاں شادی کے بغیر عورت کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ شفیقہ فرحت نے پوری زندگی تنہا بسر کی اور یہ باور کرایا کہ عورت تنہا زندگی گزار سکتی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ اُن کے لئے رشتوں کی کمی تھی، پنجاب کے ایک مشہور شاعر اِس اُمید میں بھوپال مع بوریے بست کے آگئے کہ شاید نظرِ کرم ہوجائے لیکن شفیقہ فرحت شادی کے بندھن میں قید ہوکر کسی کے تابع زندگی گزار نے کے لئے خود کو تیار نہ کرسکیں ‘‘( ماہنامہ ’’خواتین کی دنیا‘‘نئی دہلی ستمبر۲۰۱۹ء صفحہ 5)
بھوپال شہر ، جو باہر سے یہاں آنے والوں کے گلے لگانے میں بڑا فراخ دل واقع ہوا ہے ، شفیقہ فرحت کو بھی یہاں اپنی جگہ بنانے میں دقت یا جانبداری کا سامنا نہیں کرنا پڑ ا، وہ بنیادی طور پر ترقی پسند خاتون تھیں اور بائیں بازو کے حلقوں سے قربت رکھتی تھیں، لیکن زبان و ادب کے تعلق سے اُن کی فراخ دلی و رواداری کا اندازہ اِس سے ہوتا ہے کہ دین دیال وچار پرکاشن کے ادبی و ثقافتی پرو گراموں میں وہ ذہنی تحفظ کے بغیر شریک ہو جاتی تھیں۔ ’’ ایاز ، فورم جو بھارتیہ جنتا پارٹی کا لڑیری ونگ تھا، اُس نے ترقی پسند ادیب و شاعر احسن علی خاں کی پاکستان سے بھوپال آمد پر اُن کے اعزاز میں ’’ ایک شام۔ احسن علی خاں کے نام‘‘ ایک استقبالیہ رکھا تو اُس کی صدارت شفیقہ فرحت نے کی، انجمن ترقی اُردو مدھیہ پردیش کی وہ برسوں جنرل سکریٹری اور ترقی پسند مصنفین کی نائب صدر رہیں ، خواتین کی فعال ادبی و سماجی انجمن ’’ دھنک ‘‘ کی بانی اور صدر تھیں ، اُنہوں نے خواتین کی چوتھیں عالمی کانفرنس جو چین میں ہوئی ، بھوپال کی خواتین کی نمائندگی کی تھی۔
شفیقہ فرحت نے خواتین کے مسائل اُٹھانے اور بھوپال کے متوسط طبقہ کی مسلمان لڑکیوں کو آگے بڑھانے میں جس سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا اور اُس کے جو نتائج بر آمد ہوئے وہ پُرانی نسل کے اکثر ذہنوں میں تازہ ہوں گے۔ اِسی طرح وہ ہر اُس تحریک ، نظریہ اور عمل کا حصہ بنیں جو جہالت ، عدم مساوات اور ناانصافی کے خلاف یہاں بر پا ہوئی ۔ وہ سماجی و فلاحی کاموں میں بھی حصہ لیتی رہیں اور اِس کا سلسلہ ملازمت کے بعد بھی جاری رہا ، جب اُن کا ہاتھ تنگ ہوگیا تھا۔
جہاں تک شفیقہ فرحت کی مزاح نگاری کا تعلق ہے تو اُن کو ہم پورے اعتماد کے ساتھ اُردو کی پہلی مزاح نگار ادیبہ کہہ سکتے ہیں۔ اپنے پہلے مجموعے’’ لو آج ہم بھی ‘‘ کے ذریعہ جو ۱۹۸۱ء میں شائع ہوا، اُنہوں نے اِس صنفِ ادب میں قدم رکھا اور اپنی صلاحیتوں سے بہت سوں کو چونکا دیا، اِس کے ۱۵ مضامین پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے وہ فطری مزاح نگار ہیں ، زبان کی سلاست و روانی کے علاوہ الفاظ کے مخصوص استعمال یا اشعار میں ردّ وبدل سے ایسا مزاح پیدا کرتیں کہ قاری بے ساختہ کبھی مسکرانے تو کبھی قہقہ لگانے پر مجبور ہو جاتے ، اُن کے مضامین کا دوسرا مجموعہ’’ رانگ نمبر‘‘ ۱۹۸۶ء میں منظرِ عام پر آیا جب کہ تیسرے مجموعے’’ گول مال‘‘ کی اشاعت ۱۹۸۸ء میں ہوئی ، چوتھی تصنیف طنزیہ و مزاحیہ کہانیاں ’’ چوں چوں بیگم‘‘ بچوں کے لئے ۱۹۸۸ء میں شائع ہوئی ، پانچویں کتاب ’’ ٹیرھا قلم ‘‘ طنزیہ و مزاحیہ مضامین کا مجموعہ ۲۰۰۳ء میں ، چھٹا’’ نیم چڑھا‘‘ یہ بھی طنزیہ و مزاحیہ مضامین کا مجموعہ تھا ۲۰۰۴ء میںاور ساتویں تصنیف’’ چہرے جانے انجانے‘‘ شخصیات پر شگفتہ نثر میں تحریر خاکے ۲۰۰۶ء میں منظر عام پر آئے۔ اِن کے علاوہ کم ازکم نصف درجن کتابیں شائع نہیں ہوسکیں۔
شفیقہ فرحت کی مطبوعہ کتابوں کی تعداد سات ہے جو ۱۹۸۱ء سے ۲۰۰۶ ء کے درمیان شائع ہوتی رہیں ، اِن کی مسلسل اشاعت سے ہم اُن کے قلم کی روانی ، ذہنی زرخیزی اور مطالعہ کی وسعت کا اندازہ لگا سکتے ہیں ، لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہے بغیر نہیں رہا جاتا کہ اِس قادر الکلام ادیبہ نے جس طرح طنزیہ و مزاحیہ ادب کی سنگلاخ زمین میں گُل کاریاں کیں ، ساتھ ہی افسانوی ادب کو اپنی تخلیقات سے مالا مال کیا ، اُس کا ملکی سطح پر اعتراف نہیں ہوا، بھوپال کے اہلِ قلم کی تین کتابیں ’’ بچوں کی شفیقہ فرحت‘‘، انیس سلطانہ ، ’’ شفیقہ فرحت‘‘ ، رشیدہ بیگم اور’’ شفیقہ فرحت فن اور شخصیت‘‘نجیب رامش کے علاوہ شفیقہ فرحت پر ایم اے کا تحقیقی مقالہ مہر النسا، عارف اندور نے لکھا ہے جو شائع نہیں ہوا ، اقبال مسعود اور شگفتہ فرحت ( کراچی) کے مضامین ضرورچھپ چکے ہیں۔
شفیقہ فرحت کی کہانیوں کو اگر سماجی زندگی کو بولتی تصویریں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اُن کے چھوٹے چھوٹے کردار، اُن کی جانی پہچانی دنیا، اُن کا اُٹھنا بیٹھنا، اُن کی عادتیں اور مجبوریاں اُن کی اُلجھنیں اور پریشانیاں، سب مل کر ایک ایسا تا نا بانا بُنتے ہیں ، جو حقیقت میں یقین کی ایک کائنات کھڑی کردیتے ہیں، شفیقہ فرحت اپنی کہانیوں کے لئے تفصیلات کی ایک ایسی فضا تیا ر کرتیں ہیں جو ایک طرف سماجی واقعیت کے تاثر کو تقویت دیتی ہے تو دوسری جانب وہ کہانی کی علامتی بُنیاد میں ایک با معنی اضافہ کردیتی ہے۔
اُن کے مضامین کا نثری پیرہن بھی تکلفات سے عاری اور آرائش بیا ن کے چونچلوں دور نظر آتا ہے ، اِسی طرح اُن کے کردار خدو خال سے نہیں، اپنے ماحول ، طور طریقے ، اپنے لباس،عمل، ردّ عمل سے پہچانے جاتے ہیں، جن کی شناخت کے لئے شارح کی ضرورت نہیں پڑتی ، یہی حال اُن کی کہانیوں کے مکالمے کا بھی ہے کہ بڑے نپے تلے ہیں، جنہیں وہ بحث و مباحثے ، دلیل و منطق ، تبصرے و تنقید کے لئے استعمال نہیں کرتیں بلکہ اُن کے ذریعہ کرداروں کی خوبیوں و خامیوں کی جھلک پیش کردیتی ہیں۔
بحیثیت مجموعی شفیقہ فرحت کی کہانیاں اِس قابل ہیں کہ اُن پر سیر حاصل گفتگو ہوتا کہ مشاہدے اور فکر کے اظہار کے جو پہلو اُن میں ملتے ہیں اُن کی پہچان ہوسکے اور ایک نئی شفیقہ فرحت کا تعارف ہوسکے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے