कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فروغ اردو سوسائٹی کی جانب سے ایک روزہ قومی سمینار’’بعنوان تقسیم ہند کے بعد برصغیر میں افسانوی نثر‘‘ کا کامیاب انعقاد

اسماک پبلی کیشن ناندیڑکے ذریعہ شائع کردہ 52مقالوں پر مشتمل ضخیم کتاب کا رسم اجراء

ناندیڑ:(راست) ۳؍اکتوبر ۲۰۲۳ کو اردو گھر ناندیڑ میں صبح ۱۱؍بجے فروغ اردو سوسائٹی ناندیڑ کے زیر اہتمام ایک روزہ قومی سمینار’’بعنوان تقسیم ہند کے بعد برصغیر میں افسانوی نثر‘‘ کا شاندار انعقاد کیا گیا۔ اس سمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر مجید بیدار (سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد) نے فرمائی جب کہ بطور مہمانان خصوصی پروفیسر محمود صدیقی (آفسران اسپیشل ڈیوٹی مانو حیدرآباد) پروفیسر مسرت فردوس (سابق صدر شعبہ اردو بامو اورنگ آباد) ڈاکٹر یوسف صابر (مدیر سہ ماہی عکس ادب اورنگ آباد) ڈاکٹر قاضی نوید احمد صدیقی (صدر شعبہ اردو مولانا آزاد کالج اورنگ آباد) ڈاکٹرعبدالسمیع نعیم صدیقی (ڈائریکٹر ٹیچرس ٹرینگ مانو حیدرآباد) ڈاکٹر کیرتی مالینی جائوڑے (صدر شعبہ اردو بامو اورنگ آباد) نے شرکت کی۔اس سمینار میں ملک بھر سے پچاس سے زائد مقالہ نگاروں نے حصہ لیا اور ان مقالوں پر مشتمل کتاب جسے اسماک پبلی کیشن ناندیڑ نے شائع کیاکااجراء عمل میں آیا۔ سمینار کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ محمد مستقیم نے اپنی مسحور کن آواز میں حمد پاک سنائی۔ ڈاکٹر ارشاد احمد خاں (صدر فروغ اردو سوسائٹی ناندیڑ) نے فروغ اردو سوسائٹی ناندیڑ کا تعارف پیش کرتے ہوئے گذشتہ تین سالوں میں سوسائٹی کے ذریعہ منعقدہ سمینار اور ادبی وشعری نشستوں کے انعقاد اور اردوزبان و ادب کی ترقی و ترویج میں فروغ اردوسوسائٹی کی کارکردگی پر مفصل روشنی ڈالی اور ساتھ ہی سمینار کی ادبی غرض و غایت پر سیر حاصل گفتگو کی۔ پروفیسر مجید بیدار نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ اردو فکشن زمانہ قدیم ہی سے عام اور خاص قاری کے مطالعہ کا مرکز رہا ہے اس کی خاص وجہ اس میں زندگی کا عکس اور بالواسطہ طورپرماضی اور حال کی تاریخ کو ضبط کرنے کی قوت ہوتی ہے ایک فکشن نگار نہ صرف داستان ،ناول یا افسانہ لکھتا ہے بلکہ وہ اپنے عہد کی سیاسی، سماجی اور معاشی صورتحال کورقم کرتا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد ہندوستان اورپاکستان کے قلمکاروں نے اردو فکشن کی تمام صورتحال کو بڑی عمدگی سے ضبط تحریر میں لایا ہے۔ انہوں نے ناندیڑ کی ادبی فضاء اور ادبی سرگرمیوں کی تعریف کی بالخصوص ڈاکٹر ارشاد احمد خاں اور ان کے رفقا کی کوششوں کو سراہا۔ پروفیسر محمود صدیقی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے عصر حاضر میں اردو فکشن پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت اور اس کی افادیت پربھر پور روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ فروغ اردو سوسائٹی ناندیڑ نے نہ صرف ایک بہترین موضوع پر سمینار کا انعقاد کیا بلکہ پوری اردو دنیا سے پچاس سے زائد مقالات پر مشتمل ایک کتاب معہ آئی ۔ ایس ۔ بی ۔ این ( ISBN) نمبر شائع کی جس کے لئے میں انہیں مبارکباد دیتاہوں۔ ڈاکٹر سمیع نعیم صدیقی نے سمینار کے تمام اہتمامات کی تعریف کی اور فروغ اردو سوسائٹی کی بالخصوص عبدالملک نظامی اور ڈاکٹر عبدالرافع کی گذشتہ تین مہینوں سے جاری کاوشوں کو سراہا۔ پروفیسر مسرت فردوس نے کہا کہ اردو فکشن بالخصوص خواتین فکشن نگاروں کے رول کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کامیاب سمینار کے انعقاد کے لئے فروغ اردو سوسائٹی اور اس کے اراکین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ڈاکٹر قاضی نوید صدیقی نے کہا کہ ناندیڑ میں اردو گھر کا قیام ایک فال نیک ہے اور اس پر اس عظیم الشان سمینار اور شرکاء کی کثیر تعداد اس بات کا بین ثبوت ہے کہ شہریان ناندیڑ اردو زبان و ادب سے کس قدرمحبت کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سید نورالامین نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔اجلاس اول کے بعد ملک بھر سے آئے مقالہ نگاروں نے اپنے مقالے پیش کئے۔ اس اجلاس کی صدارت پروفیسر مسرت فردوس، ڈاکٹر قاضی نوید صدیقی، ڈاکٹر جہانگیر اشرف ، ڈاکٹر کفیل احمد نے انجام دی۔ ڈاکٹر محمد عبدالرافع کنوینر سمینار نے تمام مقالہ نگاروں کا شکریہ اداکیا۔ اس موقع پر مہاراشٹر سے آئے ہوئے پچیس اساتذہ کو ان کی ادبی کارکردگی پر ایوارڈ تقسیم کئے گئے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے