कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

22 مارچ : پانچویں برسی :جماعتِ اسلامی ہند ناندیڑ کے سرگرم کارکن اور زندہ دل و درد مند سماجی جہد کار’’مرحوم فیروز خان غازی‘‘

تحریر : سید سعادت اللہ حسینی
(امیرِ جماعتِ اسلامی ہند)

کووڈ کی عالمی وبا نے موت کی قربت کا احساس بھی بڑھایا ہے اور شاید موت کے تعلق سے بے حسی بھی بڑھا دی ہے۔ رحلت کی خبریں معمول بن گئی ہیں اور تعزیتی کلمات کی ادائیگی ایک مشینی عمل بن گیا ہے۔ اس کے باوجود فیروز خان غازی صاحب کی رحلت کے بعد سے کیفیت یہ ہے کہ چار روز ہوگئے لیکن نہ کسی سے فون پر بات کرنے کے لیے طبیعت آمادہ ہے اور نہ تعزیتی کلمات لکھنے کے لیے قلم ساتھ دے رہا ہے۔ ان کی بیماری کی، تیزی سے بگڑتی صحت کی صورتحال کی اطلاعات ملتی رہیں۔ اس لیے یہ خبر غیر متوقع نہیں تھی۔ رات میں جب زبیر خان صاحب کے فون کی گھنٹی بجی تو ریسیو کرنے سے پہلے ہی جسم لرز اٹھا۔ اس کے بعد سے مسلسل یہ کیفیت ہے کہ
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا؟
مرحوم فیروز خان تحریکِ اسلامی کے ان زمینی کارکنوں میں سے تھے جن کے نام کہیں نمایاں نہیں ہوتے لیکن تحریک کو اپنی جد و جہد کے ہر موڑ پر ان کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اجتماعات کا نظم و انتظام ہو یا کسی کارکن کا کوئی ذاتی مسئلہ حل طلب ہو، حکام سے کوئی منظوری لینی ہو یا کسی با اثر آدمی سے کوئی کام کرانا ہو، تحریک کو کسی مالی مسئلے کا سامنا ہو یو کائی سیاسی و سماجی مہم درپیش ہو، وہ ہر جگہ الٰہ دین کا چراغ بن کر حاضر رہتے۔ یہی رول انھوں نے ہمارے ساتھ ایس آئی او (SIO) میں ادا کیا۔ ایس آئی او کے زمانے میں کئی یادگار مہمات اور بڑے بڑے معرکے ان کے تعاون سے سر ہوئے۔ ایس آئی او سے فارغ ہوتے ہی جماعت کے رکن بن گئے۔ پھر تحریک نے جس محاذ پر لگایا اور جو کام سونپا اس کو پوری وارفتگی اور تن من دھن کی پوری یکسوئی کے ساتھ انجام دیتے رہے۔
وہ ایک سادہ تاجر تھے۔ پان ڈبے سے لے کر ریئل اسٹیٹ تک، زندگی کے مختلف ادوار میں مختلف تجارتیں کیں۔ ایک زمانے میں روزنامہ اخبار بھی چلایا۔ ایس آئی او میں میرے آنے کے فوری بعد ان سے تعلق قائم ہوگیا۔ ہمارے درمیان رابطے کی کڑی ہمارے محسن مرحوم حامد حسین صاحب تھے(جن سے جدائی کا زخم بھی ابھی تازہ ہے)۔ اُس وقت بہ ظاہر مرحوم فیروز خان کے شخصی احوال میں اور میرے احوال میں کوئی مناسبت نہیں تھی۔ میں اس وقت سائنس کالج کا طالبِ علم تھا جو شہر کا ایک معیاری ادارہ مانا جاتا تھا اور بہت کم مسلم طلبہ یہاں داخلہ لیتے تھے۔ رَہائش سرکاری افسروں کی فصیل بند کالونی میں تھی۔ مزاج میں خلوت پسندی تھی اور واحد مشغلہ کتب بینی تھا، جب کہ خان صاحب مرحوم ایک تاجر اور شہر کی پس ماندہ بستیوں میں سرگرم عملی کارکن تھے۔ لیکن اس کے باوجود بہت جلد دوستی ہوگئی اور وہ ہمارے انتہائی قریبی احباب میں شامل ہوگئے۔ ہفتے میں کچھ وقت ضرور ان کی دکان پر گزرتا جہاں کبھی دیگر ہم خیال احباب کے ساتھ مجلسیں منعقد ہوتیں اور کبھی ہم دونوں ہی مختلف مسائل پر دیر تک بات چیت کرتے۔ انتہائی پریکٹیکل آدمی تھے۔ جن دوستوں کی صحبت نے عملی مسائل کا شعور اور زمینی حقائق کے ادراک کی صلاحیت پیدا کی، ان میں ایک نمایاں نام مرحوم خان صاحب کا تھا۔ ہم کتابیں اور اخبارات پڑھ کر جاتے اور خان صاحب کی سادہ باتوں، عملی تجربات اور واقعات کے تجزیوں سے اس کتابی علم و فہم کا عملی حقائق سے تعلق قائم ہوجاتا۔
رابطۂ عامہ مرحوم کا اہم کام تھا۔ رابطۂ عامہ کے لیے گفتگو میں مصنوعی شیرینی و لطافت، آداب اور رکھ رکھاؤ میں تکلفات کو ضروری سمجھا جاتا ہے لیکن اپنی فطری سادگی، صاف گوئی بلکہ لہجہ کی یک گونہ تندی و درشتی کے ساتھ اور اس کے باوجود انھوں نے سماج کی اہم ترین شخصیات کو اپنا گرویدہ بنائے رکھا اور ان سے کام لیتے رہے۔
مرحوم ایک حاضرجواب اور بذلہ سنج انسان تھے۔ یہ ان کی شخصیت کی کشش کا ایک اہم سبب تھا۔ ذومعنی الفاظ کے برمحل استعمال اور عام فہم زبان میں نت نئے دلچسپ و معنی خیز الفاظ و اصطلاحات کی تخلیق پر انھیں غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔ برجستہ لیکن پر مزاح فقروں سے محفل کو زعفران زار کرنے کا فن جانتے تھے۔ برجستگی و حسِ مزاح اور صاف گوئی و تندی و تیزی، ان دونوں خصوصیات کے امتزاج کے نتیجے میں ان کی شخصیت کا ایک نہایت پرکشش لیکن سادہ اور فطرت سے قریب شاکلہ وجود میں آگیا تھا۔ کبھی ان کے دلچسپ فقروں سے کسی کو ناراضگی بھی ہو جاتی لیکن لوگوں کو ان کے مزاج کی سادگی اور خلوص کا احساس تھا اور لوگ یہ بھی جانتے تھے کہ وہ ایک کھرے لیکن درد مند دل کے مالک ہیں، اس لیے ایسی تلخیاں کبھی دیر تک باقی نہیں رہتیں۔
ان کی خود اعتمادی غضب کی تھی۔ شہر کے معروف ترین اہلِ علم، اخبارات کے مدیران، سیاسی و سماجی قائدین، کلکٹر، ایس پی اور دیگر افسران، اِن سب سے اُن کے روابط تھے۔ سادہ زبان اور سادہ عادات و اطوار کے باوجود اُن پر اثر انداز ہوتے۔ اکثر اِن بڑی شخصیتوں سے ملنے کے لیے بھی اُسی آٹو رکشا میں جاتے جس کو وہ خود چلاتے ہوئے اپنا تجارتی سامان دکانوں کو سپلائی کرتے تھے۔ مجھے بھی متعدد بار اس آٹو رکشا میں ان کے ساتھ ڈرائیور کی سیٹ کے بازو بیٹھ کر سفر کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ بڑے سے بڑے افسر سے بات کرتے ہوئے بھی کبھی ان کے لہجے میں نرمی یا اپنے فطری انداز پر کسی قسم کی مصالحت کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ مختصر، دو ٹوک، صاف صاف اور کھری کھری بات کرتے۔ لہجہ بھی کھرا کھرا ہوتا۔ نہ بڑی سے بڑی شخصیت کو خاطر میں لاتے اور نہ بڑے سے بڑے مسئلے کو۔ جس کام کے بارے میں یہ تصور ہوتا کہ یہ بہت مشکل کام ہے، وہ ان کے ساتھ چند لمحے بیٹھنے کے بعد آسان ترین کام لگنے لگتا۔ محض ان کا ساتھ بڑی مہمات اور دشوار راستوں کو آسان کر دیتا۔ ایس آئی او کے پورے دور میں وہ ہمارے لیے قوت، حوصلہ، اعتماد اور تیزی و چستی کا سرچشمہ بنے رہے۔ اندازہ یہ ہے کہ بعد میں جماعت کے ذمہ داروں کے لیے بھی وہ یہی کردار ادا کرتے رہے۔
تحریکی کارکنوں کے ذاتی مسائل کو حل کرنے کی کوشش ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ لوگ ان سے طرح طرح کے مسائل کو لے کر رجوع ہوتے اور وہ ان کے ساتھ گھنٹوں صرف کر کے، در بدر کی ٹھوکریں کھا کر اور شہر کی خاک چھان کر انھیں حل کرتے۔ کبھی اشاروں کنایوں میں بھی ان مسائل کے حل میں اپنا رول قریب ترین لوگوں پر بھی ظاہر نہیں کرتے۔ ایسے متعدد واقعات اس وقت یاد آرہے ہیں کہ ہم جیسے قریب ترین لوگوں کو بھی برسوں بعد کسی بالواسط ذریعے سے معلوم ہوا کہ فلاں کے فلاں مسئلے کے حل میں خان صاحب نے یہ رول ادا کیا تھا یا یہ ذاتی جوکھم اٹھایا تھا یا پیسہ خرچ کیا تھا۔ ان کی شخصی کشش کا ایک بڑا سبب ان کا یہ اخلاص اور بے لوثی بھی یے۔
وہ ناندیڑ کے قدیم رفقا کے اس چھوٹے سے گروپ کا حصہ تھے جو میرے تحریکی سفر میں ہر قدم پر میرے لیے قوت و حوصلے کا سرچشمہ بنے رہے۔ ناندیڑ چھوڑے عرصہ ہوگیا لیکن یہ لوگ آج بھی میرے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔ ہر بڑی ذمہ داری کے سر آنے پر اور ہر مشکل مرحلے میں ان مخلصین کی دعائیں، ان کے فون، ان کی بے چینی، بار بار تعاون کی پیش کش، والہانہ لگاؤ کا اظہار، یہ اللّٰہ تعالیٰ کی مجھے عطا کردہ ایسی نعمت ہے جس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ یہ احباب وقفے وقفے سے تین سو کلو میٹر کا سفر طے کر کے حیدرآباد تشریف لاتے ہیں۔ ایک دو گھنٹے ملاقات کر کے لوٹ جاتے ہیں۔ ملاقاتوں کے اس دورانیے میں دیر ہوجائے تو مضطرب ہو جاتے ہیں۔ یہ میرے لیے بڑا ذاتی صدمہ ہے کہ ان مخلص دوستوں میں سے دو لوگ (حامد حسین صاحب اور اب فیروز خان غازی صاحب) یکے بعد دیگرے رخصت ہوگئے۔ چند دن پہلے ہی بات ہوئی تھی کہ اب وبا کے حالات میں حیدرآباد یا دلی آکر ملنا مشکل ہے۔ کم از کم زوم پر ہی ان دوستوں کی نشست ہو جائے۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب باقی دوستوں سے اس زوم ملاقات کی ہمت میں کب جٹا پاؤں گا۔
اس بات پر یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا کہ یہ دلچسپ، ہم درد اور مخلص انسان اور تحریک کا نہایت وفادار اور محنتی و جفاکش کارکن اب ہماری محفل میں نہیں رہا اور محض پچپن چھپن سال کی عمر میں آخرت کے سفر پر روانہ ہوگیا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کی زوجہ محترمہ جو خود بھی جماعت کی رکن ہیں اور ان کے فرزندان جو ایس آئی او کے نہایت فعال کارکن ہیں اور ان کی ذہین و ہونہار دختران، ان سب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے،م۔ آمین! ان کی سعادت مند اولاد کو دیکھ کر ان کے تمام رفقا رشک کرتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ان سب کے نیک اعمال کو ان کے مرحوم والد کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین!
(مارچ 2021)

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے