कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

1960 سے 2000 تک اردو اخبارات کی تاریخ

تحریر:منجیت سنگھ
کروکشیترا یونیورسٹی کروکشیترا
9671504409

1960 سے 2000 تک کا دور اردو صحافت کی تاریخ میں ایک اہم اور فیصلہ کن زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ اس عرصے میں اردو اخبارات نے نہ صرف اپنی روایت کو برقرار رکھا بلکہ بدلتے ہوئے سماجی، سیاسی اور تکنیکی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی بھی کوشش کی۔ اس چالیس سالہ مدت میں اردو صحافت نے کئی نشیب و فراز دیکھے، مگر اس کے باوجود اس نے معاشرے میں اپنی اہمیت برقرار رکھی۔ اخبارات نے عوامی رائے عامہ کی تشکیل، معلومات کی فراہمی اور سماجی شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کیا۔
1960 کی دہائی میں اردو صحافت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوئی جہاں اسے جدید تقاضوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس زمانے میں اخبارات زیادہ تر روایتی انداز میں شائع ہوتے تھے۔ خبروں کے ساتھ ساتھ ادبی مضامین، افسانے، شاعری اور کالم بھی اخبارات کا اہم حصہ ہوتے تھے۔ اس دور کے اردو اخبارات میں زبان و بیان کا معیار بہت بلند تھا اور لکھنے والے اپنے اسلوب میں ادبیت اور شائستگی کو برقرار رکھتے تھے۔
اس زمانے میں اخبارات کی تیاری کا عمل بھی کافی مشکل اور وقت طلب تھا۔ زیادہ تر اخبارات ہاتھ سے کمپوز کیے جاتے تھے اور طباعت کے لیے روایتی مشینوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کے باوجود صحافی اور مدیر بڑی محنت اور لگن کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے تھے۔ وہ معاشرے کے مسائل کو اجاگر کرنے اور عوام کو آگاہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
1960 کی دہائی میں اردو اخبارات کے قارئین کی تعداد بھی اچھی خاصی تھی۔ اس دور میں معلومات کے ذرائع محدود تھے اور لوگ خبروں کے لیے زیادہ تر اخبارات اور ریڈیو پر انحصار کرتے تھے۔ اس وجہ سے اخبارات کی اہمیت بہت زیادہ تھی اور لوگ انہیں بڑی دلچسپی سے پڑھتے تھے۔ اخبارات میں ملکی اور بین الاقوامی خبروں کے ساتھ ساتھ ادبی اور ثقافتی موضوعات بھی شامل ہوتے تھے۔
اس دور میں کئی معروف ادیب اور دانشور اردو اخبارات کے ساتھ وابستہ تھے۔ انہوں نے اپنے مضامین اور کالموں کے ذریعے معاشرے کے مختلف مسائل پر روشنی ڈالی اور عوامی شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔ ان کی تحریروں میں سنجیدگی، تحقیق اور گہرائی پائی جاتی تھی جو قارئین کو متاثر کرتی تھی۔
1970 کی دہائی اردو صحافت کے لیے سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کا دور تھا۔ اس زمانے میں دنیا کے مختلف حصوں میں سیاسی تحریکیں اور انقلابی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ ان تبدیلیوں کا اثر اردو اخبارات پر بھی پڑا۔ اخبارات نے سیاسی خبروں اور تجزیوں کو زیادہ اہمیت دینا شروع کردی۔
اس دور میں کالم نگاری کو خاص اہمیت حاصل ہوئی۔ کئی معروف کالم نگاروں نے اپنی تحریروں کے ذریعے سیاسی اور سماجی مسائل پر تنقید اور تجزیہ پیش کیا۔ ان کالموں نے عوامی رائے عامہ کو متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لوگ اخبارات میں شائع ہونے والے کالموں کو بڑی دلچسپی سے پڑھتے تھے اور ان کے ذریعے مختلف مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔
1970 کی دہائی میں اردو اخبارات نے عوامی مسائل کو زیادہ نمایاں انداز میں پیش کرنا شروع کیا۔ غربت، بے روزگاری، تعلیم کی کمی اور دیگر سماجی مسائل پر مضامین اور رپورٹیں شائع ہونے لگیں۔ اس سے عوام میں شعور پیدا ہوا اور کئی مسائل کی طرف حکومت اور معاشرے کی توجہ مبذول ہوئی۔
اسی دور میں اخبارات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ کئی نئے اخبارات منظر عام پر آئے جنہوں نے صحافت کے میدان میں نئی روح پھونکی۔ ان اخبارات نے مختلف موضوعات پر مضامین شائع کیے اور قارئین کو متنوع معلومات فراہم کیں۔ اس سے اردو صحافت کے دائرہ کار میں وسعت پیدا ہوئی۔
1980 کی دہائی اردو صحافت میں تکنیکی ترقی کا آغاز تھا۔ اس دور میں پرنٹنگ ٹیکنالوجی میں نمایاں بہتری آئی جس سے اخبارات کی طباعت کا معیار بہتر ہوگیا۔ پہلے جہاں اخبارات زیادہ تر سادہ انداز میں شائع ہوتے تھے، اب ان میں تصاویر اور گرافکس کا استعمال بھی ہونے لگا۔
اس دہائی میں اخبارات کے صفحات میں اضافہ ہوا اور مختلف موضوعات کے لیے الگ الگ صفحات مختص کیے جانے لگے۔ خواتین، بچوں اور نوجوانوں کے لیے خصوصی صفحات شائع ہونے لگے جن میں دلچسپ اور معلوماتی مواد شامل ہوتا تھا۔ اس سے اخبارات کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور قارئین کی تعداد بھی بڑھ گئی۔
1980 کی دہائی میں اردو اخبارات نے ادبی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا۔ مشاعروں، ادبی کانفرنسوں اور ثقافتی تقریبات کی خبریں اور رپورٹس باقاعدگی سے شائع کی جاتی تھیں۔ اس سے اردو زبان اور ادب کی ترویج میں مدد ملی اور نئی نسل کو اپنی ادبی روایت سے آگاہی حاصل ہوئی۔
اسی دور میں صحافت میں تحقیق اور تجزیہ کو بھی اہمیت دی جانے لگی۔ کئی صحافیوں نے تحقیقی رپورٹنگ کے ذریعے اہم مسائل کو اجاگر کیا۔ اس سے صحافت کے معیار میں بہتری آئی اور اخبارات کی ساکھ مضبوط ہوئی۔
1990 کی دہائی میں اردو صحافت نے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا شروع کیا۔ کمپیوٹر اور ڈیسک ٹاپ پبلشنگ کے استعمال نے اخبارات کی تیاری کے طریقہ کار کو بدل دیا۔ پہلے جہاں اخبارات کی تیاری میں زیادہ وقت لگتا تھا، اب کمپیوٹر کی مدد سے یہ کام زیادہ تیزی اور آسانی سے ہونے لگا۔
کمپیوٹر کے استعمال سے اخبارات کی طباعت زیادہ صاف، خوبصورت اور منظم ہوگئی۔ فونٹس اور لے آؤٹ میں بھی بہتری آئی جس سے اخبارات کی ظاہری شکل بہتر ہوگئی۔ اس کے ساتھ ساتھ خبروں کی ترتیب اور پیشکش میں بھی جدت پیدا ہوئی۔
اس دور میں اردو اخبارات نے بین الاقوامی خبروں پر بھی زیادہ توجہ دینا شروع کی۔ دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والے واقعات اور تبدیلیوں کی خبریں اردو اخبارات میں نمایاں طور پر شائع ہونے لگیں۔ اس سے قارئین کو عالمی حالات سے آگاہی حاصل ہونے لگی۔
1990 کی دہائی میں الیکٹرانک میڈیا کا اثر بھی بڑھنے لگا۔ ٹیلی ویژن اور دیگر ذرائع ابلاغ کی ترقی نے صحافت کے میدان میں نئی مسابقت پیدا کردی۔ اس کے باوجود اردو اخبارات نے اپنی اہمیت برقرار رکھی اور قارئین کو معیاری مواد فراہم کرتے رہے۔
اردو اخبارات نے اس عرصے میں تعلیم اور آگاہی پھیلانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اخبارات کے ذریعے عوام کو مختلف موضوعات پر معلومات فراہم کی گئیں۔ صحت، تعلیم، زراعت اور معیشت کے بارے میں مضامین شائع کیے جاتے تھے جو عوام کے لیے بہت مفید ثابت ہوتے تھے۔
اس دور میں اردو صحافت کو کئی چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ مالی مشکلات، ٹیکنالوجی کی کمی اور بعض اوقات سیاسی دباؤ جیسے مسائل اخبارات کے لیے مشکلات پیدا کرتے تھے۔ مگر اس کے باوجود صحافیوں اور مدیران نے اپنی محنت اور لگن کے ذریعے اردو صحافت کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھا۔
اردو اخبارات نے جمہوریت اور آزادیٔ اظہار کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے عوامی مسائل کو اجاگر کیا اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید اور تجزیہ پیش کیا۔ اس طرح اخبارات معاشرے میں احتساب اور شفافیت کے فروغ کا ذریعہ بنے۔
1960 سے 2000 تک کے اس پورے دور میں اردو صحافت نے اپنی روایت اور شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید تقاضوں کو بھی اپنایا۔ زبان و بیان میں سادگی اور روانی پیدا ہوئی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اخبارات کو سمجھ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تحریروں میں تحقیق اور گہرائی کو بھی اہمیت دی گئی۔
اردو اخبارات نے اس دور میں نہ صرف معلومات فراہم کیں بلکہ عوام کی ذہنی اور فکری تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے معاشرتی برائیوں کی نشاندہی کی اور مثبت اقدار کو فروغ دیا۔ اس طرح اردو صحافت معاشرے کی اصلاح اور ترقی کا ایک اہم ذریعہ بنی۔
1960 سے 2000 تک اردو صحافت کے میدان میں کئی ممتاز صحافی اور مدیر سامنے آئے جنہوں نے اپنی محنت اور صلاحیت کے ذریعے صحافت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی تحریریں آج بھی صحافت کی تاریخ میں اہم مقام رکھتی ہیں۔
اس پورے دور کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اردو اخبارات نے مسلسل ترقی کی اور ہر دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالا۔ ٹیکنالوجی کی ترقی، سماجی تبدیلیاں اور سیاسی حالات نے اردو صحافت کو متاثر کیا، مگر اس کے باوجود اس نے اپنی شناخت اور اہمیت کو برقرار رکھا۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ 1960 سے 2000 تک کا زمانہ اردو اخبارات کی ترقی اور استحکام کا دور تھا۔ اس عرصے میں اردو صحافت نے معاشرے میں شعور بیدار کرنے، معلومات فراہم کرنے اور زبان و ادب کی ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے